پڑوس میں لگی آگ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے
  11  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ایک چوہا اپنے بل سے باہر جھانکتا ہے تو کسان اور اس کی بیوی ایک ڈبہ کھول رہے ہوتے ہیں، وہ دیکھتا ہے تو ڈبے کے اندر ایک چوہا دانی نکلتی ہے، وہ بہت پریشان ہو جاتا ہے۔ وہ جاتا ہے اور جا کر سب کو بتاتا ہے، پہلے ڈیرے پر نکلتا ہے، جا کر ایک مر غی کو بتاتا ہے کہ میری مدد کرو کسان اور اس کی بیوی گھر میں ایک چوہا دانی لے آئے ہیں وہ مجھے مار دیں گے، مرغی کہتی ہے کہ بھائی مجھے تنگ مت کرو میرا اس سے بھلا کیا لینا دینا ہے؟ وہ بیچارہ دنبے کے پاس جا کر اس کو بتاتا ہے کہ میری مدد کرو کسان اور اس کی بیوی ایک چوہا دانی لے آئے ہیں اور بہت جلد مجھے مار دیں گے۔ د نبہ بھی آگے سے اسی طرح بولتا ہے کہ تو میں کیا کروں، تمہارا مسئلہ ہے جا کر خود سلجھاؤ، مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں۔ چوہا روتے ہوئے گائے کے پاس جاتا ہے اور اس کو کہتا ہے کہ پلیز میری مدد کرو کسان اور اس کی بیوی جا کر ایک چوہے دانی لے آئے ایں اور وہ مجھے مار ڈالیں گے۔ گائے کہتی ہے کہ میرے پاس تمہارے لیے فالتو وقت نہیں ہے، اپنے مسئلے خود حل کرنا سیکھو۔ وہ بیچارہ راتے ہوئے واپس گھر کے اندر چلا جاتا ہے، اپنے بل میں گھس کر سو جاتا ہے۔ رات کو چوہے دانی کے کھڑاک کی زوردار آواز آتی ہے، کسان کی بیوی خوشی سے چھلانگیں لگاتی ہوئی آتی ہے، دیکھتی ہے تو اس میں ایک بہت بڑے زہریلے ناگ کی دم اڑ گئی ہوتی ہے اس لیے آواز آتی ہے۔اس سے پہلے کہ وہ بھاگ سکتی، ناگ اس کو ڈس لیتا ہے۔ کسان آتا ہے دیکھتا ہے، تو جلدی سے اپنی بیوی کو ہسپتال لے کر جاتا ہے، واپسی پر اس کی طبیعت بہتر کرنے کے لیے اس کو یخنی پلانے کے لیے جا کر مرغی کو زبح کر دیتا ہے، بیوی کی طبیعت مزید خراب ہوتی جاتی ہے، اس کی تیمارداری کے لیے بہت لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، ان کی خاطر توازہ کے لیے اس کو اپنا د نبہ بھی قربان کرنا پڑتا ہے اور تب بھی اس کی بیوی کی جان نہیں بچ پاتی اور وہ دنیا سے چل بستی ہے، بیوی کی موت پر بہت لوگ آتے ہیں، وہ جنازے پر کھانے کے لیے اپنی گائے کو بھی ذبح کر دیتا ہے۔ اور آکر میں وہ ایک چوہا بچ جاتا ہے جو اتنا پہلے ان سب کو کہنے گیا تھا کہ گھر میں چوہا دانی آگئی ہے، میری مدد کرو اور سب نے بولا کہ ان کا مسئلہ نہیں تھا۔ جب کسی کو مدد کی ضرورت ہو تو اس لیے کہ آپ کے پاس وقت نہیں ہے، اس کی مشکل کو نظر انداز مت کرو، کسی کی کایا پلٹتے کوئی وقت نہیں لگتا۔۔۔۔سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ۔۔۔۔ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئیے۔ پڑوس میں لگی آگ آپکے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved