’’بابا آپ کے پاس 25روپے ہونگے ؟ ‘‘
  17  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
آج مہینے کا پہلا اتوار تھا، تنخواہ ابھی ملی نا تھی، جیب میں چند سکوں کے سوا کچھ نا تھا،مجھے ڈر تھا کہ کوئی ضرورت آن پڑی تو کیا ہوگا، میں ابھی انہی سوچوں میں تھا کہ میری اکلوتی بیٹی آئی اور لاڈ سے بولی! بابا آپ کے پاس 25 روپے ہونگے؟ میں نے چونک کر اُس کی طرح دیکھا وہ مُسکرا کر بولی! آج میگی کھانے کا دل چاہ رہا ہے اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تو لادیں ورنہ کوئی بات نہیں، اُس کے منہ سے یہ جملہ سُن کر میری جان نکل گئی مجھے پہلی بار اپنی غربت پے غصہ آیا اور آنکھیں برسنے کو بے قرار ہو گئیں لیکن میں نے خود کو سنبھالا اور کہا! ابھی کام سے جا رہا ہوں واپسی پر اپنی رانی کے لیئے میگی لیتا آؤنگا، یہ سُن کر وہ معصوم خوش ہو گئی، میں گھر سے نکلا اور اپنے آپ کو دنیا کا مفُلس ترین باپ سمجھتے ہوئے اپنی بے بسی پے رو پڑا، زندگی میں کبھی قرض نا لیا تھا لیکن پھرسوچا کہ آج کچھ بھی ہو جائے بیٹی کی خواہش پوری کرنی ہے یہی سوچ کر سمندر کی طرف ہو لیا وہاں ایک واقف ٹھیلہ لگاتا تھا سوچا اُس سے چند روپے لونگا تنخواہ ملتے ہی لوٹا دونگا،ابھی کنارے سے کچھ دُور تھا دیکھا ایک بوڑھا گیس کا سلینڈر ایک لکڑی کی چھوٹی سی ریڑھی پر رکھے گیس کے غبارے بیچ رہا ہے اُس نے مجھے دیکھا تو آواز لگائی! بچوں کے لیئے غبارے لیتے جاؤ، میں پاس گیا اور بولا! بابا یہاں کیوں کھڑے ہوں سمندر کنارے جاؤ وہاں سب بک جائیں گے، وہ بولا! بیٹا وہاں پولیس والے ٹھیلا لگانے نہیں دیتے، مجھے اچانک ایک خیال آیا میں نے کہا! بابا مجھے کچھ غبارے دو میں کنارے پر جا کے بیچ آتا ہوں منافع آدھا آدھا کرلینگے، وہ مان گیا، شاید میری بیٹی کا نصیب بہت اچھا تھا یا اللہ پاک نے مجھے قرض سے بچانا تھا کیونکہ میں گھر سے چلا تھا تو غموں کے اشک لئے اور جب شام گھر لوٹآ تو میرے ہاتھ میں کئی میگی نوڈلز کے پیکٹ تھے اور آنکھوں میں خوشی کے آنسو۔۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
96%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
4%




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved