پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان
  17  دسمبر‬‮  2016     |     اوصاف سپیشل
وہ کافر تھے اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے مہمان بننے کی درخواست کرتے ہوئے عرض کرنے لگے کہ ہم کافی زیادہ مسافت طے کر کے آئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرم فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ وہ ان میں سے ایک ایک شخص کو مہمان بنا لیں۔ لہذا انہوں نے ایک ایک مہمان کا چناؤ کر لیا۔ ان میں سے ایک شخص خوب مٹا تازہ تھا اور بڑے پیٹ کا حامل تھا۔ اس نے مسجد میں ہی رہنا مناسب سمجھا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان بنا۔ وہ مہمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام کی تمام سات بکریوں کا دودھ پی گیا اور اس کے علاوہ گھر میں جو کچھ بھی کھانے کے لئے موجود تھا سب کچھ بھی کھا گیا۔ گھر کے دوسرے افراد اس رات بھوکے ہی سوئے۔ لونڈی نے حجرے کے دروزے کی کنڈی لگا دی کیونکہ اسے مہمان کے پیٹوین پر غصہ آ رہا تھا۔ رات کے وقت اس نے اپنے پیٹ میں خرابی محسوس کی اور اسے رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوئی ، لیکن دروازہ بند تھا۔ لہذا اس نے اپنے اوپر جبر کیا اور سو گیا ، لیکن سوتے مین اس نے بستر پر پاخانہ کر دیا اور اپنی اس حرکت کی وجہ سے بے حد پریشان ہو اور سوچنے لگا کہ میری بھی کیا زندگی ہے۔ حالت بیدار میں میں نے بے دریغ کھایا اور حالت نیند میں بستر پر پاخانہ کر کے بستر خراب کر دیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مہمان کی اس حرکت کا علم ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ محض اس لئے نہ کھولا تھا کہ وہ شرمندی کے ہاتھوں پریشان ہو اور یہی شرمندی اس کے ایمان لانے کا باعث بن جائے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود دروازہ کھولا اور خود کو اس کی نظروں سے اوجھل رکھا تاکہ وہ مزید شرمندگی سے محفوظ رہ سکے۔ اس نے جب دروازہ کھلا دیکھا تو راہ فرار اختیار کی اگرچہ یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ بستر وغیرہ دھوتا اور پھر جاتا۔ ایک صحابی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بستر کی جانب مبذول کرواتے ہوئے عرض کیا کہ آپ ملاحظ فرمائیں آپ کے مہمان نے کیا گل کھلایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ تم لوٹے میں پانی لاؤ تاکہ میں اس بستر کو دھو ڈالوں۔ صحابہ کرام ؓ میں سے ہر ایک صحابی نے اس کام کے لئے اپنی اپنی خدمات پیش کیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کام میں بذات خود سر انجام دوں گا کیونکہ حکمت کا تقاضا یہی ہے۔ ؒلہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی بستر دھو ہی رہے تھے کہ وہ مہمان دوبارہ آن پہنچا کیونکہ وہ جلدی میں اپنی مورتی وہاں پر بھول گیا تھا۔ اگرچہ وہ واپس آنے میں شرمندی سے دو چار تھا لیکن مورتی واپس لینے کی ضرورت سے مجبور ہو کر آیا تھا۔ وہ جب واپس آیا اور دیکھا کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گندگی دھو رہے تھے۔ وہ آپ کے اخلاق کو دیکھ کر اس قدر متاثر ہوا اور شرمندہ بھی ہوا کہ وجہ جس مورتی کو واپس لینے کے لئے آیا تھا اس کا اسے کوئی ہوش نہ رہا اور دوہ دیوار کے ساتھ اپنا سر ٹکرانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر ترس آیا اور اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اور ایمان کی روشنی سے منور فرمایا۔ وہ مہمان جو کافر تھا اب وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکا تھا اور اب وہ ایک بکری کا نصف دودھ بھی نہ پی سکا تھا اور سیر ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصرار کیا کہ مزید کھاؤ لیکن اس کا وہ لالچ اب ختم ہو چکا تھا جو کفر کی حالت میںتھا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
96%
ٹھیک ہے
2%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
2%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved