وطن عزیز کےلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنےوالوں کی باہمت بیویاں
  11  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی بیگمات اُن کے بعد کی زندگی جس عزم وہمت اور جوانمردی سے گزارتی ہیں‘ وہ ان کی بلند ہمتی کی عکاس ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ باپ کا شفقت بھرا ہاتھ اور خاوند کی حفاظت کا حصار‘ یہ دنیا کی وہ قیمتی چیزیں ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ لیکن ان سے محروم ہو کر زندگی گزارنا اور معاشرے کے لئے مثبت کردار بن کے ابھرنا اُن شہیدوں کے لہو کو رائیگاں نہ جانے دینے کا وعدہ اور عزم ہے۔ اسی طرح کی ایک بیوہ خاتون صفیہ بتول جن کے شوہر طاہر عباس 2011 میں شادی کے چارسال بعد وانا میں طالبان کا مقابلہ کر رہے تھے کہ فائرنگ سے وہ اور اُن کے دو ساتھی پہلے زخمی ہوئے اور پھر جامِ شہادت نوش کر گئے۔ طاہرعباس کا تعلق 29 ایف ایف سے تھا۔ ایک ہی بیٹی تھی چار سال کی ۔ علینہ بتول جو آج تک اپنے پاپا کی تصویر لے کر اُنہیں اپنی گڑیوں کے درمیان رکھتی ہے اور اُن کو اپنے کھیل میں اس طرح شامل کرتی ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ صفیہ بتول‘ علم سے بے بہرہ نہیں ہیں مگر اُن کی گفتگو اور زندگی کے لئے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد کے فیصلے اتنے فہم و فراست کے حامل تھے کہ یقین نہیں آتا کہ وہ مکتب کا الف ب بھی نہیں جانتیں ۔ انہوں نے عزت سے معاشرے میں اپنا مقام بھی رکھا اور رشتے بھی نبھا رہی ہیں۔ بیٹی کی اچھی تعلیم و تربیت کی خاطر اور طاہر عباس شہید کے خواب کو پورا کرنے کا عزم لے کر اُنہوں نے سرگودھا میں مکان خرید لیا اور وہاں بیٹی کو ایک پرائیویٹ عسکری سکول میں داخل کروا دیا۔صفیہ بتول کے اندر کی عورت بڑی حوصلہ مند اور صوفی طبیعت کی مانند ہیں ۔ عباس کا خواب تھا کہ میری بیٹی فوج میں جائے، اب میں اُس خواب کی تعبیر کے لئے اپنی تمام زندگی تیاگ دوں گی تا کہ شہید اور اس وطن کو یہ پتہ چلے کہ قربانیاں کہیں خون کی دی جاتی ہیں اور کہیں زندگی خواہشات و جذبات کو تیاگ کر بھی دی جاتی ہیں۔ میں وہ قربانیاں دوں گی۔ اے وطن کے شہیدو تم پر سلام ہے مگر جو اپنے اہل و عیال تمام عمر کے لئے تم زندگی کی مشقتوں اور تلخ حقیقتوں کے لئے چھوڑ جاتے ہو وہ بھی قربانیوں کی لازوال داستانیں مرتب کرتے ہیں۔ صفیہ ایک سمجھدار خاتون ہیں وہ آرمی پبلک سکول میں آیا کی نوکری کرنا چاہتی ہیں تا کہ اُن کی بیٹی بھی وہاں داخل ہو جائے اور وہ زندگی کو مصروف کر کے شوہر کی شہادت کو خراجِ تحسین پیش کر سکیں۔ ثمینہ مظہر کے شوہر ایک دلیر سپاہی تھے۔ 2004 میں وانا میں شہید ہوئے۔ ایک بیٹی اور بیٹا لے کر شہید کی بیگم ثمینہ نے زمانے بھر کی مشکلات برداشت کیں۔ اسے مجبوراً کچھ عرصے دارالامان بھی رہنا پڑا۔ مشکلات بڑھ گئیں تو اپنے شوہر کی یونٹ میں لاہور پہنچی تو بریگیڈ کمانڈر نے 2011 میں کوارٹر دیا اور سنٹر میں آیا کی نوکری بھی فراہم کر دی تاکہ وہ باعزت طور پر کام کر کے اپنے بچوں کی پرورش کر سکے‘ افواجِ پاکستان جو اپنے سپاہیوں سے بیٹوں کی طرح اور اُن کے گھر والوں سے اپنے خاندان کی طرح پیار کرتی ہیں نے اُسے کوارٹر دیا۔۔۔ آفرین ہے ثمینہ پر‘ کہ وہ اپنے خاوند کی شہادت پہ نازاں ہے اور فخر کرتی ہے کہ جب دنیا میں اس کا کوئی بھی نہیں رہا تو پاک فوج نے ہی اسے سنبھالا ہے۔ شہید کی بیوہ ہونے کے ناتے جو عزت اور مقام فوج اور قوم نے اسے دیا ہے وہ اس پر بھی ناز کرتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں ہماری افواج سینہ تانے ان کا مقابلہ کر رہی ہیں وہاں پاکستان کی پیراملٹری فورسز اور پولیس فورس بھی قربانیاں دے کر وطن کی سالمیت کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ پولیس فورس میں ایسے ہی ایک شہید اسلم چودھری ایس پی بھی ہیں جنہیں دہشت گردوں نے کراچی میں نشانہ بنایا ہے۔ 1993میں جب اپنی پھوپھو کی بیٹی سے نکاح ہوا تو اس وقت وہ کراچی میں SHOکی ڈیوٹی کر رہے تھے۔ بیگم نے تو گھر کے آنگن سے قدم نکالا تو سسرال میں رکھا، اس کے علاوہ باہر کی دنیا کا اُنہیں کوئی خاصاادراک نہ تھا۔ یوسف زئی پٹھان قبیلے کا رکھ رکھاؤ اُن کی بیگم کے انداز سے بھی اُسی طرح جھلکتا تھا جیسے اسلم شہید کے کردار و گفتار سے۔ چودھری اسلم شہید کی آواز کا دبنگ اور رُعب ہی تھا کہ دہشت گرد بھی اُن سے اُسی طرح خوف کھاتے تھے جس طرح سے موت ایک مومن سے خوف کھاتی ہے کہ جسے مرنے میں زندگی کا سرور ملتا ہے۔چودھری اسلم کے چار بچوں میں سے جاذل خان اُن کی نہ صرف شبیہہ ہے بلکہ طورو اطوار میں بھی اپنے باپ کا نقش قدم نظر آتا ہے۔ چودھری اسلم سب سے زیادہ عہدو پیمان بھی جاذل خان سے ہی کرتے تھے۔ مسز اسلم نے کہا کہ میری زندگی کا جنگی مشن اسلم شہید کے ساتھ شادی کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آگئی کہ ایسا مرد کسی ماں نے بھی پیدا نہیں کیا ہو گا جو کہتا ہے کہ میں شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال کر اُس کی انتڑیاں بھی باہر نکال دوں گا۔ ایک جنون ایک عشق تھا چودھری اسلم شہید کو اپنے وطن سے اور ایک عناد تھا دہشت گردوں سے۔ وہ کہتے تھے کہ جو ہمارے معصوم بچوں بڑوں اور بوڑھوں کو ایک ہی دھماکے میں اُڑا دیتے ہیں اُن کے ساتھ مقابلہ کر کے مٹا دیں اور خود بھی خاک بسر ہو جائیں۔ نصیر اللہ بابر کے دور میں جب شہید چودھری اسلم نے 1994 میں کامیابی سے پہلا آپریشن کیا تو اُن کے چہرے کی چمک اور چال کی تمکنت دیدنی تھی۔ اُس وقت نورین کواندازہ ہوا کہ میں کسی sameenaمعمولی انسان کی بیگم نہیں۔ انہیں احساس ہو گیا کہ چودھری اسلم کو کوئی بھی طاقت اپنے اٹل ارادوں اور وطن کی محبت سے نہیں روک سکتی۔ پھر نورین اسلم بھی اپنے جذبوں میں وہی ولولہ اور دشمنانِ دین کے خلاف جذبہ و جنون دہکتا ہوا محسوس کرنے لگیں۔چودھری اسلم شہید نے اپنے اوپر نیند اور زندگی کی سہولتیں حرام کر رکھی تھیں۔ وہ کہتے تھے یہ سب کچھ میرے بچوں کے لئے ہے، وہ ولی جیسا انسان تھا۔اسلامی عرفان اور اُس کا تصوف چودھری اسلم کی ذات کا آئینہ تھا۔ وہ ہمیشہ گھر والوں کو پریشانی نہ لینے پر لمبے لیکچر دیتے۔ ایمان کو مضبوط رکھنے اور اُن کے لئے اپنے مقصد میں کامیابی کی دعا کرتے دراصل وہ اپنی بیگم کی ایک شہید کی نڈر اور عزم و ہمت والی بیگم کی طرح تربیت میں مصروف تھے۔ کئی کئی دن ان کی شکل دیکھنے کو اور آواز سُننے کو نہ ملتی تو جاذل خان فون کرتا بابا میں اُداس ہو رہا ہوں تو نجانے لمحہ بھر میں کہاں سے آجاتے اور بچوں کو پیار کرتے۔ وہ بچوں کی کوئی بات نہ ٹالتے مگر یہ سبق ہر گفتگو میں دیتے کہ مجھے ملک کی حفاظت کرنی ہے۔ اپنی شہادت سے تین دن پہلے قرآن اُٹھا لائے اور تینوں بیٹوں سے پوچھا کہ کیا تم پاکستان کی اس طرح ہی ایک پولیس آفیسر بن کر خدمت کرو گے تو بیگم نے کہا بچوں سے قرآن تو مت اُٹھوائیں،وہ ابھی بہت چھوٹے ہیں تو انہوں نے کہا کہ جب چودھری اسلم قائدِ اعظم کے وطن کی مٹی کا قرض دار ہے اور یہ قرض لہو دے کر اور اس ملک میں دہشت گردوں کو ختم کر کے چکانے کا مصمم ارادہ کر چکا ہے تو اُس کے یہ بیٹے بھی یہی وعدہ کریں گے اور پھر جب بچوں نے باپ سے وعدہ کر لیا تو چودھری اسلم نے تینوں بیٹوں کی کشادہ پیشانی کا بوسہ لیا اور بیگم کو کہا یہ بیٹے میرا اور تمھارا ہی نہیں اس ملک کا فخر بنیں گے۔اب میں اپنی روح کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں۔میرے دل پہ ایک بوجھ تھا اُتر گیابس تم ان کی فکر نہ کرنا بس تم نے ان کی تربیت میں کوئی کمی کسی بھی ڈر کی وجہ سے نہیں چھوڑنی۔ زندگی کا دائرہ خوف و ہراس سے تنگ ضرور ہو رہا تھا مگر اس بڑھتے ہوئے طوفان کو کسی میں بھی روکنے کا دم نہیں تھا۔چودھری اسلم اُن سے نہ صرف صدقہ خیرات کرنے کی استدعا کرتے بلکہ کہتے کہ مجھے آپ کی زبان پر بڑا مان اور یقین ہے اس لئے ہمیشہ مجھے دُعاؤں اور خوشدلی سے رُخصت کیا کرو اور اگر میں شہید ہو جاؤں گا تو شہید کی بیگم کہلاؤ گی۔ چودھری اسلم نے کہا کہ ایک دن تم سب دیکھنا یہ پاکستان میرے لئے روئے گا اور میرے ملک کا ایک ایک فرد میرے مقصد کا علم لے کر گھروں سے نکل پڑے گا۔ چودھری اسلم شہیدنے 27 عمرے ادا کئے تھے۔ ایک مرتبہ بیگم نے خُدا کے گھرکے سامنے اُن سے کہا کہ آپ کیوں نہیں ہمارے ساتھ ایک پر سکون زندگی گزارتے اور دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کا ارادہ کیوں ترک نہیں کر دیتے تو چودھری اسلم نے خانہ کعبہ کے سامنے بلند آواز میں کہا۔ اے میرے پرور دگار اگر میں اپنے کردار و گفتار ،اپنی سوچ اور کوششوں میں اپنے وطن، محبت اور تیری رضا حاصل کرنے میں کہیں بھی کھوٹا اور جھوٹا ہوں تو میری موت کو سب کے لئے عبرت ناک بنا دینااور اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتے اُن کی بیگم اُن کے جنون سے خوفزدہ ہو کر وہاں سے ہٹ گئیں۔ چودھری اسلم شہید نے اپنے بچوں کو کہا کہ دنیا میں اپنا مقام بنا کر میرے پاس آنا اگر تم میرے نام پر ہی اکتفا کر کے وہاں آؤ گے تو میں تمہیں نہیں ملوں گا۔ مجھے تم تینوں میں چودھری اسلم کی غیرت و حرمت،جذبہ اور جنون چاہیے۔چودھری اسلم شہید تو صدقوں کی خیرات تھے۔ آخری دم تک اُن کی بیگم اُن کو مشن پر بھیج کر صدقہ ادا کرتیں رہیں۔ اُن کا عجیب روپ تھا۔ دوستانہ،مشفقانہ،فقیرانہ۔ اُن کا ہم پلہ اب اُن کی بیگم کو کوئی نظر نہیں آتا۔وہ ایک عجب بند کتاب تھے۔ انہوں نے حقیقتوں کی ضرب و تقسیم میں زندگی گزار دی۔نورین نے اب زندگی اپنے شوہر کی نگاہ سے دیکھنی شروع کر دی ہے۔ اُن کی آواز میں وہی دبنگ اور رُعب موجود ہے جو دشمنوں کے لئے للکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بیوہ نہیں ہے۔وہ ایک با ہمت مجاہدہ ہیں اور اُن کے لئے زندگی کے خطرات اب اس لئے کوئی معنی نہیں رکھتے کہ اب تلوار اُنہوں نے اپنی نیام سے نکال کر ہاتھ میں پکڑ لی ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں ہماری افواج سینہ تانے ان کا مقابلہ کر رہی ہیں وہاں پاکستان کی پیراملٹری فورسز اور پولیس فورس بھی قربانیاں دے کر وطن کی سالمیت کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ آج کے اس المناک دور میں جہاں چار اطراف صرف مسلمان کے گرد دائرہ تنگ کیا جا رہا ہے۔ وہاں چودھری اسلم شہید،طاہر عباس شہید اور مظہر عباس شہید جیسے مسلمانوں کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے شہداء شان سے جیے اور شان سے رخصت ہوئے مگر اس آنے اور جانے کے درمیان کی حقیقتوں کو اگر ہم بھول جائیں گے تو ان شہیدوں کا نام تو زندہ رہے گا مگر ہمارا نام و نشان بھی نہ ملے گا۔ شہید کے خون کی خوشبو میں جنت کی مہک ہوتی ہے اس کی خوشبو تو شہید کے بچوں کے جسموں سے بھی آنے لگتی ہے۔ اس خوشبو کی پذیرائی ہمیں کرنی ہے جن کے لئے یہ اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ان تمام شہداء کی بیگمات اپنے بچوں کو شہیدوں کی وصیت کے مطابق تعلیم مکمل کرانے کے بعداُنہیں ایک تنومند،باشعور اور ستاروں پہ کمندیں ڈالنے والا مسلمان اور شہیدوں کے خوابوں کی تکمیل بنا کرپروان چڑھائیں گی اور جو مشن ان شہیدوں کا تھا اُس کو لے کر آ گے چلیں گی۔اللہ ہمارے ان چراغوں کو طوفانی ہواؤں سے محفوظ رکھے ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved