اہم خبریں


صوبہ پکتیا میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،پولیس چیف سمیت20اہلکارہلاک
  17 اکتوبر‬‮ 2017
کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغان صوبے پکتیا میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملوں میں پولیس چیف سمیت 20افراد ہلاک جب کہ150 سے زائد زخمی ہوگئے ۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی پولیس ہیڈ کوارٹر سے ٹکرادی جس کے بعد حملہ آوروں نے فائرنگ کرتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی


لاہور(ویب ڈیسک ) سابق اسٹار کرکٹر شاہد آفریدی کا کہنا ہےکہ کرکٹ بورڈ اب کراچی سمیت دیگر شہروں کی طرف آئے کیونکہ ہمیں دنیا کو بتانا ہے صرف لاہور نہیں پورا پاکستان محفوظ ہے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت جو ٹیم ہے اچھی ہے اور یہی کمبینیشن ہے، ہم دو ٹیسٹ ہارے لیکن ٹیم مصباح اور یونس کے بعد جدوجہد کررہی ہے اور آگے بھی کرے گی، ہم انہی لڑکوں کو سپورٹ کرتے رہیں گے۔




’’قدرت کا حیرت انگیز کرشمہ ‘‘ پاکستان میں پایا جانے والا ایک عام سا درخت ’سوہانجنا ‘ جس میں ایسی خطرناک بیمار ی کا علاج چھپا ہے کہ مہنگی دو
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں پایا جانے والا ایک عام درخت اپنے اندر بے شمار بیماریوں کا علاج اور انوکھی خصوصیات رکھتا ہے ۔یہ درخت مورنگا کا درخت ہے جسے سوہانجنا بھی کہا جاتا ہے۔ سوہانجنا ایشیا اور افریقہ دونوں خطوں میں پایا جاتا ہے۔ مشرقی افریقہ میں اس درخت کو طویل عرصے سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں اس کے مزید کیا کیا حیران کن فوائد ہیں۔سوہانجنا کے بیج پینے کے پانی کو صاف کرتے ہیں۔اس کے پتے اگر زمین میں دبا دیے جائیں تو یہ کھاد کی شکل اختیار کرجاتے ہیں جو اس زمین پر ہریالی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔اس درخت کا ایک ایک حصہ بطور غذا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سوہانجنا کی پھلیوں کا استعمال جوڑوں میں درد کے لیے نہایت مفید ہیں۔ماہرین اب اس درخت سے خطرناک بیماریوں کا علاج دریافت کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔


ایک دوشیزہ جو یونیورسٹی کے مرحلے میں تھی اس کی تین بہنیں ہیں ایک ہائی کلاس میں جب کے دو مڈل میں پڑھتی ہیں ۔ باپ سبزی فروش ہے اور محنت کرتا ہے تا کہ ان کے لیے زندگی کا لقمہ کما سکے ۔ یہ لڑکی یونیورسٹی کی پڑھائی میں بڑی قابل تھی ۔ اچھے اخلاق اور عمدہ ادب میں معروف ہے۔ تمام کلاس فیلوز اس سے محبت کرتی ہیں اور اس کے قریب ہونے کا شوق رکھتی ہیں کہ وہ ممتاز حثیت سے فائق ہے ۔اس دوشیزہ کہا: ایک دن میں یونیورسٹی کے گیٹ سے نکلی تو اچانکایک نوجوان میرے سامنے تھا وہ میری طرف ایسے دیکھ رہا تھا جیسے مجھے پہنچانتا ہو۔ میں نے اس پر کچھ توجہ نہ دی لیکن وہ پیچھے ہو لیا، پست آواز اور بچگانہ کلمات سے میرے ساتھ باتیں کرنے لگا : اے خوبرو!میں آپ سے شادی کا خواہاں ہوں ، میں بڑی دیر سے آپ کا پیچھا کرتا ہوں ، آپ کے اخلاق اور ادب کو پہنچانتا ہوں ۔ میں تیز چلی تو میرے قدم لڑ کھڑانے لگے ،۔میری پیشانی پسینے سے شرابور ہو گئی ، اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ پیش نہ آیا تھا اور میں مدہوش اور انتہائی پریشانی کے عالم میں گھر پہنچی۔ اس موضوع پر سوچتی رہی اور خوف، گھبراہٹ اور بے چینی سے اس رات نہ سو سکی ۔ اگلے دن میرے یونیورسٹی سے نکلتے وقت میں نے اسے گیٹ کے سامنے پایا وہ مسکرا رہا تھا ، اس کا مجھ سے چھیڑ خوانی کرنا اور پیچھے چلنا کئ بار ہوا اور اس کام کی انتہا اس چھوٹے خط سے ہوئی جو اس نے گھر کے دروازے کے پاس پھینک دیا، میں نے اس کو اٹھانے میں تردد کیا ، لیکن اٹھا لیا ، میرے ہاتھ کپکپا رہے تھے ، اسے کھولا اور پڑھا تو اچانک اس میں محبت بڑے کلمات تھے جنونِ عشق، نیز جو اس نے مجھے تنگ کیا اور پریشان کیا تھا ، اس کی معذرت کی تھی ۔ میں نے کاغذ پھاڑا اور پھینک دیا کچھ دیر بعد فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے ریسیور اٹھایا تو اچانک وہی نوجوان ، خوب صورت کلام سے بول رہا تھا : آپ نے خط پڑھ لیا یا نہیں؟ میں نے کہا:اگر تم نہیں سدھرے تو میں اپنے گھر والوں کو بتا دوں گی اور تباہی تمہاری ہو گی۔ ایک گھڑی بعد دوبارہ فون کر دیا پیار جتانے لگا کہ میرا مقصد بڑا نیک ہے، وہ شادی کرنا چاہتا ہے ، نیز وہ بڑا مال دار ہے ، عن قریب میرے لیے وہ محل بنائے گا اور میری تمام آرزوؤں کو پورا کرے گا وہ اکلوتا ہے اس کے خاندان سے کوئی باقی نہیں بچا اور اور اس پر میرا دل نرم پڑ گیا بات چیت کرنے لگی اور بے تکلفی اختیار کرنے لگی ۔اب میں ہر وقت ٹیلی فون کی منتظر رہتی۔ یونیورسٹی سے نکلتے وقت اس کو تلاش کرتی کہ شاید اس کو دیکھ پاؤں، لیکن بے سود، ایک دن یونیورسٹی سے نکلی تو اچانک وہ میرے سامنے تھا ۔ میں خوشی سے پھٹ پڑی ، پھر اس کے ساتھ گاڑی میں گھومنے شروع ہوئی۔ میں بیٹھی اس کی طرف دیکھتی رہتی اور وہ میری طرف دیکھتا رہتا ، پھر ہمیں جہنم کے ڈھانپنے والے عذاب نے ڈھانپ لیا، مجھے اس کے سوا کچھ پتا نہیں کہ میں اس نوجوان کا پکا شکار بن چکی تھی اور سب سے عزت والی جس چیز کی مالک تھی اس کو کھو بیٹھی تھی ۔ میں جنون زدہ کی طرح اٹھی، تو نے میرے ساتھ کیا کیا؟ تم ڈرو نہیں، تم میری بیوی ہو ۔ میں تمہاری بیوی کیسے ہوں؟تم نے میرے ساتھ نکاح نہیں کیا ۔ میں عن قریب عقد کر لوں گا۔ میں لڑکھڑاتی ہوئی اپنے گھر گئی، میری پنڈلیاں مجھے اٹھا نہیں رہی تھیں آگ میرے وجود میں شعلہ زن تھی ، الٰہی! میں نے کیا کر دیا۔ کیا میں پاگل ہو گئی ہوں؟ مجھ پر کیا مصیبت پڑی؟ دنیا میری آنکھوں کے آگے اندھیر ہو گئی۔ میں روتی اور کڑوے اشک پیتی۔میں نے پڑھائی چھوڑ دی اور انتہا درجے کی بدحال ہو گئی۔ گھر والوں میں سے کوئی بھی اصل معاملے کو پہچاننے میں کامیاب نہ ہو سکے، لیکن میں ایک وعدہ سے لٹکی تھی جو اس نے بہکایا تھا۔اور وہ اس کا میرے ساتھ شادی کا وعدہ تھا ۔ کئی دن بیت گئے ، اس کے بعد کیا ہو گا؟


کہوٹہ ٹاؤن ایریاہے اس میں کم از کم بلدیہ کے ایک درجن سے زائد ملازم ہیں،چوہدری مبشر
  17 اکتوبر‬‮ 2017
حویلی (ڈسٹرکٹ رپورٹر) چوہدری مشر نے ایک تحریری بیان دیتے ہوئے کہا کہوٹہ ٹاؤن ایریاہے اس میں کم از کم بلدیہ کے ایک درجن سے زائد ملازم ہیں ۔بازار کے اندر صفائی اور شہر کے نالیاں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں اور گندگی کے ڈھیر ہیں ان کو صاف کرنا بلدیہ کی ذمہ داری ہے ۔جبکہ ہم شہری ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں ضلعی انتظامیہ جب بازار کا چکر لگاتی ہے اور صفائی چیک کرتی ہیں تو ہم لوگوں پر جرمانے کرتی ہے ہم وزیر تعمیرات عامہ چوہدری


ہنزہ (نمائندہ اوصاف ) گزشتہ روز ہنزہ اور نگر کے وُکلاء کے مابین ایک اہم اجلاس منعقد ہوئی جس میں کہا گیا کہ حالیہ عوام دُشمن حکومت گلگت بلتستان حفیظ حکومت کی جانب سے غیر قانونی ٹیکسز جی بی کے عوام پر مُسلط کرنے ناکام کوشش کی گئی ہے۔ جس کی ہم بھر پُور مُذمت کرتے ہیں اور غیر قانونی ٹیکس لاگو کرنا معاشی قتل کے مُترادف ہے اس کو فل فور بند کیا جائے۔ اور غیر قانونی ٹیکس لگانا حفیظ حکومت کی سیاسی قبرستان ثابت ہوگی۔


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

ad

روزانہ کی 12بڑی خبریں حاصل کریں بزریعہ ای میل


تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ

مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



یورپ



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved