آج کل معاشرے میں بال کٹوانے کے جو نئے طریقے رائج ہیں ان کے بارے میں جناب رسول کریم ﷺ نے کیا فرمایا ہے ؟ایمان افروز حدیث شریف
  14  مارچ‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے مخلد بن یزید نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عبیدا للہ بن حفص نے خبر دی ، انہیں عمروبن نافع نے خبردی ، انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع نے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے ” قزع “ سے منع فرمایا ، عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نےنافع سے پوچھا کہ قزع کیا ہے ؟ پھر عبیداللہ نے ہمیں اشارہ سے بتایا کہ نافع نے کہا کہ بچہ کا سر منڈاتے وقت کچھ یہاں چھوڑدے اورکچھ بال وہاں چھوڑ دے ۔( تو اسے قزع کہتے ہیں ) اسے عبیداللہ نے پیشانی اورسرکے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کرکے ہمیں اس کی صورت بتائی ۔ عبیداللہ نے اس کی تفسیر ےوں بیان کی یعنی پیشانی پر کچھ بال چھوڑدیئے جائیں اور سر کے دونوں کونوں پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں پھر عبیداللہ سے پوچھا گیا کہ اس میں لڑکا اورلڑکی دونوں کا ایک ہی حکم ہے ؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ نافع نے صرف لڑکے کا لفظ کہا تھا ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ میںنے عمرو بن نافع سے دوبار ہ اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی کنپٹی یا گدی پر چوٹی کے بال اگر چھوڑ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن ” قزع “ یہ ہے کہ پیشانی پر بال چھوڑ دیئے جائیں اورباقی سب منڈ وائے جائیں اسی طرح سر کے اس جانب میں اور اس جانب میں۔’’صحیح بخاری ۔۔ باب القزع ‘‘ پھر عبیداللہ نے ہمیں اشارہ سے بتایا کہ نافع نے کہا کہ بچہ کا سر منڈاتے وقت کچھ یہاں چھوڑدے اورکچھ بال وہاں چھوڑ دے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
88%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
4%
پسند ںہیں آئی
8%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved