شکار بننے والے پرندے کی شکاری کو نصیحتیں
  13  دسمبر‬‮  2016     |     اوصاف سپیشل

ایک پرندہ شکاری کا شکار بن چکا تھا۔ پرندے نے شکاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ :۔ ”تم زیادہ سے زیادہ یہ کرو گے کہ مجھے ذبح کر کے کھا جاﺅ گے ، لیکن اس کاکیا فائدہ ۔ تم بڑے بڑے جانور ہضم کر چکے ہو اور تمہارے پیٹ کا دوزخ ابھی تک نہیں بھرا اور مجھے کھانے سے تیرا کیا بنے گا۔ جبکہ میں ایک چھوٹا سا پرندہ ہوں“ پرندے نے مزید کہا کہ :۔ ” اگر تم مجھے اپنی قید سے آزاد کر دو تو میں تمہیں تین بیش قیمت نصیحتیں کروں گا۔ پہلی نصیحت اس وقت تمہارے گوش گزار کروں گا جس وقت تم مجھے آزاد کرنے کے لیے اپنے ہاتھ میں پکڑو گے۔ دوسری نصیحت اس وقت کروں گا جب تم مجھے آزاد کر دو گے اور تیسری نصیحت اس وقت کروں گا جب میں آزاد ہو کر درخت کی شاخ پر جا بیٹھوں گا ©“ پرندے کی بات شکاری کے دل کو لگی اور وہ اسے تین نصیحتوں عوض چھوڑنے پر رضا مند ہو گیا۔ پرندے نے کہا کہ پہلی جو نصیحت میں تمہیں کرو گا وہ یہ ہے کہ :۔ ” کسی ایسی بات پر کبھی یقین نہ کرنا جا نا ممکن اور مشکل ہو“ آزاد ہونے کے بعد پرندے نے حسب وعدہ دوسری نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ:۔ ” میرے حلق میں تین تولے وزن کا حامل ایک نایاب موتی ہے اگر تم مجھے ذبح کرتے تو یہ موتی تمہاری ملکیت ہوتا اور چونکہ یہ دولت تمہارے مقدر میں نہ تھی اس لئے تم اس موتی کے مالک نہ بن سکے “ پرندے کی بات سن کر شکاری پریشان ہو اور پچھتانے لگا کہ وہ کیوں پرندے کی باتوں میں آیا اور اسے کیوں اسے آزاد کرنے پر رضا مند ہوا۔ اس نے پرندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ :۔ تیری چرب زبانی نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا گر وہ موتی میری ملکیت ہوتا اور میں بھی دولت میں کھیلتا “ پرندے نے جواب دیا کہ :۔ ” میں نے تمہیں نصیحت کی تھی کہ کسی بات پر یقین نہ کرنا جو نا ممکن ہو، لیکن میں نے ایک نا ممکن بات کی اور تم اس کا یقین کر گئے ۔ تمہاری عقل کیا گھاس چرنے کے لئے گئی ہوئی ہے کہ تم یہ بھی نہ سوچ سکے کہ ایک چھوٹے سے پرندے کے حلق میں تین تولے کا موتی کیسے سما سکتا ہے“۔ یہ سن کر شکاری کے حواس بحال ہوئے اور اس نے پرندے سے کہا کہ تیسری نصیحت بھی کرو۔ پرندے نے جواب دیا کہ۔ ” تم نے دو نصیحتوں پر عمل کیا نہیں تیسری نصیحت تمہیں کیونکر کروں “ پرندے نے طنزیہ انداز میںمزید کہا کہ :۔ ” تیسری نصیحت یہ ہے کہ جو نصیحت پر عمل نہ کرے اسے قطعاً نصیحت نہ کرو“ اس کے بعد پرندے نے جنگل کا رُخ کیا۔ جاہل کو نصیحت کرنا یا نہ کرنا ایک برابر ہے۔ عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ مصیبت کو قبل از وقت بھانپ لیا جائے اور اس سے نجات حاصل کرنے کی تدبیر کی جائے جس طرح عقلمند مچھلی شکاریوں کی آمد کو بھانپ کر تالاب چھوڑ گئی تھی۔ نیم عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ مصیبت ٹوٹ پڑنے پر اس سے خلاصی حاصل کرنے کی تدبیر سر انجام دی جائے۔ جس طرح عقل مند مچھلی کے تالاب چھوڑ کر چلے جانے کے بعد نیم عقلمند مچھلی جب شکاری کے ہتھے چڑھی تو اس نے اپنے آپ کو مردہ ظاہر کیا۔ اسے مردہ جانتے ہوئے شکاری نے اسے تالاب کے کنارے پھینک دیا۔ وہ تڑپتی اور گھسٹی ہوئی کسی نہ کسی طرح دوبارہ تالاب میں جا پہنچی۔ تیسری مچھلی بے وقوف تھی۔ اس نے شکاری کی گرفت سے نکلنے کے لئے اچھل کود کی لیکن بے سود، شکاری نے اسے جال سے نکالا ۔ اسے فرائی کیا اور خوب مزے لے کر چٹ کرگیا۔ اس طرح وہ اپنے انجام کو پہنچ گئی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
92%
ٹھیک ہے
8%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved