حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بارگاہ خداوندی میں سوال اور اللہ تعالیٰ کا جواب
  13  دسمبر‬‮  2016     |     اوصاف سپیشل
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں سوال کیا کہ یا اللہ تو لوگوں کو تخلیق فرماتا ہے اور مابعد ان کو موت سے ہمکنار کر دیتا ہے۔ تیری اس بات میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک کھیتی تیار کر و۔ بیچ بو دو اور اسے تیار کرو۔ جب کھیتی پک کر تیارہوگئی تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کھیتی کو کاٹو۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکم خداوندی کی تعمیل کی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ تم نے خود کھیتی بوئی تھی اور کود ہی اس کو کاٹ ڈالا آخر ایسا کیوں کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ کھیتی جب پک کر تیار ہوئی تھی تب اس میں اناج اور بوسہ دونوں باہم ملے ہوئے تھے ور دانشمندی اسی امر میں پوشیدہ تھی کہ انہیں الگ الگ کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ علیہ السلام تم نے یہ دانشمندی کہاں سے حاصل کی۔موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی کہ یا اللہ یہ آپ کی عطا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ میری عطا ہے تو میرے پاس بھی اس کی کوئی کی نہیں ہے جس طرح تم نے اناج اور بھوسہ الگ الگ کیا اسی طرح مجھے بھی نیک اور بد روحیں علیحدہ علیحدہ کرنی ہیں۔ نیک روحیں جنت کو سدھاریں اور بد روحیں دوزخ کا ایندھن بنیں گی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved