جب نو جوان کسی عورت کے عشق میں مبتلا ہوگیا
  31  دسمبر‬‮  2016     |     اوصاف سپیشل
ایک نوجوان کسی عورت کے عشق میں مبتلا ہوا لیکن اس کو کسی طرح اس کا وصل میسر نہیں آ رہا تھا۔ وہ پریشان اور دیوانہ ہوا پھرتا تھا۔ عشق ابتدا ہی سے انسان کے لئے خونی ہوتا ہے اور پوری پورہ دشمنی کا مظاہرہ کرتا ہے تاکہ کچا اور ناا ہل بھاگ نکلے۔ وہ عاشق کسی کو قاصدتصور کرتا ہے تو وہ رقیب ثابت ہوتا ہے۔ اگر خط تحریر کرتا ہے تو پڑھنے والا اس کی محبوبہ کو غلط پڑھ کر سناتا ہے ۔ اگر وہ صبا کے ہاتھ پیغام روانہ کرتا ہے تو صبا گرد آلود ہو جاتی ہے۔ غرضیکہ معشوق تک حال دل پہنچانے میں ہر تدبیر ناکام ہوجاتی ہے۔ پیغام رسانی کے تمام تر ذرائع بے کار ثابت ہوتے ہیں۔ محبوب کا انتظار اسے دل شکستہ بنا دیتا ہے اور وہ مایوسی کی لپیٹ میں ہوتا ہے۔ اب وہ اس حالت کو جا پہنچتا ہے کہ کبھی وہ عشق کوبلائے بے در ماں سمجھتا ہے اور کبھی اسی کو مدار زندگی سمجھتا ہے ۔ کبھی وہ خودی کے غلبے میں ہوتا ہے اور خواہشات جنم لیتی ہیں اور کبھی وہ فنا کے مقام پر پہنچتا ہے اور اپنے وجود کو ہی محو کر دیتا ہے۔ کبھی تنہائی وحشت میں گریہ رزاری کرتا ہے اور کبھی محبوب کے خیال میں گم باتیں کرتا ہے۔ جب وہ اپنے وجود کو محو کر دیتا ہے تب محبوب سے اتحاد کا چشمہ جوش مارتا ہے اور بے سرو سامانی اس کے لئے راحت کا سامان بن جاتی ہے۔ جب اس کا عشق خواہشات کے خس و خاشاک سے پاک ہو جاتا ہے تو وہ عاشقوں کی رہنمائی سر انجام دیتا ہے۔ بہت سے لوگ طوطے کی مانند خوش بیانی کا سہارا لیتے ہیں لیکن ان کا باطن خاموش ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کی روحیں خوش باش اور تر و تازہ ہوتی ہیں مگر بظاہر ترش روی کا شکار ہوتے ہیں۔ بظاہر حقیقی ولی اور نقلی ولی اس طرح یکساں ہیں جس طرح قبرستان کی قبریں یکسان ہیں لیکن حقیقتاً میں ان میں اس طرح فرق پایا جاتا جس طرح مردوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ ہر ایک اہل قبر کی حالت جدا جدا ہوتی ہے۔ مردوں کا کیا ذکر زندوں میں بھی بظاہر یکسانیت پائی جاتی ہے لیکن ان کی اندرونی حالت مختلف ہوتی ہے۔ انسانی فرق بولنے پر واضح ہوتا ہے ، لیکن یہ بھی حقیقی وضاحت نہیں ہوتی ۔ حقیقت کو معلوم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ لوگ ایک جیسے جسم کے حامل ہوتے ہیں لیکن ان کی روحیں مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی آوازیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں لیکن ان میں چھپا درد اور سوز مختلف ہوتا ہے اور نا واقف حال ایک جیسی آوازوں کی بنا پر سب کو ایک جیسا ہی تصور کرے گا۔ درخت بھی بظاہر ایک جیسے انداز سے ہلتے ہیں۔ لیکن ایک کلہاڑی کی ضرب کی وجہ سے ہلتا ہے اور دوسرا باد صبا کے جھونکے کی وجہ سے ہلتا اگر انسان بذات خود امتیاز کرنے کی صلاحیت کا حامل نہیں ہے تو اسے چاہئیے کہ وہ کسی ایسے شخص سے مشورہ کرے جو اہل بصیرت ہو اور دانش وری اور دانائی کا حامل ہو۔ وہ عاشق رات کے وقت آوارہ گرد ی کر رہا تھا کہ اس کی نظر کو توال شہر پر پڑی۔ وہ بھاگ کر نزدیکی باغ میں جا گھسا تاکہ کہ کوتوال کی نظروں سے اوجھل ہو سکے۔ باغ میں اس کی محبوبہ شمع تھامے کھڑی تھی۔ کوتوال وصال کا سبب بنا تھا۔ لہذا اس نے کوتوال کو اپنی دعاؤں سے نوازناشروع کیا۔ اگرچہ وہ کوتول کے خوف سے باغ میں چھپا تھا لیکن اس کا یہ چھپنا اس کے حق میں بہتر ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ :۔ ”تم ایک چیز کو نا پسند کرتے ہو اور وہی چیز تمہارے حق میں بہتر ہوتی ہے “ چونکہ ان دونوں کو تنہائی میسر تھی لہذا عاشق نے محبوبہ کو اپنی گرفت میں لینے اور بوس و کنار کرنے کی کوشش کی لیکن محبوبہ آڑے آئی اور اس نے اسے تنہائی سے فائدہ نہ اٹھانے دیا۔ عاشق نے اپنی حماقت کا اقرار کرتے ہوئے مغفرت پیش کی اور اپنی حماقت کو نظر انداز کرنے کی درخواست بھی کی اور اپنی وفا اور جدوجہد کا حوالہ پیش کرتے ہوئے اسے شرف قبولیت بخشنے کی بھی استدعا کی۔ محبوبہ نے کہا کہ تیرے دل میں میرے لئے کس قدر احترام ہے اس کا مظاہرہ تو میں نے دیکھ لیا ہے لیکن تیری وفا کے بارے میں تصور ہی کیا جا سکتا ہے لیکن تم نے جس عمل درآمد کا مظاہرہ کیا ہے تیرا بقایا عمل در آمد بھی اس کے عین مترادف ہی ہو گا۔ اس کے بعد محبوبہ نے ایک قصہ اپنے عاشق کے گوش گزارا کیا:۔ ایک صوفی کو اپنی بیوی کے چال چلن پر شبہ تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اس روز خلاف معمول جلد گھر آن پہنچا تھا۔ اس کی بیوی اس کے معمول سے واقف تھی کہ وہ رات گئے دوکان بند کر کے گھر واپس آتا تھا۔ اب اس کی حالت دیدنی تھی۔ گھر کا کوئی دوسرا دروازہ بھی نہ تھا جس کے راستے وہ اس موچی کو چلتا کرتی۔ صوفی کی بیوی اور اس کا آشنا عجیب مصیبت کا شکار تھے۔ صوفی نے سوچا کہ شور مچانے سے اپنی بد نامی کا اندیشہ تھا لہذا صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور فی الحال انجان بنا جائے۔ ادھر بیوی نے یہ ظاہر کرنے کے لئے موچی کو چادر میں چھپا دیا کہ وہ ایک خاتون تھی اور اسے گھر کے دروازے سے نکال باہر کیا ۔اگرچہ اس کا مردانہ پن بخوبی جھلک رہا تھا لیکن صوفی نے پہلے ہی انجان بننے کی ٹھان رکھی تھی۔لہذا اس نے کوئی پس و پیش نہ کیا۔ صوفی نے انجان بنتے ہوئے بیوی سے دریافت کیا کہ یہ خاتون کون تھی اور یہاں کیوں آئی تھی۔ بیوی نے جواب دیا کہ وہ ایک معزز خاندان کی خاتون تھی اور ہماری بیٹی کو بہوبنانے کے لئے آئی تھی۔ وہ ہماری بیٹی کو دیکھ نہ سکی کیونکہ وہ مدرسے گئی ہوئی تھی، لیکن اس کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی شکل و صورت کی خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہو اپنی شرافت اور پردہ نشینی کی وجہ سے اسے پسند تھی اور وہ اسے ہی بہو بنائے گی۔ صوفی نے جواب دیا کہ کیسی بے تکی باتیں کرتی ہو۔ ہمارا اور ان کا کیا جوڑ۔ ہم ٹھہرے غریب اور وہ لوگ صاحب حیثیت، یہ طبقاتی فرق بہر کیف موجود ہے اور یہ رشتہ کسی بھی طرح موزوں ثابت نہ ہو گا۔ بیوی نے کہا کہ وہ لوگ جہیز کے بھی لالچی نہیں ہیں اور انہیں ہماری غربت پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔یہ قصہ سنانے کے بعد محبوبہ نے کہا کہ میں نے یہ قصہ اس لئے تمہارے گوش گزار کیا ہے کہ تمہارا بھید بھی اب کھل ہی چکا ہے۔ اب تم وفاداری کی بات نہ کرو۔ تم بھی اب اس صوفی کی بیوی کی مانند مکرو فریب کا سہارا لے رہے ہو تم لوگوں سے تو خوف کھاتے ہو مگر تم میںخوف خدا موجود نہیں ہے۔ عاشق نے چونکہ محبوبہ کو باغ میں تنہا پایا تھا اور وہ یہ فراموش کر بیٹھا تھا کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ محبوبہ نے عاشق کو باور کروایا کہ میں پہلے ہی جان چکی تھی کہ تم شہوت پرست ہو۔ تم نے مجھے بے سہارا اور بے آسرا سمجھ لیا تھا حالانکہ میرا نگہبان میرا اللہ ہے۔ اگرچہ تم آٹھ برس سے میرے دیوانے ہو لیکن مجھے تمہاری کوئی پروانہ نہیں ہے۔ عاشق نے اب پینتر ابدلا اور مکرو فریب کا سہارا لیتے ہوئے کہنے لگا کہ میں نے تومحض اس لئے بو س وکنار کی کوشش کی تھی کہ تمہاری آزمائش کر سکوں کہ تم مجھے برائی کرنے کی اجازت فراہم کرتی ہو یا اپنی پارسائی کا مظاہرہ کرتی ہو، لیکن تم اس امتحان میں پوری اتری ہو۔ اگر اس کے باوجود بھی تم مجھے قصور وار سمجھتی ہو تو میں اپنی غلطی کی معافی چاہتا ہوں۔ خدارا مجھے معاف کر دو۔ محبوبہ نے جواب دیا کہ اب جھوٹ اور مکرو فریب کا سہارا نہ لو۔ امتحان لینا عاشقوں کوزیب نہیں دیتا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
29%
ٹھیک ہے
14%
کوئی رائے نہیں
14%
پسند ںہیں آئی
43%




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved