ایک اندھا بھکاری تھا ، جو اپنی آنکھیں چھپائے رکھتا تھا
  27  فروری‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
ایک اندھا بھکاری تھا ، جو اپنی آنکھیں چھپائے رکھتا تھا ، اس کا سوال کرنے کا انداز بڑا عجیب تھا ، وہ لوگوں سے کہتا تھا جو مجھے کچھ دے گا، اس کو ایک عجیب بات سنائوں گا ، اور جوزائد دے گا ، اس کو عجیب چیز بھی دکھائوں گا ۔ ابواسحاق ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، کسی نے اس کو کچھ دیا تو میں اس کے پاس کھڑا ہو گیا ، اس نے اپنی آنکھیں دکھائیں میں یہ دیکھ کر حیران و ششدر رہ گیا کہ اس کی آنکھوں کی جگہ دو سوراخ تھے جس سے آر پار نظر آتا تھا ، اب اس نے اپنی داستان حیرت نشانی سنانی شروع کی ۔ میں اپنے شہر کا نامی گرامی کفن چور تھا اور لوگ مجھ سے بے حد خوفزدہ رہتے تھے ، اتفاق سے شہر کا قاضی بیمار پڑ گیا ، اس کو جب اپنے بچنے کی امید نہ رہی تو اس نے مجھے سو 100دینار بجھوا کر کہلا بھیجا کہ میں ان سو 100 دیناروں کے ذریعے کفن تجھ سے محفوظ کرنا چاہتا ہوں ، میں حامی بھر لی ۔ اتفاقاً وہ تندرست ہو گیا ، مگر کچھ عرصے بعد پھر بیمار ہو کر مر گیا ، میں نے سوچا کہ وہ عطیہ تو پہلے مرض کا تھا ۔ لہٰذا میں نے اس کی قبر کھود ڈالی ، قبر میں عذاب کے آثار تھے اور قاضی قبر میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ! اچانک میں اپنے گھٹنوں میں درد محسوس کیا اور اچانک کسی نے میری آنکھوں میں انگلیاں گھونپ کر مجھے اندھا کر دیا اور کہا اے دشمن خدا!اللہ تعالی کے بھیدوں پر کیوں مطلع ہوتا ہے (شرح الصدور)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
92%
ٹھیک ہے
4%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
4%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved