ہرجاندار کو موت کا مزا چکھنا ہے​
  17  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ایک بار ریاض جانے کے لیے میں ایک گھنٹہ پہلے گھر سے نکلا، لیکن راستے میں ٹریفک کے رش اور پولیس چیکنگ کی وجہ سے میں ایئرپورٹ تاخیر سے پہنچا۔جلدی سے گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی اور دوڑتے ہوئے کاؤنٹر جا پہنچا۔ کاؤنٹر پر موجود ملازم سے میں نے کہا: مجھے ریاض جانا ہے۔ اس نے کہا:ریاض والی فلائٹ تو بند ہو چکی ہے۔ میں نے کہا: پلیز!۔۔۔مجھے آج شام تک لازمی ریاض پہنچنا ہے۔ اس نے کہا: جناب! زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت آپ کو کوئی بھی نہیں جانے دے گا۔ میں نے کہا: اللہ تمھارا حساب کر دے۔ اس نے کہا: اس میں میرا کیا قصور ہے؟ بہرحال میں ایئرپورٹ سے باہر نکلا، حیران تھاکیا کروں؟ریاض جانے کا پروگرام منسوخ کر دوں یا اپنی گاڑی اسٹارٹ کر کے روانہ ہو جاؤں یا کسی ٹیکسی میں چلا جاؤں؟ آخرکار ٹیکسی میں جانے والی بات موزوں معلوم ہوئی۔ ایئرپورٹ کے باہر ایک پرائیویٹ گاڑی کھڑی تھی۔ میں نے پوچھا: ریاض کے لیے کتنے پیسےلوگے؟ اس نے کہا:500ریال۔ بڑی مشکل سے اسے 450ریال پر راضی کیا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر ریاض کیلئے روانہ ہوا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے اسے کہا: گاڑی تیز چلانی ہے۔ اس نے کہا: فکر مت کرواور واقعی اس نے خطرناک حد تک گاڑی دوڑانی شروع کر دی۔ راستے میں اس سے کچھ باتیں ہوئیں۔ اس نے میرے ذریعہء روزگار اور خاندان سے متعلق سوالات کیے ۔ اسی طرح کچھ سوال میں نے بھی پوچھ لیے۔ اچانک مجھے اپنی والدہ کا خیال آیا کہ ان سے بات کر لوں۔ میں نے موبائل نکالا اور والدہ کو فون کیا۔ انھوں نے پوچھا: بیٹے کہاں ہو؟ میں نے جہاز کے نکل جانے اور ٹیکسی میں سفر کرنے والی بات بتا دی۔ ماں نے دعا دی: بیٹے اللہ تمھیں ہر قسم کے شر سے بچا ئے۔ میں نے کہا: انشاءاللہ! جب میں ریاض پہنچ جاؤں گا تو آپ کو اطلاع دے دونگا۔ اس وقت نہ جانے کیوں میرے دل میں قدرتی طور پرایک عجیب سی گھبراہٹ طاری ہونے لگی اور مجھے ایسا لگنے لگا جیسے کوئی مصیبت میرا انتظار کر رہی ہو۔ اس کے بعد میں نے اپنی بیوی کوفون کیا۔ میں نے اسے بھی ساری بات بتا دی اور اسے ہدایت کی کہ بچوں کا خیال رکھے۔ بالخصوص چھوٹی بچی سلمیٰ کا۔ اس نے کہا: جب سے آپ گئے ہیںسلمیٰ مسلسل آپ کے بارے میں پوچھ رہی ہے۔ میں نے کہا کہ سلمیٰ سے میری بات کرواؤ۔ بچی نے کہا: بابا!آپ کب آئیں گے۔ میں نے کہا: بیٹی! تھوڑی دیر میں آجاؤں گا، کوئی چیز چاہیئے؟ وہ بولی: ہاں بابا میرے لیے چاکلیٹ لے آؤ۔ میں ہنسا اور کہا: ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں اپنی سوچوں میں گم ہو گیا۔ اچانک ڈرائیور کے سوال نے مجھے چونکا دیا۔ اس نے پوچھا: کیا میں سگریٹ پی سکتا ہوں؟ میں نے کہا: بھائی! تم مجھے ایک نیک اور سمجھدار انسان لگ رہے ہو۔ تم کیوں خود کو اور اپنے مال کو نقصان پہنچا رہے ہو؟ اس نے کہا: میں نے پچھلے رمضان میں بہت کوشش کی کہ سگریٹ نوشی چھوڑ دوں لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمھیں بڑی قوت عطا کی ہے، تم سگریٹ نوشی چھوڑنے جیسا معمولی سا کام نہیں کر سکتے؟ بہرحال اس نے کہا کہ آج کے بعد میں سگریٹ نہیں پیوں گا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمھیں ثابت قدمی عطا فرمائے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس کے بعد میں نے گاڑی کے دروازے کے ساتھ سر لگایا کہ اچانک گاڑی سے ایک زوردار آواز آئی اور پتا لگا کہ گاڑی کا ایک ٹائر پھٹ گیا ہے۔ میں گھبرایا اور ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی کی رفتار کم کر دو اور گاڑی کو قابو کرو۔ اس نے گھبراہٹ میں کوئی جواب نہیں دیا۔ گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہو کر ایک طرف نکل گئی اور قلابازیاں کھاتی ہوئی ایک جگہ جا کر رک گئی۔ مجھے اس وقت اللہ نے توفیق دی اور میں نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا۔ مجھے سر میں چوٹ لگی تھی اور درد کی شدت سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سر پھٹا جارہا ہے۔ میں جسم کے کسی حصے کو حرکت نہیں دے سکتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا درد کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ میں بات کرنا چاہ رہا تھا لیکن بول نہیں سکتا تھا۔ حتیٰ کہ میری آنکھیں کھلی تھیں، لیکن مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اتنے میں میں نےلوگوں کے قدموں کی آوازیں سنیں جو ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ اسے ہلاؤنہیں، سر سے خون نکل رہا ہے اور دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں۔ میری تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا جا رہاتھا اورمیں سانس لینے میں شدید دشواری محسوس کر رہا تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ شاید میری موت واقع ہوگئی ہے۔ اس وقت مجھے گزری ہوئی زندگی پر جو ندامت ہوئی، میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اب مجھے موت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔​اس کے بعد لوگوں کی آوازیں آنی بند ہوگئیں۔ میری آنکھوں کے سامنے مکمل تاریکی چھا گئی اور میں ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے میرے جسم کو چھریوں سے کاٹا جا رہا ہو۔ اتنے میں مجھے ایک سفید ریش آدمی نظر آیا۔ اس نے مجھے کہا:بیٹے یہ تمھاری زندگی کی آخری گھڑی ہے، میں تمھیں نصیحت کرنا چاہتا ہوں ،کیونکہ اللہ نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ میں پوچھا:کیا ہے نصیحت؟ اس نے جواب دیا:عیسائیت قبول کر لو! خدا کی قسم اسی میں تمھاری نجات ہے۔ اگر تم عیسائیت پر ایمان لائے تو تمھیں واپس تمھارے گھر والوںتک پہنچا دوں گا اور تمھاری روح واپس دنیا میں لے آؤں گا۔ جلدی سے بولو، وقت ختم ہوا جا رہا ہے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ یہ شیطان ہے۔ ہرچند کہ میں اس وقت سخت تکلیف عالم میں تھا اور شدید اذیت سے دوچار تھا لیکن اس کے باوجود میرااللہ اور اس کے رسولﷺ پر پکا ایمان تھا۔ میں نے اسے کہا: دفع ہو جا اللہ کے دشمن ! میں نے اسلام کی حالت میں زندگی گزاری ہے اور میں مسلمان رہ کر ہی مرونگا۔ یہ سن کر اس کا رنگ زرد پڑ گیا اور کہنے لگا: تمھاری نجات اسی میں ہے کہ تم یہودی یا نصرانی مر جاؤ ورنہ میں تمھاری تکلیف بڑھا دونگا اور تمھاری روح قبض کر لوں گا۔ میں نے کہا: موت تمھارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ کچھ بھی ہوجائے، میں اسلام کی حالت ہی میں مروں گا۔ اتنے میں اس نے اوپر دیکھا اور دیکھتے ہی بھاگ نکلا۔ مجھے لگا کہ جیسے کسی نے اسے ڈرایا ہو۔ اچانک میں نے عجیب و غریب قسم کے چہروں والے اور بڑے بڑے جسموں والے لوگ دیکھے۔ وہ آسمان کی طرف سے آئے اور کہا: السلام علیکم! میں نے کہا: وعلیکم السلام۔ اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے اور ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ ان کے پاس کفن تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میری زندگی ختم ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک بہت بڑا فرشتہ میری طرف آیا اور کہنے لگا: ایتہا النفس المطمئنہ اخرجی الی مغفرتہ من اللہ و رضوان (اے نیک روح اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی طرف نکل آ)۔ یہ سن کر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ میں نے کہا: اللہ کے فرشتے! میں حاضر ہوں۔اس نے میری روح کھینچ لی۔ مجھے اب ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں نیند اور حقیقت کے مابین ہوں۔ ایسا لگا کہ مجھے میرے جسم سے اوپر آسمان کی طرف اٹھایا جا رہا ہے۔ میں نے نیچے دیکھا تو پتہ چلا کہ لوگ میرے جسم کے ارد گرد کھڑے ہیں اور انھوں نے میرے جسم کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا۔ ان میں سے کسی نے کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ مجھے وصول کر رہے ہیں اور مجھے کفن میں لپیٹ کر اوپر کی طرف لے جا رہے ہیں۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے افق کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا۔ مجھے بلندی سے بلندی کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ ہم بادلوں کو چیرتے چلے گئے جیسے کہ میں ایک جہاز میں بیٹھا ہوں۔ یہاں تک کہ پوری زمین مجھے ایک گیند کی طرح نظر آ رہی تھی۔ میں نے ان دو فرشتوں سے پوچھا: کیا اللہ مجھے جنت میں داخل کرے گا؟ انھوں نے کہا: اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ ہمیں صرف تمھاری روح لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور ہم صرف مسلمانوں پر مامور ہیں۔ ہمارے قریب سے کچھ اور فرشتے گزر گئے، جن کے پاس ایک روح تھی اور اس سے ایسی خوشبو آرہی تھی کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی زبردست خوشبو کبھی نہیں سونگھی تھی۔ میں نے حیرانی کے عالم میں فرشتوں سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اگر مجھے معلوم نہ ہوتا کہ اللہ کے رسولﷺ بہت پہلے دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں تو میں کہتا کہ یہ ان کی روح ہوگی۔ فرشتوں نے بتایا کہ یہ ایک فلسطینی کی روح ہے جسے یہودیوں نے تھوڑی دیر پہلے قتل کیا جبکہ وہ اپنے دین اور وطن کی مدافعت کر رہا تھا۔ اس کا نام ابو العبد ہے۔میں نے سوچا کہ کاش میں شہید ہو کر مرتا۔ اس کے بعد کچھ اور فرشتے ہمارے قریب سے گزرے ۔ ان کے پاس بھی ایک روح تھی جس سے سخت بدبو آرہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا: یہ بتوں اور گائے کو پوجنے والا ایک ہندو ہے ،جسے تھوڑی دیر پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب سے ہلاک کر دیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں کم از کم مسلمان مرا ہوں۔ میں نے ان سے کہا : میں نے آخرت کے سفر کے حوالے سے بہت پڑھا ہے لیکن جو کچھ میرے ساتھ پیش آ رہا ہے، میں نے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ فرشتوں نے کہا : شکر ادا کرو کہ مسلمان مرے ہو لیکن ابھی تمھارے سامنےسفر بہت لمبا ہے اور آگےبے شمار مراحل پیش آئیں گے۔اس کے بعد ہم فرشتوں کے ایک بہت بڑے گروہ کے پاس سے گزر گئے اور ہم نے انھیں سلام کیا۔انھوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میرے ساتھ والے دو فرشتوں نے جواب دیا کہ یہ ایک مسلمان ہے، جو تھوڑی دیر پہلے حادثے کا شکار ہوگیا اور اللہ نے ہمیں اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیا۔ انھوں نے کہا: مسلمانوں کے لیے بشارت ہے کیونکہ یہ اچھے لوگ ہیں۔ میں نے فرشتوں سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے بتایا: یہ وہ فرشتے ہیں جو آسمان کی حفاظت کرتے ہیں اور یہاں سے شیطانوں پر شہاب پھینکتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو اللہ کی بہت عظیم مخلوق ہیں۔مجھے وہ باتیں یاد آئیں جو میں نے والدہ سے کی تھیں۔ میں نے دل میں سوچا کہ اگر مجھے پتا ہوتا تو میں ان باتوں میں گھنٹے لگا دیتا۔پھر عمل صالح نے مجھے بتایا: زندگی کے آخری وقت میں ایک گناہ بھی تمھارے کھاتے میں لکھا گیا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا: وہ کون سا؟ اس نے جواب دیا: تم نے اپنی بچی سے کہاتھا کہ میں تھوڑی دیر میں آجاؤنگا۔ اس طرح تم نے اسے جھوٹ بولا۔ کاش مرنے سے پہلے تم توبہ کر لیتے۔میں رویا اور پھر اسے بتایا: اللہ کی قسم میرا ارادہ جھوٹ کا نہیں تھا بلکہ میں میرا ارادہ اسے مطمئن کرنے کا تھا تاکہ وہ میری واپسی تک صبرکر لے مگر ایسا نہ ہو سکا۔اس نے کہا: جو بھی ہو۔ آدمی کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں کو پسند کرتا ہے اور جھوٹ بولنے والوں کو ناپسند کرتا ہے، مگر افسوس لوگ اس معاملے میں بہت تساہل اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔پھر اس نے بتایا: تمھاری وہ بات بھی گناہ کے کھاتے میں لکھ دی گئی تھی، جو تم نے ایئر پورٹ میں کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے شخص سے کہی تھی کہ اللہ تمھارا حساب کر دے۔ اس طرح تم نے ایک مسلمان کا دل دکھایاتھا۔ میں حیران ہوگیا کہ اتنی معمولی باتیں بھی ثواب اور گناہ کا باعث بنتی ہیں!عمل صالح نے مزید بتایا: یہ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ جب وہ ایک نیکی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے 10 گناہ بلکہ 700 گنا بڑھا دیتا ہے مگر ایک گناہ کو ایک ہی شمار کرتا ہے اور بہترین اعمال وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے پوچھا: پنج وقتہ نماز کے بارے میں کیا خیال ہے؟ عمل صالح نے بتایا: نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ تو فرائض ہیں۔میں ان کے علاوہ بھی تمھیں ایسے اعمال بتاؤنگا جو اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ اس نے بتایا: تمھاری عمر جب بیس برس تھی تو تم عمرے کے لیے رمضان کے مہینے میں گئے تھے اور تم نے وہاں سو ریال کی افطاری خرید کر لوگوں میں تقسیم کی تھی، اس کا بہت زیادہ اجر تم نے کمایا ہے۔اسی طرح ایک بار ایک بوڑھی عورت کو تم نے کھانا کھلایا تھا۔ وہ بوڑھی ایک نیک عورت تھی۔ اس نے تمھیں جو دعا دی اس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تمھیں بہت اجر و ثواب عطا کیا ہے۔اسی طرح ایک بار تم مدینہ جا رہے تھے کہ راستے میں تمھیں ایک آدمی کھڑا ہوا ملا، جس کی گاڑی خراب تھی۔ تم نے اس کی مدد کی تھی۔ اللہ تعالیٰ کو تمھاری وہ نیکی بہت پسند آئی اور تمھیں اس کا بہت زیادہ اجر ملا ہے۔اس کے بعد میری قبر کھل گئی اور اس میں بہت زیادہ روشنی آگئی ۔ مجھے فرشتوں کے گروہ درگروہ آسمان سےاُترتے ہوئے دکھائی دیے۔ عمل صالح نے بشارت دی: آج لیلۃ القدر ہے!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved