اہم خبریں

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاناما کیس میں تحقیقات کیلیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے ایک ممبر افسر پر اعتراض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مسلم لیگ ن کو خدشہ ہے کہ اس افسرکی موجودگی میں تحقیقات جانبدار ہوگی ۔ذرائع کا کہنا ہے ن لیگ ن نے پہلے سپریم کورٹ کی طرف سے جے آئی ٹی کیلیے منتخب کیے گئے افسران پر مکمل اعتمادکا اظہارکیا تھا لیکن اب جے آئی ٹی کی طرف سے کچھ لوگوں سے تحقیقات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کے پاس ایسی معلومات آئی ہیں جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم اور ان خاندان کے افراد سے کی جانے والی تحقیقات میرٹ پر نہیں ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ ایک افسر غیر جانبدار نہیں اور تحقیقات غیر شفاف ہونے کے بجائے متاثر ہو سکتی ہے۔





امریکا مسلمان ، عیسائی اور یہودی بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کیلئے تعاون کو تیار ہے
  23 مئی‬‮ 2017
یروشلم (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مانچسٹر میں دھماکا کرنے والے شکست خوردہ اور ہارے ہوئے لوگ ہیں تاہم معصوم لوگوں کا خون بہانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ برطانوی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں ۔”امریکا مسلمان ، عیسائی اور یہودی بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کیلئے تعاون کو تیار ہے“۔ریاض کے تاریخی اجتماع میں مسلم سربراہوں سے خطاب کیا اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے میں ہماری مدد کریں۔فلسطینی کے دورے پر پہنچنے کے بعد ہم منصب محمو د عباس کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہیں تاہم اسرائیل کو انسانی حقوق کا احترام کرنا ہو گا ۔” اسرائیلی صدر نیتن یاہو بھی خطے میں امن کے خواہاں ہیں “۔اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کیلئے کوشاں ہوں۔ٹرمپ نے کہا کہ فلسطین کے ساتھ ملکر دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے ۔انتہا پسندی اور دہشتگردی کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہو گا ۔خطے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے ، اسرائیل کو انسانی حقوق کا احترام کرنا ہو گا ۔امریکی صدر کو مقدس سر زمین پر خوش آمدید کہتے ہیں ۔



دوحا(ویب ڈیسک) قطر میں دنیا کا پہلا ایئرکنڈیشنڈ اسٹیڈیم فیفا ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی کیلئے تیارہے جب کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے باضابطہ طور پر امیر کپ کے فائنل سے قبل اسٹیڈیم کا افتتاح کردیا۔فیفا ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی قطر کرے گا، میگا ایونٹ سے 5 سال قبل ہی انتظامیہ نے پہلا اسٹیڈیم تیارکرلیا ہے، اسٹیڈیم 1976 میں گلف کپ کے لیے تعمیر کیا گیا اور ایشین گیمز 2006 کا انعقاد بھی یہاں کیا گیا۔ اب اسٹیڈیم کو مکمل طور پر تبدیل کردیا گیا ہے۔ وینیو کی اپ گریڈیشن کے بعد امیر کپ کے فائنل یہاں کھیلا جانے والا پہلا مقابلہ تھا جسے دیکھنے کیلئے فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو، صدر ایشین فٹبال کنفیڈریشن شیخ سلمان بن الابراہیم الخلیفہ اور 40 ہزار سے زائد شائقین اسٹیڈیم میں موجود تھے۔اسٹیڈیم میں درجہ حرارت کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس سے انتہائی گرم موسم میں بھی گراؤنڈ کا درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ اور اسٹینڈ کا درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جائے گا۔اسٹیڈیم میں لگائی گئی جدید کولنگ ٹیکنالوجی، منفرد ڈیزائن سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور اسٹیڈیم میں ایک اسپورٹس میوزیم بھی جلد فنکشنل ہو جائے گا جب کہ اسٹیڈیم میں شائقین کی گنجائش بڑھانے پر بھی کام جاری ہے۔خلیفہ اسٹیڈیم فیفا ورلڈ کپ منعقد کرنے والا پہلا اسٹیڈیم ہوگا جس میں لیڈ لائٹس کا استعمال کیا جائے گا۔ ورلڈ کپ 2022 نومبر 21 سے دسمبر 18 تک کھیلا جائے گا۔ میگا ایونٹ کے انعقاد کیلیے قطر کو تقریباً 8 وینیوز تعمیر کرنا ہوں گے جب کہ منتظمین نے دیگر زیر تعمیر پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے 2020 کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔





اب تک دریافت ہونے والی دنیا کی تیز ترین مرچ جو آپ کی جان بھی لے سکتی ہے
لندن(ویب ڈیسک) اپنے نام کی طرح خطرناک ڈریگن بریتھ اب تک دریافت ہونے والی سب سے تیز مرچ ہے جسے طب میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک برطانوی شیف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دنیا کی سب سے تیز مرچ کاشت کی ہے جو کھانے والے کو ہلاک بھی کرسکتی ہے۔برطانوی شہری مائیک اسمتھ سینٹ کے مطابق انہوں نے کئی برس کے بعد یہ مرچ اگائی ہے جو کھانے والے کو شدید الرجی دے سکتی ہے جسے اینافائیلیکٹک کیفیت کہتے ہیں اس میں جسم میں اینٹھن، خارش اور الٹیاں ہوسکتی ہیں جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔اس مرچ کا تیل اگر جلد پر ملا جائے تو وہ جلد کے اسی حصے کو کچھ دیر کے لیے سُن کردیتا ہے اور ڈاکٹر اسے جراحی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔



اورنگزیب کے بعد خاندان مغلیہ کا زوال شروع ہو چکا تھا۔ لٰہذا اورنگ زیب عالمگیرکے بعد آنے والے بہت سے غیر معروف جانشینوں کے نام اگر چہ اشعار میں موجود ہیں لیکن ہم ان کو نظر انداز کرتے ہوئے ١٧٣٩ء میں دہلی کے قتلِ عام کے تذکرہ کی طرف آتے ہیں۔جس کی پیشن گوئی حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے قریبا چھ سو سال قبل ٥٤٨ ہجری بمطابق ١١٥٤ عیسوی میں کی تھی۔ وہ فرماتے ہیں: نادر آید زایراں مے ستاند تخت ہند قتل دہلی پس بہ زور تیغ آں پیدا شود​ ترجمہ: نادر شاہ ایران سے آکر ہندوستان کا تخت چھین لے گا، لہذا اس کی تلوار کے زور سے دہلی کا قتل عام ہو گا۔تشریح: نادر شاہ نے ١٧٣٩ء میں ہندوستان پر حملہ کر کے قریبا دو ماہ تک دہلی میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا۔ جب ایک دن کسی نے نادر شاہ کے قتل کی افواہ اڑائی تو دہلی کے سپاہیوں نے نادر شاہ کے بہت سے سپاہی قتل کر ڈالے۔ اس پر نادر شاہ نے آگ بگولا ہو کر دہلی کے قتل عام کا حکم دیا اور یوں مورخین کے مطابق بارہ گھنٹے کے اندر اندر ڈیڑھ لاکھ کے قریب باشندگان دہلی قتل ہوئے۔حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کے پیشن گوئی قصیدے کے دستیاب اشعار کا متعدد بار بغور مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اشعار جا بجا غائب ہو گئے ہیں جبکہ بعض اشعار کی سلسلہ وار ترتیب میں فرق پڑ گیا ہے۔ کیونکہ اشعار کے بہت قدیم دور سے تعلق رکھنے کی بناء پر ایسا ہونا بعید از قیاس نہیں ہے۔حضرت نعمت اللہ شاہ ولی ایک مرتبہ پھر بابر کے دور حکومت کی طرف پلٹتے ہوئے سکھوں کے بانی پیشوا گرو نانک کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ شاہ بابر پادشاہ باشد پس ازوے چند روز درمیانش یک فقیر از سالکاں پیدا شود​ ترجمہ: بابر بادشاہ جو ہو گا اس کے بعد چند سالکوں کے درمیان ایک فقیر پیدا ہو گا۔ نام او نانک بود آرد جہاں باوے رجوع گرم بازار فقیر بیکراں پیدا شود۔۔​ ترجمہ: اس کا نام نانک ہو گا۔ بہت سے لوگ اس کی طرف رجوع کریں گے۔اس بے اندازہ فقیر کا بازار گرم ہو گا اور خوب چرچا ہو گا۔ دلمیان ملک پنجابش شود شہرت تمام قوم سکھانش مرید و پیراں پیدا شود​ ترجمہ: ملک پنجاب کے درمیانی حصہ میں اس کی بڑی شہرت ہو گی۔سکھ قوم اس کی مرید ہو گی اور وہ ان کے پیر کے طور پر نمایاں ہو گا۔ تشریح:گرو نانک ١٤٤١ء میں پیدا ہوئے اور ١٥٣٨ء میں میں ان کا انتقال ہوا۔ قوم سکھا نش چیرہ دستی ہا کند در مسلمین تا چہل ایں جورو بدعت اندر آں پیدا شود​ ترجمہ: سکھ قوم مسلمانوں پر بہت ظلم و ستم کرے گی۔ یہ ظلم و بدعت چالیس سال تک اس میں ظاہر ہوتا رہے گا۔ بعد ازاں گیرد نصاریٰ ملک ہندویاں تمام تا صدی حکمش میاں ہندوستاں پیدا شود​ ترجمہ:اس کے بعد عیسائی تمام ملک ہندوستان پر قبضہ کر لیں گے۔ ایک سو سال تک ان کا حکم ہندوستان پر چلتا رہے گا۔ ظلم و عداوت چوں فزوں گردوبر ہندوستانیاں از نصاریٰ دین و مذہب رازیاں پیدا شود​ ترجمہ: جب اہل ہند پر ظلم اور عداوت کی زیادتی ہو جائے گی تو عیسائیوں کی طرف سے دین اور مذہب کو بہت نقصان پہنچ جائیگا۔ تشریح: ہندوستان کے انگریز وائسرائے لارڈ کرزن نے یہ پیشن گوئی اس وجہ سے قانونا ممنوع قرار دی تھی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم انگریزوں کی حکومت ہندوستان میں صرف ایک سو سال رہے گی۔ معلوم ہونا چاہئے کہ دین اسلام میں فتنہ پیدا کرنے کی غرض سے انگریزوں نے مسلمانوں کے اندر مرزائیوں اور قادیانیوں کا بیج بویا جس سے دین اسلام کو بہت نقصان پہنچا اور بہت سے مسلمان گمراہ اور مرتد ہو گئے۔ آحتواء سازد نصاریٰ را فلک در جنگ جیم نکبت و ادبا را ایشاں رانشاں پیدا شود​ ترجمہ: جنگ جیم (یعنی جرمن کی جنگ) میں آسمان عیسائیوں کو مبتلا کر دے گا اور ان کے لئے تباہی و بربادی کا نشان ظاہر ہو گا۔ تشریح: یہ جنگ عظیم اول ١٩١٤ء سے ١٩١٨ء تک رہی ۔ پھر اکیس سال بعد دوبارہ ١٩٣٩ء سے ١٩٤٥ء تک جنگ عظیم دوئم جرمنوں سے عیسائیوں کی طرف لڑی گئی۔ فاتح گردد نصاریٰ لیکن از تا راج جنگ ضعف بیحد در نظام حکم شاں پیدا شود​ ترجمہ: اگر چہ اہل برطانیہ جرمنوں پر فتح پا لیں گے لیکن جنگ کی تباہ کاریوں سے ان کے نظام حکم میں بہت زیادہ کمزوری پیدا ہو جائیگی۔ تشریح: یہاں یہ حقیقت بیان کرنا ضروری ہے کہ جنگ عظیم اول، جنگ عظیم دوئم، انگریزوں کا ہندوستان دو حصوں میں تقسیم کرنا اور خود ہندوستان کو چھوڑ کر چلے جانے اور اس کے پیچھے اور اس کے آگے رونما ہونے والے واقعات،حالات اور حادثات کو حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے اپنے دوسرے قافیہ مثلا زمانہ، تاجرانہ اور حاکمانہ میں زیادہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ لیکن فی الحال ”پیدا شود“ کے ردیف میں ہی ان کی پیشن گوئی کو اختتام تک پہنچاتے ہیں۔ جس کے بعد دوسرے قافیہ کے ذریعے پیشن گوئی کو زیادہ تفصیل اور طوالت کے ساتھ پر اسرار انجام تک پہنچاتے ہیں جہاں قربت قیامت کی نشانیاں صاف اور واضع طور پر سامنے آجاتی ہیں۔ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی اپنے ”پیدا شود“ ردیف کے اشعار کو آگے بڑھاتے ہوئے انگریزوں کے بارے اپنی پیشن گوئی میں فرماتے ہیں: واگزارند ہندرا از خود مگر از مکرشاں خلفشار جانگسل در مرد ماں پیدا شود​ ترجمہ: اگرچہ انگریز ہندوستان کو خود ہی چھوڑ جائیں گے لیکن وہ اپنے مکر و فن سے لوگوں میں ایک جان لیوا جھگڑا چھوڑ جائیں گے۔ تشریح: قیاس و قرائن کی رو سے یہ جھگڑا مسئلہ کشمیر ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پیشن گوئی میں بعض مقامات پر اشارہ و کنایہ کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ دو حصص چوں ہند گردد،خوں آدم شد رواں شورش و فتنہ فزوں از گماں پیدا شود​ ترجمہ:جب ہندوستاں دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔انسانوں کا خون بے دریغ جاری ہو گا۔ شورش و فتنہ انسانی سوچ سے بعید ہو گا۔ لامکاں باشد ز قہر ہندواں مومن بسے غیرت و ناموس مسلم رازیاں پیدا شود​ ترجمہ: اکثر مسلمان ہندوؤں کے غیظ و غضب سے بے گھر ہو جائیں گے یعنی مہاجرین کی شکل اختیار کر لیں گے۔ مسلمانوں کی غیرت و ناموس کو نقصان پہنچے گا۔گویا مسلمانوں سے ان کی بہن، بیٹیاں اور عورتیں چھین لی جائیں گی۔ مومناں یابند اماں در خطہء اسلاف خویش بعد از رنج و عقوبت بخت شاں پیدا شود​ ترجمہ: مسلمان اپنے اسلاف کے علاقے (پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان) میں پناہ حاصل کر لیں گے۔ اس رنج اور مصیبت کے بعد ان میں بخت آوری ظاہر ہو گی۔ تشریح: موجودہ اور آنیوالی نسلوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ پاکستان دس لاکھ شہیدوں کے خون سے بنا ہے۔ ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو پاکستان کا معرض وجود میں آنے کے ساتھ پاکستان آنے والے مہاجرین نے اپنے جان و مال کی قربانیاں دیں جبکہ مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی بے حرمتی کی گئی۔ مسلمان مہاجرین کی پاکستان آمد کے دوران ”بہار کا قتل عام“ ایک دردناک داستان اور خونیں منظر پیش کرتا ہے۔ لیکن سرفروشانِ اسلام نے لاشوں کے ڈھیر اور خون کے دریاؤں کا نذرانہ پیش کر کے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر، دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت، پاکستان کو حاصل کیا۔ نعرہء اسلام بلند شد بست وسہ ادوار چرخ بعد ازاں بار دگر یک قہرشاں پیدا شود​ ترجمہ: اسلام کا نعرہ تئیس سال (١٩٤٧ء تا ١٩٧٠ء) تک بلند رہے گا۔ اس کے بعد دوسری بار ان پر ایک قہر ظاہر ہو گا۔ تنگ باشد بر مسلمانان زمین ملک خویش نکبت و ادبار در تقدیر شاں پیدا شود​ ترجمہ: مسلمانوں پر اپنے ملک کی زمین تنگ ہو جائے گی اور تباہی و بربادی ان کی تقدیر میں ظاہر ہو گی۔ تشریح: یاد رہے کہ یہ قہر الٰہی پیشن گوئی کے عین مطابق ١٩٧١ء میں مسلمانوں کی تباہی و بربادی اور قتل و غارت کے بعد سقوط مشرقی پاکستان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ جنگ در حقیقت شیخ مجیب الرحمٰن اور بھاشانی کی علیحدگی پسندی کے ناپاک عزائم کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لڑی گئی جس میں پندرہ لاکھ غیر بنگالی اور وہ بنگالی جو متحدہ پاکستان کے حامی تھے، نہایت بے دردانہ اور ظالمانہ طور سے مار ڈالے گئے۔ عورتوں کی عصمت دری کی گئی جبکہ ایک لاکھ پاکستانی فوج جنگی قیدی بنی اور یوں قائد اعظم کا پاکستان آدھا ہو کر رہ گیا۔ اس عظیم سانحہ سے سبق حاصل کرنا تو کجا، ہمارے بعض قوم پرست اور علیحدگی پسند سیاستدان باقی رہے سہے پاکستان کو بھی پختونستان، گریڑ بلوچستان، سندھو دیش، مہاجرستان اور جناح پور میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسلامی دنیا کی یہ واحد ایٹمی طاقت اور دنیا کے ١٩٢ ممالک میں ساتویں بڑی فوجی اور ایٹمی طاقت مملکت خداداد پاکستان خدانخواستہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہمسایہ دشمن اسے آسانی سے ہڑپ کر سکے۔ اسی لئے تو دانائے راز فقیر ، ترجمانِ حقیقت، شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے پہلے ہی سے مسلم امہ کو اتحاد و اتفاق کا درس دیتے ہوئے کہا: بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا نہ ایرانی رہے باقی ، نہ افغانی ، نہ تورانی​ دوبارہ فرمایا: یہ ہندی ، وہ خراسانی، یہ فغانی ، وہ تورانی تو اے شرمندہء ساحل، اُچھل کر بیکراں ہو جا​ پھر فرمایا: غُبار آلودہء رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے تو اے مرغ حرم! اُڑنے سے پہلے پر فشاں ہو جا​ آگے چل کر فرمایا: رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک تیرا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لئے​ حالتِ وجد میں پھر پُکار اُٹھے: درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی گھر اس کا دِلی، نہ صفاہاں ، نہ سمرقند​ بلا آخر یہ کہنے پر اُتر آئے: یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغاں بھی ہو تم سبھی کچھ ہو ، بتاؤ تو مسلماں بھی ہو؟​ جبکہ ایران کی طرف سے خصوصی طور پر بھیجے گئے علامہ اقبالؒ کے مزار پر نصب قیمتی سنگ مرمر کے کتبے پر اسلامی دنیا کو پیغام دینے والے یہ دو آفاقی شعر کندہ ہیں: نے آفغانیم و نے ترک و تتاریم چمن زادیم و ازیک شاخساریم تمیز و رنگ و بو بر ما حرام است کہ ما پروردہ ء یک نو بہاریم​ ترجمہ: ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتار ہیں۔ ہم باہم ایک گلستان کی مانند ہیں اور ایک ہی شاخسار میں سے ہیں۔ رنگ و نسب کی بناء پر امتیاز روا رکھنا میرے اوپر حرام ہے کیونکہ ہم ایک ہی نو بہار (دین اسلام ) کے پروردہ ہیں۔



آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

ad

روزانہ کی 12بڑی خبریں حاصل کریں بزریعہ ای میل


تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ

مقبول ترین

دلچسپ و عجیب





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved