امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا‘ اس کا ایک باغ تھا
  5  جنوری‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا‘ اس کا ایک باغ تھا‘ اس کے کئی حصے تھے‘بادشاہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ میرے لئے اس ٹوکری میں بہترین اور عمدہ قسم کے پھل لے آؤمگر شرط یہ ہے کہ جس حصے میں جاؤ اور وہاں تمہیں کوئی پھل پسند نہ آئے تو دوبارہ اس حصے میں نہ آنا‘وہ آدمی باغ کے ایک حصے میں داخل ہوا تو وہاں اسے کوئی پھل پسند نہ آیا‘ اسی طرح وہ ایک ایک کر کے تمام حصوں میں گیالیکن کوئی ایک بھی پھل اسکے دل کو نہ بھایا‘ جب وہ آخری حصے میں پہنچا تو حیرت ذدہ ہواکیونکہ وہاںکچھ بھی نہ تھا اور وہ شرط کے مطابق واپس ان حصوں میں جا بھی نہیں سکتا تھا۔ جہاں پھل تھے مجبوراً وہ خالی ٹوکری لے کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا‘بادشاہ نے پوچھا میرے لئے کیا لائے ہو؟ اس نے جواب دیا‘ کچھ بھی نہیں لایا‘امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بادشاہ سے مراد اللہ تعالی کی ذات ہے‘باغ سے مراد انسان کی زندگی ہے اور ان حصوں سے مراد انسان کی زندگی کے ایام ہیں‘ٹوکری سے مراد انسان کا نامہ اعمال ہے ‘انسان کہتا ہے کہ میں کل سے نیک اعمال شروع کروں گا اور کل سے نماز پڑھوں گالیکن! کل کل کرتے ایک دن موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور جو دن گزر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے تو یہ اللہ کے پاس خالی دامن چلا جاتا ہے ‘اس سے معلوم ہوا کہ دنیا دھوکے کا گھر ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
89%
ٹھیک ہے
3%
کوئی رائے نہیں
3%
پسند ںہیں آئی
6%




آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved