اہم خبریں

بہاولپور(روزنامہ اوصاف) سابق پولیس کانسٹیبل دین محمد کو فیملی سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے آج بہاولپور کا دورہ کرنا تھا اور انکے دورے سے قبل دین محمد نے احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا۔ذرائع کے مطابق دین محمد ان کے تین بیٹوں اور ایک بیٹی کو گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔واضح رہے پولیس کانسٹیبل دین محمد نے 7 ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور پولیس کے بڑوں کے خلاف آواز اٹھائی جس کے بعد بہاولپور پولیس کے اعلیٰ افسر نے مبینہ طور پر دین محمد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس پر چار مقدمات درج کر کے گرفتار کر لیا تھا۔ یہی نہیں کانسٹیبل دین محمد کو نوکری سے بھی فارغ کر دیا گیا۔دین محمد نے گزشتہ دنوں یہ بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں خادم اعلیٰ پنجاب کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے۔




بھارتی فوج کا پول کھولنے والا تیج بہادر بالآخر اپنے ہی افسران کے ہاتھوں قتل
  25 مارچ‬‮ 2017
کراچی(روزنامہ اوصاف) بھارتی سرحدی فورس بی ایس ایف کے جوان تیج بہادر کی ہلاکت کے حوالے سے تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔تیج بہادر وہی جوان ہیں جنھوں نے انٹرنیٹ پر ایک وڈیو ڈالی تھی جس میں وہ اپنے افسروں کے مظالم کا پردہ چا ک کر رہے تھے، ان کی تصویر کے ساتھ پیغام سامنے آیا ہے کہ تیج بہادر کو قتل کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ تیج بہادر اپنے شکوے کے بعد سے بھارتی فوج کی قید میں تھے۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر جو پیغام سامنے آیا ہے اس میں ایک فوجی کی لاش کے ساتھ تیج بہادر کی تصویر ہے اور ساتھ ہی یہ اطلاع کہ اسے قتل کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب بھارتی میڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ خبر نہ صرف افواہ ہے بلکہ یہ افواہ بھی پاکستان نے پھیلائی ہے جبکہ کچھ بھارتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ جو لاش دکھائی گئی ہے وہ دراصل ان11 جوانوں میں سے ایک کی لاش ہے جنھیں نکسل باغیوں نے گھات لگا کر مارڈالا تھا تاہم جس جوان کی تصویر وائرل ہوئی ہے اس نے بی ایس ایف کی وردی پہن رکھی ہے نہ کہ سی پی آر ایف کی جو سینٹرل پولیس ریزرو فورس کہلاتی ہے۔



لاہور(روز نامہ اوصاف) پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیگ سپنر یاسر شاہ نے ڈومیسٹک کرکٹ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کھیلنے سے انکار کردیا ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹیسٹ کرکٹر یاسر شاہ نے ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز سے شامل نہ کرنے پر احتجاجاً پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔واضح رہے کہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اس وقت اپنی فارم بحال کرنے،عمر اکمل اپنی فارم دکھانے کیلئے گریڈ ٹو کے میچز کھیل رہے ہیں جبکہ یاسر شاہ کو ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں سے کسی بھی سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔





یہ بات کس حد تک درست ہے کہ انسان کا ایک شادی پر گزارا نہیں ہوسکتا ‘ نئی تحقیق سامنے آگئی
لندن (نیوز ڈیسک)اہل مغرب علمی جستجو اور تحقیق سے گہرا شغف رکھتے ہیں، اور بعض اوقات کچھ دلچسپ موضوعات پر بھی تحقیق کر گزرتے ہیں۔ ایک ایسی ہی تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا زندگی بھر کا ازدواجی تعلق محض ایک عورت اور مرد کے درمیان ہونا چاہیے، یا یہ تعلق دو سے زائد افراد کے درمیان ہو تو بہتر ہے۔ یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ا س بات کیلئے سائنسی شواہد دستیاب نہیں ہیں کہ یک زوجیت (یعنی ایک مرد کی صرف ایک عورت سے شادی) ہی ازدواجی تعلق کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ تحقیق کی سربراہ ٹیری کونلی کا کہنا ہے کہ عام طور پر تحقیق کار لاشعوری طور پر یک زوجیت کے حق میں ہوتے ہیں اور یہ وجہ ہے کہ تحقیق سے پہلے ہی ان کی رائے اس کے حق میں ہوتی ہے، لہٰذا ہماری تحقیق بھی غیر محسوس طریقے سے ہماری اس سوچ سے متاثر ہوتی ہے۔ ہم صرف یک زوجیت کو ہی ازدواجی تعلق کا درست طریقہ سمجھتے ہیں۔’سائنسی جریدے ’پرسپیکٹو آن سائیکالوجیکل سائنس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یک زوجیت کے متعلق کی جانے والی تحقیقات کی ساخت ہی اسی طرح کی ہوتی ہیں کہ نتائج اس کے حق میں آتے ہیں۔ اسی طرح تحقیقات میں کثیر زوجیت کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو اس کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتے ہیں اور جواب دینے والا غیر محسوس طریقے سے اس کے خلاف رائے دے بیٹھتا ہے، ورنہ ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو جو مغربی ممالک میں سمجھی جاتی ہے۔



جناب انتظام اللہ شہابی کی کتاب ’’جغرافیہ قرآن‘‘ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی کو حضرت یوسف علیہ السلام کے چھوٹے بھائی بن یامین کا سبط (نواسہ) لکھا ہے۔ اسی کتاب میں ’’مسلم راج پوت گزٹ‘‘ ۸۲۹۱ء کے حوالے سے لکھا ہے کہ ڈاکٹر امروز جان ولسن، فیلو، کوئنز کالج آکسفورڈ(Dr. Imroz John Wilson, Fellow, Queen’s College Oxford)نے حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنے کے بارے میں ایک مقالہ تھیولوجیکل ریویو میں تحریر کیا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ مچھلی کے پیٹ میں سانس لینے کے لئے کافی آکسیجن ہوتی ہے۔ اس کے پیٹ کا درجہ حرارت ۴۰۱ ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے جو انسان کے لئے بخار کا درجہ ہے۔ ۰۹۸۱ء میں ایک جہاز فاک لینڈ (Falkland) کے قریب وہیل مچھلی کا شکار کر رہا تھا کہ اس کا ایک شکاری جیمس سمندر میں گر پڑا اور وہیل مچھلی نے اسے نگل لیا۔ بڑی کوشش سے دو روز بعد یہ مچھلی پکڑلی گئی۔ اس کا پیٹ چاک کیا گیا تو شکاری زندہ نکلا، البتہ اس کا جسم مچھلی کی اندرونی تپش کی وجہ سے سفید ہوگیا تھا۔ چودہ دن کے علاج کے بعد بالآخر وہ صحت یاب ہوگیا۔۸۵۹۱ء ’’ستارہ مشرق‘‘ نامی جہاز فاک لینڈ میں وہیل مچھلیوں کا شکار کررہا تھا اس کا ’’بار کلے‘‘ نامی ملاح سمندر میں گرا، جسے ایک مچھلی نے نگل لیا۔ اتفاق سے وہ مچھلی پکڑی گئی۔ پورا عملہ اسے کلہاڑیوں سے کاٹنے لگا۔ دوسرے دن بھی یہ کام جاری تھا کہ مردہ مچھلی کے پیٹ میں حرکت محسوس ہوئی۔ انہوں نے سمجھا کہ کوئی زندہ مچھلی نگلی ہوئی ہوگی۔ پیٹ چیرا تو اس میں سے ان کا ساتھی بارکلے نکلا جو تیل اور چربی میں لتھڑا ہوا تھا۔ بے ہوش بارکلے دو ہفتوں کے علاج سے ہوش میں آیا اور پھر صحت مند ہوگیا۔ اس نے اپنی بپتا سنائی ’’جب میں سمندر میں گرا تو میں نے پانی میں ایک شدید سرسراہٹ محسوس کی جو ایک وہیل مچھلی کی دم سے پیدا ہورہی تھی۔ میں بے اختیار اس کی طرف کھنچا جارہا تھا۔ اچانک مجھے ایک تہ بہ تہ تاریکی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب میں نے اپنے آپ کو ایک نرم مگر تنگ راستے سے گزرتا ہوا محسوس کیا، یہاں حد درجہ پھسلن تھی۔کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ میں ایک وسیع تر جگہ میں ہوں۔ اردگرد نرم، گداز اور چکنی دیواریں کھڑی تھیں، جنہیں ہاتھ سے چھوا۔ اب حقیقت کھلی کہ میں وہیل کے پیٹ میں ہوں۔میں نے خوف کی جگہ اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کی۔ موت کو لبیک کہنے کو تیار ہونے لگا۔یہاں روشنی بالکل نہ تھی البتہ سانس لے سکتا تھا۔ سانس لینے پر ہر بار ایک عجیب سی حرارت میرے اندر دوڑ جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ کمزور ہوتا چلا گیا۔ اپنے آپ کو بیمار محسوس کرنے لگا۔ میری بیماری ماحول کی خاموشی تھی۔ اس کے بعد کیا ہوا مجھے کچھ معلوم نہیں۔ اب جو میں نے آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو جہاز کے کپتان کے کمرے میں پایا۔ بارکلے کو ہسپتال میں داخل کردیا گیا جہاں وہ مکمل صحت یاب ہوگیا۔ یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو علم اور سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ کئی نامہ نگاروں نے انٹرویو لیا۔ ایک مشہور سائنسی جرنل کے ایڈیٹر مسٹر ایم ڈی پاول نے تحقیقِ احوال کے بعد واقعہ کی تصدیق کی اور لکھا ’’اس حقیقت کے منکشف ہوجانے پر میں تسلیم کرتا ہوں کہ حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق آسمانی کتابوں میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، وہ حرف بہ حرف صحیح ہے اور اس میں شک کرنا ایک زندہ حقیقت کو جھٹلانے کے برابر ہے۔



آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ

مقبول ترین

دلچسپ و عجیب





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved