فرعون فریادی بن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آن پہنچا
  16  دسمبر‬‮  2016     |     اوصاف سپیشل
قبطی قحط کا شکار تھے۔ وہ فاقے سے مر رہے تھے اور تباہی و بربادی کی حالت سے دو چار تھے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دربار کا رُخ کیا اور ان کی منت سماجت کرنے لگا اور ان سے دعا کی درخواست کی تاکہ مصائب کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی کہ یا اللہ یہ ریا کاری اور فریب کا سہار ا لے رہا ہے۔ میرے لئے کیا حکم ہے ۔ کیا مجھے اس کی مدد کرنی چاہئیے یا میں بھی اسے ٹر خا دوں اور فریب کا سہارا لے کر اس سے خلاصی کروالوں۔ اللہ تعالیٰ نے جوب دیا کہ یہ اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کے مکرو فریب کا جواب بھی مکرو فریب کے ساتھ دیا جائے لیکن آپ اس بد بخت کتے کے سامنے ہڈی ڈال دیں۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا کہ آپ اپنے عصا جو جنبش دیں۔ زمین وہ تمام تر پیداوار نکال باہر کرے گی۔ جو ٹڈی دل نے کھائی تھی اور ٹڈی دل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ اور ہر چیز کو بدلنے پر بھی قادر ہے۔ لہذا موسیٰ علیہ السلام نے حکم الہٰی کی تعمیل کی اور فرعون اور اس کے پیرو کار جو قحط کے ہاتھوں موت کا شکار ہو رہے تھے ان کو اللہ کی نعمتیں کھانے کے لئے میسر آئیں۔ جب ان کے پیٹ کے تندور بھر گئے تب وہ دوبار سر کشی پر اتر آئے۔ اے انسان یاد رکھ کہ تیرا نفس بھی فرعون کی مانند ہے۔ انسان کا بھی جب پیٹ بھر جاتا ہے وہ بھی سر کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
94%
ٹھیک ہے
6%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved