دولت اورغرور کاعبرت ناک انجام
  18  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

کسی جزیرے پر ایک بُہت امیر شخص رہتا تھا جسکو شکار کا بہت شوق تھا.جب وہ شکار پر جاتا تھا تو اُسکے راستے میں ایک کھیت آتا تھا جسکا راستہ بُہت ناہموار اور عجیب سا تھا، یہ کھیت ایک غریب کسان کا تھا جسکا گزر بسر اسی کھیت کے سہارے ہوتا تھا. امیر آدمی چاہتا تھا کہ وہ یہ کھیت کی زمین خرید کر اسکو ہموار کرا دے تا کہ اُسکی مشکل بھی دور ہو جائے اور جائیداد میں بھی اضافہ ہو جائے لہذا اُس نے کسان کو بلوایا اور کہا “کہ یہ جگہ تُم ہمیں دے دو”“لیکن حُضور میرا خاندان تو اِسی کھیت سے پلتا ہے، یہ میری روزی روٹی کا سہارا ہے، میں یہ کھیت نہیں دونگا” غریب نے سہمے سے لہجے میں جواب دیا اور واپس چلا گیا.امیر آدمی کو اس پر بہت غُصہ آیا اور اُس نے رات کے وقت اپنے آدمی بھیج کر کھیت کو آگ لگوادی۔ صُبح جب غریب نے دیکھا تو روتا ہوا بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام معاملہ بیان کیا۔بادشاہ نے ماجرا سُنا اور امیر کو بُلا بھیجا، امیر بھی بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور بولا کہ میں نے اسکا کھیت اس لئے جلایا ہے کیوںکہ اس نے میری بات نہیں مانی۔ بادشاہ کو بہت غُضہ آیا اور بولا کہ “جس دولت کی بدولت تُم آج اتنے غرور میں ہو مت بھولو کہ تمہارے پردادا کو یہ جائیداد ہمارے خاندان کی طرف سے عنائت کی گئی تھی جس پہ تُم آج عیش کر رہے ہو”بادشاہ امیر کو سبق سکھانا چاہتا تھا لہذا اس نے اپنے سپاہیوں کو حُکم دیا کہ ان دونوں کو ایک ہفتے کے لئےندی پار والے جنگل میں چھوڑ آؤ، سپاہیوں نے ایسا ہی کیا اور اُن کو چھوڑ آئے وہاں کے لوگ جنگلی تھے اور اپنے قبیلے میں کسی اور کی آمد کو بالکل برداشت نہیں کرتے تھے لہذا اُنہوں نے اِن دونوں کو تنگ کرنا شُروع کردیا.غریب آدمی چونکہ شُروع سے ہی محنتی تھا اور وہ ٹوپیاں بنانا جانتا تھا اُس نے اشاروں سے اُن کو سمجھایا کہ میں آپ لوگوں کے لئے کام کرونگا اور آپکی مدد کرونگا اُس نے درختوں کی چھال سے اُنکوں ٹوپی بھی بنا کے دکھائی جس سے وہ جنگلی لوگ خوش ہو گئے اور اُسکو تنگ کرنا بند کردیا۔لیکن چونکہ اُنکے قبیلے کا اُصول تھا کہ وہ کسی اجنبی کو بنا کسی مقصد کے برداشت نہیں کرتے تھے لہذا وہ امیر کو ستاتے رہے دو دن ایسے ہی گزر گئے غریب کسان سکون سے ٹوپیاں بناتا رہا کھانا بھی کھاتا اور گپ شپ بھی کرتا لیکن امیر کے لئے جینا مشکل ہو گیا تھا بھوک سے اُسکا بُرا حال ہو گیا اسکو کوئی صورت نظر نہ آئی توہاتھ جوڑ غریب کو کہنے لگا کہ اب تُم ہی میرا سہارا ہو اور میری جان بچا سکتے ہو خُدا کا واسطہ ہے کُچھ کرومیں واپس جا کر اپنی آدھی جائیداد تمہارے نام کر دوںگا.غریب کو اُس پہ غُصہ تو بہت تھا کیونکہ اُسی کی وجہ سے وہ اس مصیبت میں مبتلہ ہوا تھا لیکن وہ ایک رحمدل انسان تھا لہذا اُس نے جنگل کے لوگوں سے کہا کہ یہ میرا ساتھی ہے میری مدد کرتا ہے آپ لوگ اسکو تنگ نہ کریں تب اُنہوں نے اُسکو رہنے کی اجازت دے دی اب وہ سکون سے رہنے لگا تھا اور آسانی سے 7 دن گزر گئے ۔7 دن کے بعد بادشاہ کے لوگ آئے اور اُنکو شاہی کشتی میں واپس لے گئے واپس پہنچنے پر بادشاہ نے حال دریافت کیا اور امیر کو سمجھایا کہ دیکھا تُم نے جسکو تکلیف پُہنچائی اُسی نے تُمہاری مدد کی اور تُمھاری جان بچائی.اب تُمہیں سمجھ جانا چاہئے کہ دولت کا غرور ہمیشہ انسان کے کام نہیں آتا صرف اچھا اخلاق ہی انسان کی اصل دولت ہے جو تُمہاری بجائے اس غریب کے پاس ہے اور اِس نے آج ثابت کردیا کہ یہ تُم سے زیادہ امیر ہے.امیر جو کہ سر جُھکائے کھڑا تھا اُس نے بادشاہ اور کسان دونوں سے معافی مانگی اور غریب کو جائیداد میں سے بھی آدھا حصہ وعدے کے مطابق دیا اور دوبارہ کبھی غرور نہ کرنے کی قسم کھائی.


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved