میاں بیوی میں علیحدگی کی 4 اہم وجوہات
  31  دسمبر‬‮  2016     |     اوصاف سپیشل
طلاق اُن بہت کم موضوعات میں سے ایک ہے جس کے بارے میں تمام ہی لوگوں کا اتفاق ہے کہ یہ ہرگز نہیں ہونی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہر گزرتے دن کے ساتھ اِس کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جس طرح تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، بالکل اسی طرح طلاق بھی کسی ایک کی غلطی سے نہیں ہوتی بلکہ شوہر اور بیوی دونوں ہی اِس کے کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ بہت نازک اور خطرناک موڑ ہوتا ہے اِس لیے ہم آپ کو وہ 5 اہم ترین وجوہات بتارہے ہیں تاکہ خدانخواستہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر اگر آپ یہ غلط فیصلہ لینے کی کوشش کریں تو رک جائیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کی وجہ سے طلاق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ممکن ہے کچھ لوگوں کو فائدہ بھی ہورہا ہو لیکن اِس کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ ہر تیسری طلاق کی وجہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ثابت ہورہی ہیں۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ شادی شدہ مرد معصومیت میں اپنی کسی ”پرانی دوست“ سے بات چیت کا آغاز کرتے ہیں، لیکن کب یہ دوستی محبت میں بدل جاتی ہے کسی کو کچھ علم نہیں ہوتا۔ اِس کے علاوہ مخالف جنس کے ساتھ یہ سب سے آسان ترین پلیٹ فارم ثابت ہوتا ہے۔ پھر جب یہ باتیں شوہر یا بیوی کے سامنے آتی ہیں تو تعلق خراب ہوتے ہیں، شک و شبہات میں اضافہ ہوتا ہے اور بدقسمتی سے بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ غیر سنجیدگی کی وجہ سے طلاق آج کل کے نوجوانوں میں یہ رواج بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اِس کی مثال تائیوان میں ہونے والے ایک واقعے سے دے سکتے ہیں جہاں شادی صرف ایک ہی گھنٹے میں ختم ہوگئی۔ ہوا کچھ یوں کہ شادی کی تقریب کے بعد بیوی نے شوہر سے مطالبہ کیا کہ اُسے ایک نئی گاڑی خرید کر دی جائے، جس پر شوہر نے کہا کہ وہ اِس بارے میں سوچے گا، بس یہ کہنے کی دیر تھی کہ بیوی نے کہا کہ اگر وہ اُسے گاڑی نہیں دلا سکتے تو بس پھر طلاق دے دے، اور یہ اہم ترین رشتہ ختم ہوگیا۔ دوستانہ ماحول میں طلاق یہ رواج بھی بہت دیکھنے کو مل رہا ہے کہ میاں بیوی بغیر لڑے بلکہ اچھے اور دوستانہ ماحول میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ دونوں کو لگتا ہے کہ ایک ساتھ بہت وقت گزار لیا ہے، لیکن یاد رکھیے کہ کتنے ہی اچھے ماحول میں علیحدگی کیوں نہ ہو، بچوں پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ایسا کرنے سے پوری نسل خراب ہوجاتی ہے کیونکہ بچوں کو یہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ اُنہیں والد کے ساتھ رہنا ہے یا والدہ کے ساتھ۔ وہ اِسی میں پریشان رہتے ہیں اور اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی اچھا کام نہیں کرسکتے۔ جب دونوں میاں بیوی نوکری کرتے ہوں جب بیوی بھی شوہر کے ساتھ باہر کام کرنے نکل جائے تو گھر کا نظام بتدریج خرابی کی جانب چلا جاتا ہے۔ یعنی جب دونوں شام کو واپس آتے ہیں تو گھر کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ یہ روٹین کچھ دنوں تک تو چلتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دونوں مایوسی اور غصے میں رہنے لگتے ہیں اور چڑچڑاپن کی وجہ سے ایک دوسرے کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
85%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
10%
پسند ںہیں آئی
5%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved