!عشق کی عدالت کے کیسز
  18  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ان پر امریکہ اور یورپ کی طرف سے توہین رسالت کی سزا منسوخ کروانے کے لئے شدید دباؤ ڈالا گیا۔ محترمہ نے اپنے وزیر قانون اقبال حیدر مرحوم سے دھول بہت اڑوائی لیکن اس قانون کو منسوخ یا تبدیل کرنے کے حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ انہی دنوں محترمہ نے ایک عجیب بیان دیا جو تمام بڑے اخبارات میں چھپا اور مولانا فضل الرحمن نے اس پر شدید رد عمل بھی دیا۔ محترمہ نے فرمایا تھا کہ توہین رسالت کے مجرموں کو سزا دینے کے لئے قانون کی کوئی ضرورت نہیں انہیں عوام خود سزا دے سکتے ہیں۔ محترمہ بہت اعلیٰ پائے کی سیاستدان تھیں جس کا ثبوت ان کا یہ بیان بھی ہے۔ اگر ہم ان کے اس بیان کا مخاطب و سامع دونوں خود کو سمجھ لیں تو یہ اس وقت کی وزیر اعظم کی جانب سے لاقانونیت کو فروغ دینے والے بیان کے طور پر نظر آتا ہے لیکن محترمہ ہم سے صرف مخاطب تھیں، سنا وہ ان طاقتوں کو رہی تھیں جو ان پر دباؤ ڈال رہی تھیں اور محترمہ درحقیقت یہ کہہ رہی تھیں کہ اگر مغرب یہ سمجھتا ہے کہ اس قانون کو منسوخ کرنے سے توہین رسالت کے مجرم بچ جائیں گے تو یہ ان کی خوش فہمی ہے۔ یہ اتنا سنگین جرم ہے کہ اس کا مجرم قانون کی عدم موجودگی کے سبب بچ نہیں سکے گا بلکہ قانون نہ ہونے کی صورت میں عوام خود جج اور جلاد بن جائیں گے۔محترمہ کا وہی بیان آج یوں ایک سچائی بن کر سامنے کھڑا ہے کہ پاکستان کے موجودہ ماحول میں پانچ چیزیں نظر آ رہی ہیں۔(01) سوشل میڈیا پر توہین رسالت، توہین صحابہ، توہین قرآن اور توہین مذہب ایک مہم کی صورت جاری ہے۔(02) لبرلز کہہ رہے ہیں کہ توہین رسالت کا قانون نہیں ہونا چاہئے۔(03) غامدی ٹولہ توہین رسالت و مذہب جیسے قوانین سے نجات کے لئے ملک کو سیکولر بنانے کی دعوت پر مشتمل مربوط مہم چلا رہا ہے۔(04) جوں ہی توہین رسالت یا توہین مذہب کا کوئی ملزم پکڑا جاتا ہے راتوں رات یہ مںظم شور بلند ہوجاتا ہے کہ ضرور اسے "ذاتی وجوہ" کے تحت پھنسایا گیا ہوگا۔(05) حکومت اس طرح کے کیسز چلانے میں اولا سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی اور گر سزا ہوجائے تو اس پر عمل در آمد نہیں کرتی یعنی عملا توہین رسالت کے قانون کی موجودگی اور عدم موجودگی برابر ہو چکی ہے۔اب ان پانچ حقیقتوں کا جائزہ اس بڑی سچائی کے تناظر میں لیجئے کہ ہمارے تعلیمی و تربیتی نظام کی تباہی کے باعث مذہب عملی شکل میں تو غائب نظر آتا ہے لیکن قلوب میں عشق کی انگیٹھیاں آج بھی پوری طرح گرم ہیں۔ آپ اَپر کلاس سے ہی اس کی دو مثالیں دیکھ لیجئے۔٭ ذو الفقار علی بھٹو سے کسی نے پوچھا کہ وہ کونسا موقع تھا جب آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ قادیانیوں کو پارلیمنٹ سے کافر قرار دلوانا ہے ؟ بھٹو مرحوم نے فرمایا کہ یہ وہ موقع تھا جب آغا شورش کاشمری مجھے طویل ملاقات میں اس فیصلے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے کرتے اچانک اٹھے اور میرے قدموں میں آ بیٹھے اور مجھ سے کہا کہ مسٹر وزیر اعظم میں آپ سے تحفظ ختم نبوت کی بھیک مانگتا ہوں۔ میں لرز کر رہ گیا کیونکہ یہ وہ شخص میرے قدموں میں آ بیٹھا تھا جس نے دس سال قید انگریز کے دور میں بھگتی تھی اور دس سال آزادی کے بعد پاکستان میں اور جسے ایوب خان نے سزائے موت سنوائی مگر اس کی استقامت میں فرق نہ آیا۔ بھٹو ایک سیاستدان تھے وہ پوری بات نہیں بتا سکتے تھے۔ پوری بات آغا شورش کاشمیری نے بتائی ہے۔ آغا صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ ان پر میری دلیلیں کوئی اثر نہیں کر رہیں تو میں اٹھا اور ان کے قدموں میں جا بیٹھا اور کہا، مسٹر وزیر اعظم ! فاظمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بابا کی ختم بنوت پر ڈاکہ پڑ گیا ہے، آپ قیامت کے روز حضرت فاطمہ اور ان کے بابا ﷺ کا سامنا کیسے کریں گے ؟ میں آپ سے تحفظ ختم نبوت کی بھیک مانتا ہوں۔ بھٹو بہت ہی آزاد خیال انسان تھے، وہ خود کو سوشلسٹ باور کراتے روایتی معنیٰ میں مذہب بیزار انسان بھی تھے لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عشق کی انگیٹھی ان کے دل میں بھی پوری طرح گرم تھی جس کا نتیجہ ہم نے 1974ء میں پارلیمنٹ کے فیصلے کی صورت دیکھا۔٭ دو روز قبل ملک کے ممتاز ادیب مستنصر حسین تارڑ نے اپنے کالم کا آغاز یوں کیا ہے۔"جیسے ایک مویشی کے بدن کو سلگتے ہوئے ایک سانچے سے داغا جاتا ہے تاکہ لوگ جان جائیں کہ یہ کسی کی ملکیت ہے ایسے ہی غار حرا میں ایک رات بسر کرنے سے بہت پہلے میرے بدن کو بھی داغ دیا گیا تھا اور یہ اسم محمد ﷺ جو ثبت کردیا گیا تھا تاکہ جو بھی اسے دیکھے وہ جان جائے کہ یہ مویشی کسی کی ملکیت ہے۔ اسے چوری کرکے اپنی ملکیت میں نہیں لیا جا سکتا کہ ہر جانب ڈھنڈیا پٹ جائے گی کہ اس کے بدن پر تو کالی کملی والے کی مہر ثبت ہے۔ قصویٰ کے سوار کا تو یہ ذاتی مویشی ہے اور ذرا احتیاط کہ یہ وہ مویشی نہیں جو بلا چوں و چرا آسانی سے چوری ہو جائے۔۔"آپ کو کیا لگتا ہے، تارڑ صاحب ادبی شیخی بھگار رہے ہیں ؟ نہیں ! یہ عشق رسالت انگیٹھی ہے جو ان کے دل میں پوری طرح روشن ہے۔ جس ملک کے اعلیٰ ترین سیاستدانوں و ادیبوں کے دلوں میں عشق کی انگیٹھیاں یوں روشن ہوں تو عام آدمی کی ایسی انگیٹھیاں تو ویسے بھی ایٹمی توانائی سے روشن ہوتی ہیں۔ اب آپ ہی بتایئے کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ توہین رسالت کا جرم عشق والوں کا کیس ہے ؟ اور اس بات میں کوئی شک ہے کہ عشق والوں کی دنیا میں "دلیل" کا داخلہ ممنوع ہے ؟ اگر ان کی دنیا میں دلیل کا زور کا چلتا تو عشق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صورت نمرود کی آگ میں کیوں کودتا ؟ اور عشق منصور بن کر سولی کیوں چڑھتا ؟ اسی لئے محترمہ نے فرمایا تھا کہ توہین رسالت کے مجرم کے لئے قانون کی ضرورت نہیں، ایسے مجرموں کو عوام خود انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جو بھی ہوا وہ دلیل کی دنیا میں بالکل غلط ہوا۔ میں بھی اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن اس تحریر میں پیچھے جو پانچ باتیں بیان کی گئی ہیں آپ سے ان پر غور کی درخواست ہے۔ جب آپ صرف توہین رسالت کے کیسز میں "ذاتی وجوہ" کا پروپیگنڈا کرکے توہین رسالت کے ملزمان کو بچانے کی مہم شروع کریں گے تو پھر ایسے کیسز دلیل کی عدالت سے نکل کر عشق کی عدالتوں میں پہنچنے لگیں گے اور مت بھولیں کہ پچھلے سو سال کے دوران برصغیر میں ایسے کیسز کے فیصلے عشق والوں کو ہی سنانے پڑے ہیں۔ اگر آپ نے عشق والوں سے ان کیسز کے فیصلوں کا اختیار واپس لینا ہے تو پھر آسیہ اور ایاز نظامی کو ان کے انجام تک پہنچا کر ثابت کیجئے کہ آپ ان کیسز کے بارے میں بھی رد الفساد والے تقاضوں کے مطابق سنجیدہ ہیں !

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved