تلاشِ حق میں نکلا تھا
  3  مارچ‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ایک ملک کا بادشاہ بہت رحم دل اور نیک تھا۔ وہ رعایا کے حق میں بہت اچھا تھا چنانچہ تمام رعایا اس سے محبت کرتی تھی اور اُسے خوب دعائیں دیتی تھی۔ اسی ملک کے ایک دور دراز گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جس کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے نیک دل بادشاہ کی زیارت کو جائے اور اس کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کرے۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ ”مَیں بادشاہ سے ملنے کے لیے جانا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ مَیں اسے کوئی تحفہ بھی دوں۔ تم مجھے مشورہ دو کہ مَیں بادشاہ کے حضورکیا تحفہ لے کر جاؤں؟“ بیوی نے کچھ دیر سوچا اور کہا کہ ”بادشاہ کے پاس تو ہر چیز ہو گی، ہم اسے کیا تحفہ دے سکتے ہیں؟ ہاں! ہمارے گھر کے پاس بہنے والے چشمے کا پانی بہت میٹھا اور ٹھنڈا ہے اورمجھے یقین ہے کہ ایسا پانی پورے ملک میں کہیں بھی نہیں ہو گا حتیٰ کے بادشاہ کے پاس بھی نہیں ہو گا ۔ میرا مشورہ ہے کہ تم بادشاہ کے لیے یہ پانی لے جاؤ۔“ کسان کو یہ تجویز بہت پسند آ ئی اور اس نے اپنے چشمے سے پانی کے دو گھڑے بھرے اور اپنے گدھے پر لاد کر بادشاہ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو گیا۔ . کئی ہفتوں کے سفر کے بعد کسان بادشاہ کے محل تک پہنچ گیا اور اس سے ملاقات کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر بادشاہ کو تحفہ پیش کیا اور اُسے بتایا کہ یہ میرے گاؤں کے چشمے کا پانی ہے اور ایسا میٹھا اور ٹھنڈا پانی آپ کو پورے ملک میں کہیں بھی نہیں ملے گا۔ بادشاہ کے اشارے پر وزیر نے گھڑے کا ڈھکن اٹھایا تو کئی ہفتوں کے سفر کی وجہ سے پانی میں بدبو پیدا ہو گئی تھی۔ وزیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا تو بادشاہ نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور باآواز بلند کہا کہ ہم اس تحفے سے بہت خوش ہوئے اور خزانچی کو حکم دیا کہ اس کسان کے گھڑوں کو سونے سے بھر دیا جائے۔ کسان بہت خوش ہوا۔ بادشاہ نے وزیر کو بلا کر چپکے سے کہا کہ پانی کو گرا دینا اور واپسی پر اس کسان کو اس رستے سے گزارنا جہاں ہمارے چشمے ہیں تاکہ اس علم ہو کہ ہمارے پاس پانی کے کتنے چشمے ہیں اور ان کا پانی کتنا ٹھنڈا اور فرحت بخش ہے۔ چنانچہ جب کسان کو انعامات دینے کے بعد ان چشموں کے پاس سے گزارا گیا تو وہ سمجھ گیا کہ اس کا تحفہ کتنا حقیر تھا لیکن بادشاہ نے اسکے حقیر تحفے کو بھی قبول کر کے اسے انعام سے نوازا۔ چنانچہ اس کے دل میں بادشاہ کے لیے محبت وعقیدت اور بڑھ گئی۔ . ہماری عبادات کا بھی یہی حال ہے۔ ہم جو ٹوٹی پھوٹی عبادت کرتے ہیں تو ہم اسے بہت اچھی سمجھتے ہیں اور اپنے مالک کے حضور پیش کرتے ہیں۔ ان عبادات کی حقیقت معلوم ہونے کے باوجود وہ مالک الملک نہ صرف ہماری ان عبادات کو قبول کرتا ہے بلکہ انعام کے طور پر بیش بہا نعمتوں سے بھی نوازتا ہے حالانکہ اسے ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ خالقِ کائنات کی عبادت کے لیے تو اس کے لاکھوں کروڑوں فرشتے ہی کافی ہیں۔ ذرا سوچئے! اگر ہم ان ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو پیش کر کے اس کی نعمتیں حاصل کرنے والے بھی نہ رہیں تو پھردنیا میں ہمارے جیسا بدنصیب بھی کوئی نہ ہو گا۔۔۔! کس قدر دلچسپ اور انوکھی بات ہے کہ عطا کرنے والی وہ ذاتِ اقدس تو ہر وقت دینے کے لیے تیار ہے لیکن ہمارے پاس ہی لینے کے لیے وقت نہیں ہے۔ کاش کہ ہمیں اس بات کی سمجھ آ جائے ورنہ جب مرنے کے بعد سمجھ آئے گی تو بہت دیر ہو چکی ہو گی ۔ہمیں ابھی سے سوچنا ہو گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
97%
ٹھیک ہے
2%
کوئی رائے نہیں
2%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved