اسلام میں موسیقی کو کیوں حرام کہا گیا ؟ برطانوی سائنسدانوں نے ایسی وجہ دریافت کر لی کہ انہیں خود بھی اسلام کی حقانیت کا قائل ہونا پڑ گیا
  14  مارچ‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ قوتِ سماعت کی حفاظت کے لیے روزانہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک موسیقی نہ سنی جائے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایک ارب دس کروڑ سے زائد نوجوان اور نو عمر بچے بہت بلند آواز اور زیادہ دیر تک موسیقی سن کر اپنی قوتِ سماعت کو مستقل بنیادوں پر متاثر کر رہے ہیں۔ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق 12 سے 35 سال کی عمر کے درمیان چار کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد ہیں جو سننے کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اس تعداد میں نصف وہ افراد ہیں جو امیر اور متوسط آمدن رکھنے والے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور موسیقی سننے کے لیے ان کے پاس موجود آلات میں آواز کا درجہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد ایسے نوجوان ہیں جو کلبوں اور شراب خانوں میں چلنے والی موسیقی سے متاثر ہوتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کینقصانات سے بچاؤ کے ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایٹائین کرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کوشاں ہیں کہ ایک ایسے معاملے پر آگاہی پھیلائی جائے جس پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی ہو سکی۔ امریکہ میں سنہ 1994 میں قوت سماعت متاثر ہونے والے نوجوانوں کی تعداد تین اعشاریہ پانچ فیصد تھی تاہم سنہ 2006 میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ اعشاریہ تین فیصد تک جا پہنچی۔ڈاکٹر کرگ کے مطابق اگر اونچی آواز میں میوزک سنا جائے تو ایک گھنٹہ بہت زیادہ ہوگا۔کتنی دیر کے لیے کتنے والیم تک کس آواز کو سنا جا سکتا ہے؟ڈبلیو ایچ او نے آواز کے درجے کو جانچنے کے لیے معیار قائم کیا ہے جسے ڈیسیبل یا ڈی بی کہا جاتا ہے جس کے مطابق85 ڈی بی پر گاڑی میں شور کی آواز آٹھ گھنٹے۔95 ڈبی پر موٹر سائیکل کی آواز 47 منٹ۔105 ڈی بی پر ایم پی تھری پلیئر کو اونچی آواز میں فقط چار منٹ۔115 ڈی بی پر راک میوزک کنسرٹ میں28 سیکنڈ تک۔120 ڈی بی پ سائرن کی آواز فقط نو سیکنڈ۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہیکہ 60 فیصد تک اونچی آواز تک میوزک سننا محفوظ ہے۔ڈاکٹر کرگ سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں حکومت کو بھی سخت گیر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب یہ بھی تجویز دی جاتی ہے کہ ہیڈ فونز بنانے والی کمپنیاں اور موسیقی کی سہولت فراہم کرنے والے مقامات پر حفاظتی اقدامات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
88%
ٹھیک ہے
9%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
3%




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved