’’خانہ کعبہ کو چھوا تو آنکھیں اشکبار ہوگئیں‘‘
  12  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
نرگس خان پاکستان ویمن ہاکی ٹیم کی کپتان رہ چکی ہیں۔ انھوں نے پاکستان کی طرف سے قومی ہاکی ٹیم میں 1983ء میں شمولیت اختیار کی۔ جب پاکستان کی ویمن ہاکی کی تاریخ کی پہلی ہاکی ٹیم بنی۔ انھوں نے پاکستان کے لیے 1980-1994ء تک انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک ہاکی کھیلی اور آئیرلینڈ، چائینہ، ملائشیا اور زمبابوے کے خلاف انٹرنیشنل میچ کھیلے۔انہیں لاہور پاکستان سمیت ابو ظہبی، برمنگھم میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن حج اور عمرہ نہ کرسکی اس کے لیے ایک مضبوط ارادہ اور مذہبی رجحان درکار ہوتا ہے اور مالی وسائل بھی، اور محرم کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ ایسے ہی زندگی کی ہاف سینچری ہوگئی اور اچانک خدا کی طرف سے کال آئی۔ زندگی اپنے لگے بندھے ڈھنگ سے گزر رہی تھی کہ ایک دن بھائی نے فون کر کے بتایا کہ اس بار وہ مجھے بھی اپنے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لئے لے جانا چاہتے ہیں۔ عمرہ کے لئے آمادگی ظاہر کرنے کے بعد میرے اندر ایک حیرت انگیز تبدیلی آئی اور میں نے باقاعدہ عمرہ کی تیاری شروع کردی۔ نمازوں میں باقاعدگی آتی گئی اور اپنی حیثیت کے مطابق پیسے جمع کرنے شروع کیے۔ سات مئی 2014ء کو سعودی ایئرلائن کی دوپہر ساڑھے بارہ بجے کی لاہور سے جدہ کے لیے فلائٹ تھی۔ تین گھنٹے پہلے علامہ اقبال ایئرپورٹ پہنچی، سارے گھر والے ایئرپورٹ پر الوداع کہنے آئے ۔ ایئرپورٹ پر غیر معمولی رش دیکھ کر ہوش اڑگئے اورفلائٹ مس ہوتی ہوئی نظر آئی۔ انتہائی مشکل سے بورڈنگ کارڈ تک رسائی ملی۔ سعودی ایئرلائن کا رویہ حیران کن تھا۔ بار بار درخواست کے باوجود پانی تک فراہم نہ کیا گیا۔ میں جہاز میں دوران سفر وہ تمام دعائیں پڑھتی اور یاد کرتی رہی جو عمرہ کے دوران پڑھنی تھیں۔ راستے میں خراب موسم کی وجہ سے پرواز کئی دفعہ ناہموار ہوئی تو بے اختیار کلمہ طیبہ زبان پر آیا یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب انسان موت اور زندگی کے درمیان ہوتا ہے۔ ٹھیک چار گھنٹے کے بعد اعلان ہوا کہ ہم اب جدہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں۔ پرواز نے لینڈ کیا اور ہم نے سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھا۔ یہیں عصر کی نماز پڑھی اور انتظار کرنے لگے کہ کب امیگریشن کی کارروائی شروع ہو اور ہم ہوٹل کے لیے روانہ ہوں۔ ہم سب گھر سے نیت کرکے اور احرام باندھ کر نکلے تھے کہ پہنچ کر عمرہ کرنا ہے، دو گھنٹے سے زیادہ وقت امیگریشن میں لگا۔ ہم لوگ ایئرپورٹ سے نکل کر باہر بیٹھ گئے کچھ دیر بعد ہم جدہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ڈھائی گھنٹے میں ہم مکہ کی حدود میں داخل ہوئے، دور سے بلند و بالا کلاک ٹاور نظر آگیا۔ مکہ ایک پہاڑی شہر ہے اونچے اونچے پہاڑوں پر مقامی لوگوں کے گھر دیکھ کر مری کی یاد تازہ ہوگئی۔ رات کا وقت تھا بس نے رش کی وجہ سے کافی دیر رک رک کر ہوٹل پہنچایا۔ ہمارا ہوٹل بالکل حرم شریف اور کلاک ٹاور کے سامنے مین روڈ پر خانہ کعبہ سے چند گز کے فاصلے پر تھا۔ ٹو سٹار ہونے کے باوجود حرم شریف کے سامنے ہونے کی وجہ سے بہت مہنگا تھا۔ ساڑھے بارہ بجے کے قریب ہم عمرے کے لیے نکل پڑے مکہ کا موسم کافی خوشگوار تھا اور بازاروں اور گلیوں میں بہت رونق تھی۔ حقیقت میں ہم ہوٹل سے حرم شریف کے لیے روانہ ہوئے تو دل زور زور سے دھڑک رہا تھا کیونکہ آج تک کعبہ کا رخ کرکے نماز ادا کی اور اب حقیقت میں خانہ کعبہ نظر آنے والا تھا۔ دل کی عجیب کیفیت تھی۔ باوجود شدید تھکاوٹ کے عمرہ آج ہی کرنے کا جوش اور ارادہ تھا۔ ہم حرم شریف میں داخل ہوئے میرے دل کی کیفیت عجیب تھی، بے اختیار خانہ کبعہ کی طرف کھچا چلا جا رہا تھا، سنا تھا کہ خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے وہ اللہ قبول کرتا ہے، میں نے اپنی دلی خواہشات اور دعائوں کی لسٹ اپنے دل میں بنا کر رکھی تھی۔ ہم کافی دیر چلتے رہے اور آخر کار وہ گھڑی آپہنچی جس کا ہر مسلمان کو انتظار ہوتا ہے اور حسرت بھی کہ خانہ کعبہ کو دیکھنے اور عمرہ کرنے کی سعادت نصیب ہو۔ میری بھی دلی خواہش تھی جو اللہ نے پوری کی، جب میری نظر خانہ کعبہ پر پڑی تو دل کی کیفیت بیان سے باہر تھی، وہ تمام حسرتیں اور دعائیں زبان پر آگئیں، طواف کیا اور اس کے بعد صفا مروہ کے سات چکر تھے جو کافی محنت طلب اور پہلی دفعہ عمرہ کرنے والوں کے لیے ذرا مشکل تھے۔ ہم لوگ جہاز کے سفر کے بعد جدہ سے مکہ کے سفر سے پہلے ہی بہت تھک چکے تھے لیکن میری ضد تھی کہ آج ہی عمرہ کرنا ہے۔ دو نفل ادا کرکے بال کاٹے اورخانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر خوب دعائیں اور اللہ سے گلے شکوے کیے۔ رات پونے تین بجے عمرہ مکمل کرکے واپس ہوٹل کی طرف چل پڑے، رات کے تین بجے ہوٹل پہنچ کر کچھ دیر آرام کیا اور پھر فجر کی نماز حرم شریف میں ادا کی، نماز کے بعد خانہ کعبہ کا رخ کیا۔ مجھے بھی خانہ کعبہ کو چھونے کی سعادت نصیب ہوئی، کافی کوشش کے بعد جب میں خانہ کعبہ تک پہنچی تو خانہ کعبہ کو چھوتے ہی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آرہا تھا، میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ مجھے زندگی میں کبھی یہ موقع بھی مل سکتا ہے، خدا جس کو چاہتا ہے اسے اپنے گھر بلا لیتا ہے۔ پندرہ بیس منٹ تک خانہ کعبہ پر ہاتھ رکھ کر دعائیں کیں دل کی جو جو حسرتیں تھیں اللہ کے سامنے بیان کیں۔ اگلے دن جب بیدار ہوئی تو اپنی ٹانگوں پر کھڑی ہونے کے قابل نہ تھی، ٹانگوں میں شدید درد اور پنڈلیوں میں Cramp پڑچکی تھیں، مجھے اپنا ہاکی کا دور یاد آگیا جب کھیل کر اسی طرح ٹانگوں میں کریمپ پڑجاتے تھے۔ مکہ میں دوسرا دن تھا، دل میں آیا کہ اللہ سے دعا کروں کہ مکہ میں بارش ہوجائے، شاید قبولیت کی گھڑی تھی دعا کرکے میں تو بھول گئی لیکن مکہ میں موسلادھار بارش شروع ہوچکی تھی اور ساتھ ژالہ باری بھی۔ اتنی بارش ہوئی کہ حرم شریف تک جانے والے راستے میں ٹخنوں تک پانی کھڑا ہوگیا اورموسم انتہائی خوشگوار ہوگیا۔ رات کو بھی گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی مجھے اپنی دعا پوری ہونے کی خوشی تھی۔ اب اگلے دن ہمیں مدینہ کے لیے روانہ ہونا تھا مکہ میں مختصر قیام کا افسوس تھا لیکن مدینہ میں چالیس نمازوں کا پروگرام تھا۔ کہتے ہیں جو مدینہ کی مسجد نبوی میں اللہ کی رضا کے لیے چالیس نمازیں ادا کرے جہنم کی آگ اس پر حرام کردی جاتی ہے۔ نبی کریمؐ کے زمانے سے موجود پہاڑ جوکہ خانہ کعبہ کے قریب ہیں ان کو ہوٹلز بنانے کے لیے دھڑا دھڑ کاٹ کر ختم کیا جارہا ہے اور اس کی جگہ تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہے۔ مکہ میں قیام کے دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ عرب روایات تیزی سے بدل رہی ہیں۔ مقامی لوگ لالچی اور کمرشل ہوچکے ہیں انہیں لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کی بجائے پیسہ بنانے میں زیادہ دلچسپی ہے۔ عمرے کے دوران مجھے بتایا گیا کہ حرم شریف کو جانے والا راستہ لوگوں کے بے پناہ ہجوم کی وجہ سے تنگ پڑگیا ہے۔ یہاں مزید ہوٹلز تعمیر کیے جا رہے ہیں، مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد جب میں نے خانہ کعبہ پر نظر ڈالی تو مجھے ایسا لگا کہ سعودی عرب کے لوگ کمرشل ازم میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ انہوں نے اتنے قریب ہوٹلز تعمیر کروا کے اس جگہ کے تقدس کا پورا خیال نہیں رکھا۔ مکہ ایک خوبصورت پہاڑی شہر ہے اور اس کی سڑکیں اور گلیاں اتنی کشادہ نہیں جبکہ مدینہ جاکر کھلے پن اور کشادگی کا احساس ہوتا ہے۔ انتہائی سستا پٹرول ہونے کے باوجود ٹیکسی پر سفر انتہائی مہنگا ہے، کوئی ٹیکسی ڈرائیور آپ کا سامان باہر نکالنے میں آپ کی مدد نہیں کرے گا۔ بقول ٹیکسی ڈرائیور یہ سعودی عرب کے رولز ہیں، میرے نزدیک یہ انتہائی بداخلاقی کے زمرے میں آتا ہے۔ خیر مکہ سے مدینہ پرائیویٹ کار کے ذریعے سفر کرنا تھا جس کا کرایہ ساڑھے تین سو ریال طے ہوا، یہ سفر پانچ گھنٹے کا تھا مکہ سے مدینہ کی طرف شہر سے باہر نکلتے وقت شدید ٹریفک جام دیکھ کر بے اختیار لاہور کا ٹریفک جام یاد آگیا، خیر موٹروے سے اب ہم مدینہ کی طرف رواں دواں تھے۔ یہاں حد رفتار 120 کلو میٹر تھی اور جگہ جگہ کیمرے اور سپیڈ چیکرز تھے، قوانین توڑنے پر 400 ریال کا ٹکٹ تھما دیا جاتا اور چالان ہوجاتا، شاید ہی کوئی قانون توڑنے کی کوشش کرتا ہو۔ جگہ جگہ گاڑی کے کاغذات چیک کیے جاتے ہیں، سپیڈ مانیٹر کی جاتی ہے اور کسی بھی غلطی کی صورت میں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اور تو اور اتنا کمرشلزم سعودی عرب میں آچکا ہے کہ Human Values بھی ختم ہو چکی ہیں۔ اس کی ایک مثال جدہ ایئرپورٹ پر سامنے آئی جہاں سامان اٹھانے والی ٹرالی کا بھی ٹھیکہ پرائیویٹ کمپنی کو دے دیا گیا تھا۔ فی کس ہم سے 3 ریال وصول کیے گئے اور مجھے ایسے لگا کہ میں کسی انتہائی غریب ملک میں ہوں جسے ملک چلانے کے لیے ٹرالیز کے عوض ریونیو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ مکہ سے مدینہ تک تمام راستے سڑک کے دونوں طرف میں آبادی ڈھونڈتی رہی لیکن انسانی آبادی کا کوئی نشان کہیں نظر نہ آیا۔ پہاڑ اور کالے پتھروں کے علاوہ اس بنجر زمین میں کچھ نہ تھا۔ پانی کا نام و نشان نہ تھا میں نے وہ زمانہ یاد کرنے کی کوشش کی جب صحابہ کرامؓ اور ہمارے پیارے نبیؐ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو انہیں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، گرمی، دشوار گزار پہاڑی راستے، پانی کی عدم دستیابی اور شدید موسمی سختیاں، جدید سہولیات کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ہم اس قدر تھک گئے تو اس زمانے کے سفر کے بعد کیا حال ہوتا ہوگا۔ راستے میں ہمیں وہ مقام بھی دکھایا گیا جہاں ہجرت کرتے وقت نبی کریم حضرت محمدؐ گزرے تھے میں اپنے آپ کو خوش قسمت ترین انسان سمجھتی ہوں کہ مکہ اور مدینہ کے ان راستوں سے میں بھی گزری ہوں۔ چار گھنٹے کا سفر طے کرکے جب ہم مدینہ کی حدود میں داخل ہوئے تو دل خوشی سے سرشار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان مقامات تک مجھے پہنچایا جہاں ہمارے نبی کریمؐ کے قدم مبارک پڑتے تھے۔ مدینہ کا داخلی منظر خوبصورت تھا، ہوٹل تک پہنچتے پہنچتے ایک گھنٹہ لگ گیا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا۔ یہاں بھی بلند و بالا ہوٹلوں کی عمارتوں میں گھری مسجد نبوی سعودی عرب کے کمرشل ازم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ تمام ہوٹلز کم از کم مسجد نبوی سے ایک میل کے فاصلے پر ہونے چاہئیں تھے۔ سعودی حکومت کو ٹائون پلاننگ کرتے وقت پیسہ کمانے کے بجائے مسجد کے احترام کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ مسجد نبوی کو اگر میں دنیا کی خوبصورت ترین مسجد کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ مقدس مقام اور کوئی نہیں اور یہاں نماز پڑھنے میں جو لطف آتا ہے اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ میں نے بھی مسجد نبوی میں چالیس نمازیں پڑھنے کی سعادت حاصل کی جو میرے لیے فخر اور خوش قسمتی کی بات ہے۔ یہاں پتہ چلا کہ ایک زیارت ریاض الجنۃ ہے وہ جنت کا ٹکڑا ہے جس پر دو نفل ادا کرنے کا بہت ثواب ہے لیکن اس تک پہنچنا نہایت ہی کٹھن اور مشکل کام ہے۔ ریاض الجنۃ کا دروازہ جب کھولا جاتا ہے تو مسلمان اس جنت کے ٹکڑے پر دو نفل ادا کرنے کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اصولی طور پر زائرین کو دو نفل ادا کرکے جلد دوسروں کے لیے جگہ خالی کردینی چاہیے لیکن کچھ لوگ دوسروں کو موقع نہیں دیتے، میں بھی دھکے کھاتی آخر ریاض الجنۃ پہنچ ہی گئی۔ مجھے بتایا گیا کہ سرخ قالین کے بعد جب سبز قالین شروع ہو وہاں دو نفل ادا کرنے ہیں۔ وہیں سے جنت کا وہ ٹکڑا شروع ہوتا ہے۔ عربوں کے بارے میں یہ روایت نبی کریمؐ کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ مدینہ کا موسم بھی کافی خوش گوار تھا۔ میں لاہور کا گرم موسم چھوڑ کر آئی تھی اور مجھے بتایا گیا تھا کہ یہاں بہت گرمی ہوتی ہے لیکن یہاں کا موسم لاہور کے موسم سے بہتر اور خوشگوار تھا۔ آٹھ روز مدینے میں قیام کے بعد دوبارہ مکہ میں دوروزہ قیام تھا۔ مدینہ اور مکہ میں پوری دنیا کے مسلمان نظر آئیں گے۔ ان دو شہروں میں غیر مسلم کا داخلہ ممنوع ہے یہاں پوری دنیا کے مسلمان تجارت بزنس اور زیارات کے لیے آتے ہیں۔ سعودی عرب میں داخلے کے لیے جسم کو پوری طرح ڈھانپنا ہر ملکی اور غیر ملکی خاتون کے لیے لازم ہے۔ زیادہ تر خواتین جوکہ بھارتی اور پاکستانی تھیں عبایہ میں ملبوس تھیں اور ایک کثیر تعداد عمرہ کے دوران ان خواتین کی تھی جنہوں نے شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ مکہ اور مدینہ میں بڑے شاپنگ سنٹر کم ہیں اور دور دراز ہیں، انار کلی طرز کی مارکیٹیں ہیں اور ہر دکان پر ایک ہی طرح کا سامان دیکھ کر اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔ سعودی عرب کے کچھ لوکل کولڈ ڈرنکس مجھے بے حد پسند آئے جنہیں وہاں رہتے ہوئے میں نے خوب انجوائے کیا۔ مدینہ میں قیام کے دوران ہمیں جن مقامات کی زیارتیں کروائی گئیں ان میں ریاض الجنۃ، احد کے پہاڑ، مسجد قبہ اور کئی اور مساجد، عجوہ کھجوروں کے باغات اور جنت البقیع شامل تھے۔ مسجد قبہ کی فضیلت یہ بیان کی گئی کہ یہاں دو نفل پڑھنے کا ثواب ایک عمرے کے برابر ہے۔ میں نے چار نفل ادا کیے اور دل میں بہت خوش ہوئی کہ بیٹھے بٹھائے دو عمروں کا ثواب کمالیا۔ وادیٔ جن کے متعلق بہت سنا تھا لیکن دیکھ نہ سکی۔ مدینہ سے ہم مکہ کی طرف رواں دواں تھے اور پانچ بجے کے قریب ہم مکہ اپنے ہوٹل پہنچے۔ نماز کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور مغرب کی نماز کے بعد عمرہ کے لیے پہلے فلور پر پہنچے یہاں رش کم تھا، کیونکہ میں پہلے ایک عمرہ کرچکی تھی ، دوسرا عمرہ کرنے میں قدرے آسانی رہی۔ طواف، سعی اور صفا مروہ کی دعائیں زبانی یاد ہو چکی تھیں۔ اس عمرے کا مجھے دعائیں زبانی یاد ہونے کی وجہ سے بہت لطف آیا۔ اگلی صبح ساڑھے چھ بجے اٹھ کر زیارات کے لیے نکلنا تھا یہ کافی تھکا دینے والا اور مصروف دن تھا اور سعودی عرب میں قیام کے دوران آخری بھی، رات کو لاہور واپسی کی فلائٹ تھی، ہوٹل کی لابی میں وہ سب لوگ صبح سات بجے اکٹھے ہوچکے تھے جنہوں نے زیارتوں کے لیے جانا تھا، زائرین سے بھری بس نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور سب سے پہلے ہمیں غار ثور دکھایا گیا جس کی اونچائی پانچ ہزار فٹ سے زیادہ ہے، ہمیں بتایا گیا کہ اس کی چوٹی پر جانے کے لیے اور واپس آنے کے لیے کم از کم تین گھنٹے لگتے ہیں۔ دور سے ہی غار ثور دیکھا اس کی تصویر اتاری اور ویڈیو بنائی اور ہم آگے غار حرا کی طرف روانہ ہوئے، راستے میں مسجد جن بھی دکھائی گئی جس کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہاں جنات نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ مقام بھی دکھایا گیا جہاں حضرت آدمؑ اور اماں حوّا کی پہلی ملاقات ہوئی۔ مسجد نمرہ اور منیٰ کی چھ گنبد والی مسجد اور عرفات کا میدان مزدلفہ کے پہاڑ بھی دکھائے گئے، حج کی خیمہ بستی اور میٹرو ٹرین بھی دیکھی لیکن ٹرین صرف حج کے دنوں میں چلتی ہے ۔ وہ میدان بھی دیکھا جہاں حج کا خطبہ ہوتا تھا۔ وہ جگہ بھی دیکھی جہاں حج کے دوران شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ مزدلفہ کی پہاڑیوں کے قریب ہماری بس رکی اور ہمیں بتایا گیا کہ ہر بندہ 25 منٹ کے اندر واپس آئے گا اور اپنی بس پہچان کر سوار ہوجائے۔ اتنے ہجوم میں، میں بس کا رنگ بھول گئی صرف اتنا یاد رہا کہ اس کے اگلے شیشے پر بڑا بڑا 88 لکھا تھا۔ بہت ڈھونڈا لیکن بس نہ ملی رش بہت تھا اور میں اپنے قافلے سے جدا ہوچکی تھی۔ سامنے پولیس کی کار دیکھی اور پولیس والے کو ہوٹل کا کارڈ دکھایا اور بتانے کی کوشش کی کہ میں اپنے قافلے سے بچھڑ چکی ہوں اور واپس ہوٹل جانا چاہتی ہوں۔ پولیس والے کا رویہ بہت اچھا تھا اس نے قریبی پاکستانی کو بلایا جو اردو اور عربی سمجھتا تھا اس نے پوری بات پولیس والے کو سمجھائی۔ پولیس والے نے مجھے ایک جگہ بیٹھنے کو کہا اور پانی کی بوتل اور چپس کا ایک پیکٹ دیا اور خود میری بس تلاش کرنے چلا گیا۔ کافی دیر بعد واپس آیا لیکن شاید میری بس جا چکی تھی۔ اس نے تسلی دی اور مجھے فیصل آباد کے زائرین کی بس میں بٹھا دیا جو حرم شریف جارہی تھی اور عربی ڈرائیور کو ہدایات دیں کہ مجھے میرے ہوٹل کے قریب اتار دیں۔ واپسی سے پہلے خانہ کعبہ پر الوداعی نظر ڈالنے کی غرض سے حرم شریف پہنچی۔ اتفاق سے کم رش ہونے کی وجہ سے کافی دیر تک خانہ کعبہ کو چھونے کا موقع ملا۔ ایئرپورٹ پر پہنچ کر ہم پر انکشاف ہوا کہ ٹرالی کے لیے بھی ادائیگی کرنی پڑے گی۔ طیارے نے اُڑان بھری اور چار گھنٹے بعد ہمیں لاہور کی آبادی نظر آنے لگی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
86%
ٹھیک ہے
10%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
3%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved