کیا سنی لڑکی دوسرے مسلک میں نکاح کر سکتی ہے؟
  18  مارچ‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
یاسمین منظورنے مفتی شبیرقادری سے سوال کیاکہ کیا ایک سنی مسلک کی لڑکی کسی دوسرے مسلک کے آدمی سے نکاح کر سکتی ہے؟ جواب:اگر کوئی شخص قرآن پاک میں تحریف کا قائل نہیں بلکہ قرآن کریم کو محفوظ اور خدا کا کلام مانتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ازواج مطہرات کا گستاخ نہیں، امہات المؤمنین کو اہل بیت میں شمار کرتا ہے، چاروں خلفائے راشدین کو برحق مانتا ہے ہو اور ان کے جنتی ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے، سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد چوتھا خلیفہ مانتا ہے اور کسی صحابئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی گلوچ نہیں کرتا تو ایسے شخص سے سنی لڑکی نکاح کر سکتی ہے۔ اگر اس کے عقائد مذکورہ بالا عقائد کے برعکس ہوں تو وہ شخص بد عقیدہ ہے، اور صحیح العقیدہ سنی لڑکی کا نکاح بدعقیدہ سے نہیں ہو سکتا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
85%
ٹھیک ہے
3%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
11%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved