دور غلامی کی یاد تازہ کرنے والا لباس اور جوتے
  27  دسمبر‬‮  2016     |     اوصاف سپیشل
سلطان محمود غزنوی کا ایک ادنیٰ سا غلام تھا جس کا نام ایاز تھا۔ وہ ترقی کرتے کرتے وزیر کے عہدے تک جا پہنچا تھا اور وزیر بھی ایسا جسے بادشاہ کا مکمل اعتماد حاصل تھا۔ وہ ایک دانشمند شخص تھا۔ اس نے دور غلامی کی یاد تازہ کرنے والا لباس اور جوتے ایک کمرے میں چھپا رکھے تھے۔ وہ روزانہ اس کمرے میں جاتا اور ان چیزوں کو دیکھتا اور اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہتا کہ اپنے موجود عہدے پر غرور اور فخر نہ کر تیری اصلیت یہی ہے۔ چونکہ وہ بادشاہ کا منظور نظر تھا لہذا اس کے حاسد بھی لا تعداد تھے انہوں نے بادشاہ کے کان بھرے کہ ایاز نے ایک کمرے میں ناجائز دولت چھپا رکھی ہے اور روزانہ اس کے دیدار کے لئے جاتا اور کمرے کو تالا لگائے رکھتا ہے اور چابی اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ وہ کسی کو کمرے میں جانے نہیں دیتا کہ مبادا کوئی اس دولت سے آگاہ نہ ہو جائے۔ بادشاہ نے کہا کہ حیرانی کی بات ہے اس نے اس دولت کا علم ہمیں بھی نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ وہ ہماری غلامی کا دعویٰ دار ہے لیکن ہم سے بالا بالا دولت جمع کرتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک وزیر کو حکم دیا کہ تم رات کو کمرے کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو جاﺅ اور وہاں سے جو کچھ بھی دستاب ہو ا وہ سب کچھ تمہارا ہو گا۔ وہ وزیر بے انتہا خوش ہوا کہ آج بے شمار دولت ہاتھ لگے گی۔ واضح رہے کہ محمود نے ایاز کے کمرے کا دروازہ توڑ کر تلاشی لینے کا حکم کسی بد گمانی کے تحت نہیں دیا تھا بلکہ وہ حاسدوں کی آزمائش کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ وہ ایاز کو اس الزام سے بری تصور کرتا تھا لیکن پھر بھی اس کے دل میں خدشہ موجود تھا کہ کہیں یہ الزام سچ ثابت نہ ہو جائے۔ بادشاہ ایک اور سوچ کی بنا پر بھی پریشان تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ایاز کو جب یہ علم ہو گا کہ میں نے بد گمانی کی بنا پر اس کے کمرے کی تلاشی کا حکم دیا ہے تو اسے کس قدر دکھ ہو گا۔ حاسد امراءیہ تصور کرتے تھے کہ ایاز نے دور غلامی کی یادگارہ لباس اور چپل محض اس لئے رکھے ہوئے ہیں کہ اس کی دولت کی جانب کسی کا دھیان نہ جائے۔ انہوں نے اس کے کمرے پر دھاوا بول دیا تھا لیکن مال و دولت کا نام نشان بھی نہ تھا۔ لہذا انہوں نے فرش ادھیڑا، دیواروں میں سوراخ کئے، لیکن ماسوائے لباس اور چپل کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ لہذا وہ بہت زیادہ شرمندہ ہوئے اور ناکام و نا مراد واپس لوٹے۔ بادشاہ نے ایاز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب تم پر مخصر ہے۔ تم چاہو تو انہیں معاف کر دو اور چاہو تو ان سے پورا پورا بدلہ لو۔ ایاز نے کہا کہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ آپ کا عطا کردہ ہے وگرنہ میرا اپنا اثاثہ تو وہی لباس اور چپل ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ یہ حاسد اور چغل خور واجب القتل ہیں۔ اب یہ تم پر مخصر ہے کہ تم ان پر رحم کرتے ہو یا ان کے لئے سزا تجویز کرتے ہو۔ بادشاہ نے ایاز پر زور دیا کہ مجرموں کو جلد فیصلہ سنایا جائے کیونکہ فیصلے کا انتظار بذات خود ایک سزا ہے۔ ایاز نے عرض کی کہ مجرموں کا فیصلہ کرنا بادشاہ کو زیب دیتا ہے۔ میں تو اپنے آپ کو اس بوسیدہ لباس اور جوتے سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھتا۔ ان لوگوں نے مجھ پر بد گمانی کی کہ وفا کو بھی مجھ سے شرم آنے لگی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
87%
ٹھیک ہے
7%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
7%





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved