پاکستان میں گرفتار 9 بھارتی جاسوس جوپاکستانی حکومتوں کی سرپرستی کا شکار ہوگءے
  11  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاک فوج کی ملٹری عدالت نے لگ بھگ ایک سال قبل بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو سزائے موت سنادی ہے‘ لیکن یہ کوئی پہلا بھارتی جاسوس نہیں جسے پاک سرزمین کے خلاف اس کے ناپاک عزائم کی سزا ملی ہو۔پاک فوج کے شعبہ نشرو اشاعت آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یاد یو کو سزائے موت سنا دی گئی ہے، کلبھوشن کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے پاکستان میں جاسوسی، انتشار پھیلانے پر سزا سنائی گئی، مقدمہ آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں چلایا گیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادوکو سزائے موت سنا دی گئی کلبھوش یادو کو سزائے موت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پاکستان آرمی ایکٹ 1952کے سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایک 1923 کے سیکشن 3 کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں بھارت سے پاکستان بھیجے جانے والے جاسوسوں کی فہرست پر جنہیں یہاں کے سیکیورٹی اداروں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار کیا۔ کلبھوشن یادو بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کو 3مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ جس کے بعد بھارت نے تسلیم کیا تھا کہ بلوچستان سے پکڑا جانے والا جاسوس کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کاافسر تھا، بحریہ سے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لی تھی۔ گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادیو کے گناہوں کے اعتراف پر مبنی ایک ویڈیو بیان منظر عام پر لایا گیا تھا ، جس میں کلبھوشن نے انکشاف کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسند بلوچوں سےملاقاتیں کرتا رہا ہے اوران ملاقاتوں میں اکثرافغانستان کی انٹلی جنس کے اہلکاربھی موجود ہوتے تھے۔کلبھوشن یادیو نے 1987میں بھارت کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی پونا جوائن کی، یکم جنوری 1991میں انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا 2001میں بھارتی نیول انٹیلی جنس میں شامل ہوا اور 2013 سے ’’را‘‘کے لئے کام کررہا تھا جبکہ 2022میں ریٹائر ہونا تھا لیکن قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ہ بھارتی جاسوس نے دوران تفتیش تمام الزامات کو تسلیم کیا تھا، کلبھوشن یادیو نے کراچی اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا اعتراف کیا تھا جبکہ یہ بھی اعتراف کیا تھا وہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘کے مشن پرتھا۔ رویندرا کوشک رویندرا کوشک نامی بھارتی خفیہ ایجنٹ سنہ 1975 میں 23 سال کی عمر میں پاکستان آیا۔ اسے اردو اور پنجابی زبان سکھا کر اور یہاں کے بود وباش کی بہت اعلیٰ تربیت دے کر بھیجا گیا تھا جس کی بنا پریہاں اس نے کئی سال ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے گزارے۔نبی احمد شاکر کی خفیہ شناخت کے ساتھ رویندرا نے یہاں شادی بھی کرلی اور اس کے بچے بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ یہاں سے کافی خفیہ معلومات بھارت بھیجنے میں کامیاب رہا تھا تاہم 1983 میں یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آیا۔رویندرا کو سزائے موت سنائی گئی تھی تاہم بعد میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ طویل عرصے مختلف جیلوں میں قید رہا اور بالاخر 1999 میں ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوکر ملتان جیل میں اپنے انجام کو پہنچا۔ سربجیت سنگھ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے افسر سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور اور فیصل آباد میں سنہ 1990 میں ہونے والے بم دھماکوں میں 14 افراد کے جاں بحق ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔سربجیت سنگھ لاہور کی جیل میں قید تھا جہاں 26 اپریل سنہ 2013 کو جیل میں اس کے ساتھیوں نے اس پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور چھ دن اسپتال میں زیرِ علاج رہ کر دم توڑ گیا سرجیت سنگھ سرجیت سنگھ کو اسی کی دہائی میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور سنہ 1985 میں آرمی عدالت نے اسے سنہ 1989 میں سزائے موت سنائی تھی۔ تاہم اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اس کی رحم کی اپیل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ سربجیت سنگھ لگ بھگ تیس سال پاکستان کی جیل میں گزار کر 73 سال کی عمر میں واپس بھارت لوٹ گیا‘ جہاں اس کے ملک میں آرمی اس کے اہلِ خانہ کو محض 150 روپے ماہانہ وظیفہ دے رہی تھی۔ رام راج رام راج نامی بھارتی جاسوس ایک پیشہ ور فوٹو گرافر تھا اور پاکستان بھیجے جانے سے قبل وہ 18 سال تک خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوسوں کے لیے گائیڈ کا کام کرتا رہا۔ پاکستان میں 18 ستمبر2004 کوداخل ہونے والے رام راج کو پاکستان کی انٹلی جنس ایجنسیز نے اگلے ہی دن دھر لیا تھا ‘ یہاں کی عدالتوں نے اسے چھ سال کی سزا سنائی۔ پاکستان میں آٹھ سال اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد جب وہ بھارت واپس گیا تو اسے پاکستان بجھوانے والے بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسران نے اسے پہچاننے سے بھی انکارد کیا۔ بلویر سنگھ بلویر نامی بھارتی جاسوس سنہ 1971 میں پاکستان میں داخل ہوا اور 1974 میں گرفتار ہوا۔ بلویر کو 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سنہ 1986 میں جب بلویر واپس بھارت گیا تو اس نے اپنی خفیہ ایجنسی پر قید کے دنوں میں کسی بھی قسم کی مدد نہ کرنے کے سبب بھارتی عدالت میں مقدمہ درج کرادیا۔ عدالت نے بھارتی ایجنسی کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اسے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا جو کہ آج تک ادا نہیں کیا گیا۔ ست پال ست پال کو سنہ 1999 میں بھارتی خفیہ ایجنسی نے کارگل جنگ کے زمانے میں پاکستان بھیجا جہاں اسے خفیہ اداروں نے گرفتار کرلیا تھا۔ ست پال ایک سال پاکستان کی جیل میں قید رہنے کے بعد چل بسا۔ اس کی میت واپس بھارت بھیج دی گئی تھی۔ کشمیر سنگھ کشمیر سنگھ نامی جاسوس کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے گرفتار کیا تھا تاہم حکومتِ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی نیت سے اسے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کرکے واپس بھارت روانہ کردیا تھا۔ کشمیر سنگھ کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے حکم پر معافی دی گئی تھی۔ رام پرکاش انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق رکھنے والے رام پرکاش کو 1994 میں پاکستان بھیجا گیا‘ وہ پیشے کے اعتبار سے فوٹو گرافر تھا۔ سنہ 1997 میں بھارت واپس جاتے وقت وہ گرفتار ہوا اور اسے 10 سال کی سزا سنائی گئی۔تفتیش کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں جاسوسی کی نیت سے اس نے 75 بار پاک بھارت بارڈر کراس کیا تھا۔ جولائی 2008 میں رہا ہو کر رام پرکاش واپس بھارت چلا گیا۔بھارتی سفارت کار پاکستان میں دہشت گردی کروانے میں ملوث اس کے علاوہ بھی متعدد افراد کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے مختلف ادوار میں حراست میں لیا اور وہ یہاں سزائیں بھی کاٹتے رہے جبکہ بھارت کا سفارتی عملہ بھی جاسوسی کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
86%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
14%




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved