بوسنیا میں اجتماعی قبر سے 65 انسانی کھوپڑیاں برآمد
  20 ستمبر‬‮ 2017
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انسانی باقیات ان 220 سے زیادہ غیر سرب باشندوں کی ہیں جنہیں بوسنیائی سرب فورسز نے 21 اگست 1992 میں قتل کر دیا تھا۔بوسینا کے وسطی حصے میں ایک اجتماعی قبر سے حال ہی میں 65 کھوپڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔ فرینزک ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قبر بوسنیا کی 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگ میں نسل کشی کے بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔بوسنیا کے لاپتا افراد کی تلاش سے متعلق انسٹی ٹیوٹ کے لجلا سینجک نے کہا ہے کہ اجتماعی قبر سے ملنے والی باقیات میں 65 انسانی کھوپڑیاں شامل ہیں۔یہ قبر ماؤنٹ ویلاسک کے قریبی علاقے کوریکانسک سٹیجین میں دریافت ہوئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انسانی باقیات ان 220 سے زیادہ غیر سرب باشندوں کی ہیں جنہیں بوسنیائی سرب فورسز نے 21 اگست 1992 میں قتل کر دیا تھا۔اجتماعی قبر کا سراغ اگست میں ملا تھا۔ ماہرین وہاں 7 ستمبر سے وہاں موجود ہیں اور وہ کھدائی اور باقیات کی تلاش کر رہے ہیں۔زیادہ تر ہلاک کیے گئے افراد وہ تھے جنہیں قریبی علاقے میں موجود جرائم پیشہ بوسنیائی سربوں کے حراستی مراکز سے یہاں لایا گیا تھا اور انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ ان کی جیل تبدیل کی جا رہی ہے۔


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پی سی بی اینٹی کرپشن ٹریبونل نے اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث معطل کرکٹر خالد لطیف پر 5 سال کی پابندی عائد کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے اسی کیس میں معطل کرکٹر شرجیل خان کو بھی پانچ سال پابندی کی سزا سنائی ہے۔پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں خالد لطیف اور شرجیل خان اسپاٹ فکنسگ میں ملوث پائے گئے تھے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں کرکٹرز کو معطل کردیا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے خالد لطیف کیس کا بھی مختصر فیصلہ سنا دیا ہے جس میں ان پر 5 سالہ پابندی کے ساتھ 10 سال کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے خالد لطیف پر 6 شقوں کی خلاف ورزی ثابت کی ہے جس میں انہیں سزا سنائی گئی ہے۔ خالد لطیف کے خلاف 6 شقوں میں سے پہلی 3 شقیں کرپشن، 2 شقیں بکیز سے رابطوں کا




خداکی قدرت،سات سالہ روسی لڑکی جس کادل اسکی چھاتی کے اوپردھڑکتاہے
لاس اینجلس (ویب ڈیسک )ایک سات سالہ بچی جس کادل اس کی چھاتی کے اوپرہے اس کی داستان سن کرآپ کادل پگھل جائے گا۔ورساویاباتھشیبااپنے ہم عمردوسرے بچوں سے مختلف ہے جب وہ پیداہوئی تواس کادل اوردیگراندرونی جسمانی اعضا اس کی چھاتی کے اوپرتھے ۔ورساویابالکل دوسری عام لڑکیوں کی طرح ہے اسے ڈانس ،ڈرائنگ کاشوق ہے۔ویڈیومیں دکھایاگیاہے کہ لڑکی غیرمعمولی حالات میں پیداہوئی جس کی وجہ سے اس کادل اس کی چھاتی کے اوپرہے۔بچی پیٹ کی ایک مخصوص بیماری تھوراکوایبڈومینل سنڈروم کاشکارہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کاشکاردس لاکھ بچوں میں سے کوئی ایک بچہ ہوتاہے۔برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگوکرتے ہوئے ورساویانے کہاکہ یہ میرادل ہے دنیامیں میں واحدلڑکی ہوں جس کادل اس کی چھاتی کے اوپردھڑ کتاہے۔ورساویاکے


سید احمد ارشاد ترمذی جنکا تعلق آئی ایس آئی سے تھا وہ اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ“شہر اقتدار میں دنیا کے متعدد سفارتخانوں نے اپنے عملے کے بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت کی غرض سے ایمبیسی اسکول کھول رکھے ہیں، خاص طور پر ان ممالک نے جن کے عملے کی تعداد زیادہ ہے اور طالب علم بھی کافی تعداد میں ہیں، یہ سلسلہ دنیا کے تقریبا سبھی ممالک میں موجود ہے اور بظاہر کسی حوالے سے بھی سفارتی آداب اور قواعد کے خلاف نہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان اسکولوں میں محض درس و تدریس کا کام ہی نہیں ہوتا بلکہ ان اسکولوں کے عملے کے کئی ارکان کو تعلیمی سرگرمیوں کی آڑ میں جاسوسی کے کام پر بھی مامور کیا جاتا ہے۔ خفیہ ایجنٹ اسی طرح کے دوسرے اداروں مثلا ائیر لائنز کے دفاتر ، ہوٹلوں، لینگویج سینٹرز ، ایوان ہائے ثقافت و دوستی اور مراکز اطلاعات میں بھی تعینات کئے جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی معمول کی چیکنگ کے دوران اسلام آباد میں قائم انڈین ایمبیسی اسکول کی ایک مس وینا کی سرگرمیاں کچھ مشکوک نظر آئیں۔ مسلسل نگرانی کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ اسکول کی تدریسی سرگرمیوں میں تو وہ کم حصہ لیتی ہے مگر اکثر اوقات شکار کی تلاش میں اسلام آباد کے چند گھروں میں دکھائی دیتی ہے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مس وینا کا بھارتی سفارتخانے کے ڈیفنس اتاشی اور ”را” کے فرسٹ سیکریٹری سے مستقل رابطہ ہے۔ یہ دونوں پاکستان کے دفاعی اور ایٹمی راز معلوم کرنے کے درپے تھے، اور بھارتی ماتا ہری ان کی ہدایات پر کام کرتی تھی۔ مس وینا کی عمر 25یا 26 سال کے لگ بھگ تھی، مگر دیکھنے میں وہ 18-19 سال کی بے ضرر اور معصوم سی لڑکی لگتی تھی ۔ ستواں ناک، کتابی چہرہ، کھلتا ہوا رنگ، انتہائی متناسب جسم ، چال ڈھال میں ایک خاص قسم کا بانکپن، اور گفتگو کا مخصوص انداز، اس کے خطرناک ہتھیار تھے۔ اس کی خاموش نظریں بھی گہرائیوں تک سرایت کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ اس کے چہرے پر ہمہ وقت ایک ہلکی سی مسکراہٹ تو رہتی لیکن اس کی نظروں میں ایک ایسی اداسی بھی دکھائی دیتی تھی جیسے صدیوں پرانا ایک محل اپنی لٹی ہوئی تابناکیوں ، خوشیوں اور روشنیوں کے لوٹ آنے کے کربناک انتظار میں ہو، جیسے وقت کے بے رحم ہاتھ لمحہ بہ لمحہ اے ریزہ ریزہ کر رہے ہوں یا جیسے اک تھکن سے چور چور مسافر جو اپنی منزل کا نام بھی بھول چکا ہو مگر پھر بھی ایک لامتناہی سفر پر ہو۔ مس وینا کا بدن اور روح بھی ایک دوسرے سے جدا جدا ، گم سم کسی انجانی منزل کی تلاش میں رہتے۔ مزید معلومات کے لئے ہم نے ایک پاکستانی ہندو لڑکے کو انڈین ایمبیسی اسکول میں داخلہ دلوایا۔ اس کی ماں نے ہماری ہدایات پر یہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے بچے کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بے حد متفکر ہے اور وہ ان سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ رہنا چاہتی ہے۔ وہ ہر دوسرے تیسرے روز اسکول جانے لگی اور یوں آہستہ آہستہ مس وینا کے ساتھ دوستی استوار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ جلد ہی ان کی دوستی اسکول کی حدود سے نکل کر گھر اور مارکیٹ تک آگئی۔


پولیس کی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،جابر شاد
  20 ستمبر‬‮ 2017
کھوئی رٹہ(نمائندہ اوصاف)پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے راہنما چوہدری جابر شاد ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں ریٹائر گرداور چوہدری ایوب پر کوٹلی پولیس کی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں پو لیس نے ظلم وستم کی انتہا کر دی ہے موجودہ حکومت نے جو انتقامی کاروائیاں شروع کر رکھی ہے اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اسطرح کی انتقامی کاروائیوں سے پیپلز پارٹی کو دبایا نہیں جا سکتا اس ملک میں قانون اور انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہر طرف لاقانونیت کا دورہ دور ہے


گلگت(اوصاف نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء جسٹس ریٹائرڈ جعفر شاہ نے کہا ہے کہ پورا گلگت بلتستان پاکستان کے نام پر انتقال کرنے کی بات کریں تو متنازعہ بن جاتے ہیں جبکہ یہاں کی زمینیں پاکستان کے نام پر انتقال ہوتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن امداد المسلمین کے زیر اہتمام بگروٹ ہاسٹل میں ایجوکیشن کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہیں،آزاد کشمیر،مقبوضہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان آزاد کشمیر کو جنگ لڑ کر آزاد نہیں کرایا گیا مقبوضہ کشمیر ہندوستان کے قبضے میں تھا تو بھارت کی سرکار نے ان کو بھارت کا شہری بنا دیا جبکہ گلگت بلتستان نے 1947میں جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی جس کے صلے میں اب تک متنازعہ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اوپر 1947سے اب تک ظلم ہو رہا ہے جس کا ذمہ دار اس گھر کا سر براہ ہے۔ہم نے پاکستان کیساتھ وفاداری کا بھر پور مظاہرہ کیا اور اب تک کر رہے ہیں یہاں پر بلوچستان جیسے حالات پیدا کروانا چاہتے ہیں لیکن ہم نے قانون اور دلائل سے مقابلہ کیا ہے اگر ان سے بات نہیں بنی تو وہ خواہش بھی کبھی پوری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے انجمن امداد المسلمین کی تعلیمی میدان میں کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجمن امداد المسلمین کے بانی شاہ مرزا نے کہا کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے میں جو مشکلات کا سامنا تھا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے 1960سے اب تک جدو جہد کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں آج بگروٹ میں11پی ایچ ڈی ڈاکٹرز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس دور میں نوجوان نسل کو تعلیم کی


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

ad

روزانہ کی 12بڑی خبریں حاصل کریں بزریعہ ای میل


تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ

مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



یورپ



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved