حقائق انسان کی اندرونی کیفیت کے تابع ہوتے ہیں
  28  دسمبر‬‮  2016     |     اوصاف سپیشل
قحط سالی کا دور تھا۔ ہر مسلمان پریشان اور متفکر تھا۔ کھیت پانی کی عدم موجودگی میں سوکھ چکے تھے اور چاروں طرف بربادی رقص کر رہی تھی ۔ لوگ ماہی بے آب کی مانند تڑپ رہے تھے۔ ان میں ایک زاہد بھی موجود تھا۔ وہ مفلس بھی تھا اور عیال دار بھی تھا، لیکن وہ قحط کو کسی خاطر میں نہ لاتا تھا اور قحط کی تباہ کاریوں کے باوجود مسکراہٹ بکھیرتا تھا اور قحط کے غم فکر اور پریشانی اور آزاد تھا اور کہتا تھا کہ مجھے قحط کی پرواہ نہیں ہے۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ تجھے مسلمانوں کی حالت پر رحم نہیں آتا تم قحط کو مذاق سمجھتے ہو۔ اللہ کے اس بر گزیدہ بندے نے جواب دیا کہ تمہاری نظر میں یہ قحط ہے لیکن میری نظر میں یہ جنت ہے اور مجھے ہر جگہ اپنی کرم تک اونچی فصل لہرائی دکھاتئی دے رہی ہے۔ میں آنکھوں دیکھی چیز کو کیسے جھٹلا سکتا ہوں۔ تم لوگ فرعون کی فطرت کے حامل ہو لہذا تمہیں بھی دریائے نیل کا پانی خون دکھائی دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسی دانشور کو اپناﺅ تو تم بھی حقیقت جان جاﺅ۔ حقائق انسان کی اندونی تبدیلی کے تابع ہوتے ہیں۔ انسان اگر کسی سے ناراض ہو جائے تو وہ اسے انسان کی بجائے ایک کتا دکھائی دیتا ہے۔ اندرونی کیفیت کی روشنی میں حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کو بھیڑ یا دکھائی دیتے تھے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
88%
ٹھیک ہے
6%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
6%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved