اہم خبریں

پشاور (ویب ڈیسک ) پشاور ہائیکورٹ نے مشال خان کیس میں صوبائی حکومت سے تین دن میں رپورٹ طلب کرلی ۔ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مردان یونیورسٹی میں قتل ہونیوالے مشال خان کیس کی دوسرے ضلع میں منتقلی اور ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قیصر خان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مردان کی جانب سے مردان میں کیس کی سماعت سے متعلق سربمہر رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ اس کیس کی صوبائی حکومت میں ٹرائل نہ ہونے سے متعلق کہہ چکی ہیں ۔عدالت عالیہ کے دو رکنی بنچ نے کیس میں صوبائی حکومت سے تین دن میں ججز ، سرکاری گواہوں کی سیکورٹی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 27 جولائی تک ملتوی کر دی ۔ مشال خان کے والد اقبال خان نے پشاور ہائیکورٹ سے کیس سیکورٹی وجوہات کی بناء پر دوسرے ضلع میں کرنے کی لئے رٹ دائر کی ہیں ۔




امریکا نے نئی پاپندیاں لگائیں تو بھر پور جواب دینے کےلئے تیار ہیں، روحانی
  20 جولائی 2017
تہران(ویب ڈیسک) غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حسن روحانی نے کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایران ہمیشہ اپنے بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کرے گا۔ انہوں نے تنبیہ کی اگر امریکا کسی بھی بہانے سے ایران پر نئی پاپندیاں لگانا چاہتا ہے تو ایران بھی اس کا بھر پور جواب دے گا۔یاد رہے ایرانی صدر کی جانب سے یہ بیان امریکا کی طرف سے بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت پر 18 ایرانی افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد دیا گیا۔



نیویارک(ویب ڈیسک)بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی اور بالی ووڈ اداکارہ انوشکاشرما کی تازہ ترین تصاویر سامنے آگئیں،بھارتی کپتان اور اداکارہ شاپنگ کرنے پہنچ گئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں ستاروں کی مداح کی جانب سے سوشل میڈیا پر لگائی گئی تصاویر میں ویرات کوہلی اور انوشکا شرما نیویارک کے ایک سٹور میں شاپنگ کرتے نظر آرہے ہیں۔انوشکا شرما 18ویں انڈین فلم فیسٹیول میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں اور ویرات کوہلی حال ہی میں ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز سے فارغ ہونے کے بعد فراغت کے لمحات انوشکا کے ساتھ گزارنے کے لیے امریکہ پہنچے ہیں۔





دل اور جگر کی بیماریوں کی شناخت ناخنوں کی ساخت اور ان کی رنگت سے لگانا ممکن ہے ‘ماہرین
لاہور (ټویب ڈیسک ) کیا آپ جانتے ہیں کہ ناخن صحت کے بارے میں اشاروں اشاروں میں کچھ بتانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایک خاص قسم کی پروٹین سے بنے ناخن ہمارے ہاتھوں اور پائوں کی انگلیوں کے آخری کناروں کے محافظوں کا کام کرتے ہیں ۔ ناخن کے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے یہ کسی ایسے انسان سے پوچھیں جس کی انگلی کا ناخن والا حصہ کسی وجہ سے نہ رہا ہو ۔ انسانوں کے لیے ناخنوں کی اہمیت وہی ہے جو جانوروں کے لیے ان کے پنجوں کی ۔ ناخنوں میں چھوٹے چھوٹے گڑھے ان افراد میں عام ہوتے ہیں جنہیں خارش کی طرح کی بیماری psoriasis ہوتی ہے ۔ اس میں جلد چھلکے کی طرح اترتی ہے ۔ بعض اوقات ناخن بڑھنے کے بعد نیچے کی جانب ٹیڑھے ہوجاتے ہیں ۔ یہ مخروطی شکل اختیار کرتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ خون میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے ، اور یہ ٹیڑھا پن پھیپھڑوں کی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتی ہے ۔ اس ٹیڑھے پن کو دل اور جگر کی بیماریوں سے بھی جوڑا جاتا ہے ۔ بعض اوقات ناخن نرم ہوکر ایسی شکل اختیار کر لیتے ہیں جیسے چمچ ۔ وہ درمیان سے دھنسے ہوئے لگتے ہیں ۔ کسی لیکوئڈ میں اگر ناخن زیادہ وقت رہیں تو وہ نرم ہوجاتے ہیں۔



عبدالستار ایدھی پاکستان کی معروف سماجی شخصیت تھے۔ ایدھی صاحب 1928ءکو گجرات میں پیدا ہوئے،تقسیم ہند کے بعد انہوں نے پاکستان ہجرت کرلی،یہاں آکر آباد تو ہوگئے لیکن روزگار کچھ بھی نہیں تھا،انہوں نے روزی کی خاطر پان اور بیڑی کی ریڑھی لگالی،ایک دفعہ سوتر منڈی کے مقام پر کسی نے ایک مزدور کو زخمی کردیا، مزدور کو ہسپتال پہنچانے کے لیے وسائل مہیا نہیں تھے ، اس لیے ایدھی صاحب اپنی ریڑھی میں مزدور کوہسپتال پہنچا آئے، یہیں سے پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی ادارے ”ایدھی فاؤنڈیشن“ کی بنیاد پڑی،اس کے علاوہ ایدھی صاحب کی ماں انہیں بچپن میں انسانیت کی خدمت کی تلقین و نصیحت کیا کرتی تھیں ،اس لیے ان کے اندر انسانیت کی خدمت کا جذبہ اسی وقت سے کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، انہوں نے کراچی کے علاقے کھارادر سے ایک چھوٹے سے ادارہ کی بنیاد ڈالی،بعد ازاںایدھی صاحب کے خلوص، محنت اور دیانت کی بنیاد پر اس ادارے نے بہت جلد ترقی کے منازل طے کیے،یوں ایدھی صاحب کا یہ چھوٹا سارفاہی ادارہ پاکستان کا سب سے بڑا ویلفیئر سینٹر بن گیا،دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان بھر میں اس کی سینکڑوں شاخیں کھل گئیں،اس ادارے کے ذریعے آج بھی ہزاروں بیواؤں،یتیموں اور ناداروں کی کفالت ہورہی ہے، زلزلہ ، سیلاب یا کسی بھی آفت زدہ علاقے میں ایدھی صاحب وہاں کے متاثرین کی مدد میں پیش پیش ہوتے ہیں،بے گوروکفن لاشوں کو دھلانے،کفنانے اور دفنانے میں بھی یہ آگے ہوتے ہیں،یہ دکھوں کی ماری بیواؤں ،بے کس و ناجائز اولادوں اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے معذوروں کی خاطرسڑکوں پر ”بھیک مہم “بھی چلاتے ہیں، پاکستان بھر میں سب سے اولین دارالامان، مردہ خانہ اور پرائیویٹ ایمبولینس سروس انہی کی مرہون منت ہے،آپ ان کی پاپولیریٹی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ان کے ایک اعلان،ایک درخواست اور ایک ایک التجا پر خواتین اپنے زیورات اتارکر ان کو دیدیتی ہیں،مرد اپنا پرس ان کے ہاتھ میں تھمادیتے ہیں، بچے اپنا جیب خرچ ان کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ان کی اسی انسانیت دوستی کی وجہ سے یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں مقبول ہیں،بین الاقوامی سطح پر ان کو غیر مسلموں نے بھی لا تعدادایوارڈز اور انعامات سے نوازا۔ 19اپریل2011ءکو لندن میں قادیانی جماعت کی طرف سے اپنے احمدیہ ہال میں کے نام سے ایک پررونق اور شاندار تقریب منعقد کی گئی،جس میں مرزائیوں کے چھوٹے بڑے کارندوںسمیت غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد حاضر تھی،قادیانی ٹولے کے سربراہ مرزا مسرور احمد کو اسٹیج پر عین درمیان میں براجمان دیکھا گیا،اس تقریب میں عبدالستار ایدھی کو امن کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازا گیا،اس کے علاوہ مرزا مسرور کی جانب سے ایدھی صاحب کے لیے دس ہزار پاؤنڈکے چیک کا اعلان بھی کیا گیا،ادھر پاکستان میں موجود ایدھی صاحب نے اس ©”سعادت“پر قادیانی جماعت کا بھرپور شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ،ان کا کہنا یہ تھا کہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے، میں کسی تفریق کو نہیں مانتا ،قادیانی جماعت نے جو قدم اٹھایا ہے ، وہ اللہ کو راضی کرنے کا کام ہے،اللہ انہیں کامیاب فرمائے۔ یہ باتیں جب میڈیا میں آئیں تو پورے پاکستان میں ایک ہلچل سی مچ گئی اور عجیب سا تاثر دیکھنے میں آیا، میں نے بھی جب یہ خبر سنی اور ایدھی صاحب کا یہ بیان دیکھا تو مجھے عجیب سا محسوس ہوا،واقعی ایدھی صاحب نے جس والہانہ انداز میں قادیانیوں کے اس اقدام پر مسر ت کا اظہار کیا اوران کے لیے دعاؤں کا اہتمام کیا ،وہ پاکستانی معاشرے میں تو کم از کم ناقابل قبول ہے۔ایدھی صاحب کی انسان دوستی کو پوری قوم احترام کی نظر سے دیکھتی ہے،لیکن جب یہ ان قادیانیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کریں جوشریعت محمدیہ کے ساتھ ساتھ پاکستانی آئین کے مطابق بھی کافر مطلق ہیں،تو ظاہر ہے عوام میں ردعمل تو پایا ہی جانا تھا۔ ایدھی صاحب کا یہ کہنا کہ میں کسی تفریق کو نہیں مانتا،آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 سے یکسر انحراف کے سوا کچھ بھی نہیں ،رہی بات اللہ کو راضی کرنے کی تو ایدھی صاحب کی یہ بات قادیانیوں کو سرٹیفیکیٹ دینے کے مترادف ہے،اس کے علاوہ ان کو دعاؤں کہاں کی دانش مندی ہے؟یہ تو ایک مضحکہ خیزبات ہے۔ نہ جانے یہ الفاظ ایدھی صاحب نے خود ادا کیے ہیں یا پھر ان سے کہلوائے گئے ہیں؟ایدھی صاحب کو یہ تو سوچنا چاہیے تھا کہ قادیانی کون ہیں؟یہ پاکستان کے شہری بھی ہیں تو ان کا حکم کیا ہے؟جو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبی ماننے والا ہو تو وہ دائرئہ اسلام سے ہی خارج ہے،اس کے علاوہ پاکستان میں ان کے لیے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی بھی اجازت نہیں اور ان کو پاکستان میں وہ حقوق حاصل نہیں جو کسی عیسائی، ہندو اور سکھ شہری کو حاصل ہیں۔ان کے ساتھ احسان وہمدردی کے سلوک و رویہ کی ہمارا قانون بھی اجازت نہیں دیتا۔ایدھی صاحب کو یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ ان کے اس بیان سے ان کی شرافت پر حرف آسکتا تھا،وہ ”قادیانی نواز“ ڈکلیئربھی ہوسکتے تھے،ان کی ساکھ ، شخصیت اور کردار پر داغ لگ سکتا تھا۔افسوس! ایدھی صاحب اپنی سادگی کی وجہ سے مار کھا گئے ۔ 1901 ءسے لیکرآج تک کی قادیانیوںکی تاریخ کا اگرآپ جائزہ لیں تو آپ کے سامنے حقائق کے در وا ہوتے جائیں گے،آپ اس میں دیکھیں گے کہ قادیانیت کا فتنہ امت مسلمہ میں فسادبرپاکرنے کے لیے ابھارا گیا تھا،یہ مسلم قوم میں مسلم روپ دھار کرہمیشہ فتنہ کی آبیاری کرتے رہے ہیں ،انہوں نے اس قوم کو کھوکھلا کرنے کے سوا اور کچھ کیا ہی نہیں ، جیوش لابی کے پروردہ یہ قادیانی ہمیشہ مختلف ہتھکنڈوں سے مسلمانوں کو گھیرتے رہے،سادہ لوح مسلمانوں کو بہکاتے



باغ،قا بض قو تیں کشمیر یو ں کو بے رحمی سے قتل کر کے ہما ری نو جوا ن نسل کو گو لہ با رو د کے ڈھیر بنا رہی ہیں
  20 جولائی 2017
باغ ( نمائندہ اوصاف)قا بض قو تیں کشمیر یو ں کو بے رحمی سے قتل کر کے ہما ری نو جوا ن نسل ،ہما ری معشیت ،تا ریخی وحدت اور سر زمین کو گو لہ با رو د کے ڈھیر بنا رہی ہیں ۔ہمیں 1947ء سے بھی زیا دہ بد تر ین حا لا ت کا شکا ر بنا دیا گیا ۔



گلگت۔ (اے پی پی ) گلگت شہر میں اچانک اور حادثاتی طور پر لگنے والے آگ پر قابو پانے کیلئے انتظامیہ نے آگ بجھانے والے جدید آلات کی تنصیب کرنے کیلئے تمام دکانداروں ،ہوٹل مالکان،لکڑ ی کاکام کرنے والے کارخانوں ،ایل پی جی گیس کے ڈیلر اور ڈسٹری بیوٹرز ،اور مارکیٹوں کے مالکان کو 25جو لائی تک خود آلات نصب کرنے کیلئے الٹی میٹم دیدیا ۔مقررہ تاریخ کے بعد انتظامیہ آگ بجھانے کے جدید آلات کی تنصیب کیلئے ایکشن کرے گی جو بھی دکاندار،ہوٹل مالک،ٹمبر مالک اور گیس ڈیلر حکم کی تعمیل نہیں کرے گا



آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

ad

روزانہ کی 12بڑی خبریں حاصل کریں بزریعہ ای میل


تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ

مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



یورپ



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved