اللہ کا واسطہ تو میری دعوت کو قبول کر لے
  18  اپریل‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ منیٰ کے بازار میں تھا‘ حج کے ایام میں فرماتے ہیں کہ جمرات سے فراغت ہو گئی مجھے ایک بوڑھا آدمی ملا‘ تھوڑی دیر اس نے مجھے دیکھا اور کہنے لگا تجھے اللہ کا واسطہ تو میری دعوت کو قبول کر لے‘ فرماتے ہیں میں نے اس کی دعوت کو قبول کر لیا اور وہ بھی ایسا بے تکلف کہ جو اس کے پاس تھا پیش کر دیا‘ اس نے رروٹی کا ایک ٹکڑا نکالا اور وہی دسترخوان پررکھ دیا اور کہنے لگا کھاؤ‘ میں نےکھانا شروع کر دیا‘ وہ مجھے دیکھتا رہا اور کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے کہ تو قریشی ہے میں نے کہا ہاں لیکن تجھے کیسے پتہ چلا اس نے کہا کہ یہ قریشی دعوت دینے میں بھی بے تکلف ہوتے ہیں اور قبول کرنے میں بھی پھر باتیں کرتے رہے. مجھے پتہ چلا کہ یہ مدینہ سے آیا ہے۔فرماتے ہیں میں نے اس سے امام مالک کے بارے میں پوچھا اس نے مجھے ان کے کچھ حالات سنائے جب اس نے دیکھا کہ میں بڑے شوق سے ان کے حالات پوچھ رہا ہوں تو وہ کہنے لگا کہ اگر آپ مدینہ جانا چاہتے ہیں تو یہ خاکی رنگ کا اونٹ ہمارے پاس خالی ہے یہ ہم آپ کو دے دیں گے. آپ مدینہ پہنچ جائیں گے. کہنے لگے کہ میں تو پہلے ہی سے تیار تھا‘ لہٰذا میں نے حامی بھر لی. فرماتے ہیں میں قافلہ کے ساتھ سوار ہوا ہمیں راستہ میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک پہنچنے میں سولہ دن لگے‘ اس دوران میں نے سولہ قرآن مجید پڑھ لئے‘ آج یہ حال ہے کہ حج کر کے آتے ہیں دس دس دن مدینہ گزار کر آتے ہیں ایک قرآن مجید بھی مکمل کرنے کی توفیق نہیں ہوتی‘ ہمارے اسلاف جب حج کیلئے آتے جاتے تھے تو سینکڑوں لوگ ان کے ہاتھوں پر کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا کرتے تھے‘ آج حج کر کے آتے ہیں خود مسلمان بن کر صحیح طرح سے نہیں آتے واپس آ کر پھر گناہوں کی طرف چل پڑتے ہیں تو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے حالت سفر میں سولہ دن میں سولہ قرآن مجید پورے کئے. فرماتے ہیں جب ہم مسجد نبویؐ میں پہنچے تو نماز کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اونچے قد کا ہے اور اس نے ایک تہبند باندھاہے اور ایک چادر لپٹی ہوئی ہے وہ ایک جگہ بیٹھ گیا اور کہنے لگا‘ قال قال رسول اللہﷺ اور لوگ اس کے ارد گرد بیٹھ گئے تو میں سمجھ گیا کہ یہی امام مالک رحمتہ اللہ علیہ ہوں گے‘ یہ وہ ایام تھے جب امام مالک احادیث کی املاء کرا رہے تھے. ’’موطا امام مالک‘‘ کی جو احادیث ہیں ان کو لکھوا رہے تھے‘ میں نے بھی ایک تنکا اٹھا لیا اور دل میں یہ سوچا کہ یہ میری قلم ہے اور ہاتھ سامنے کر لیا اور سوچا کہ یہ میری کاپی ہے اور میں نے اپنی زبان سے اس تنکے کولگایا کہ جیسے میں اس کو سیاہی لگا رہا ہوں اور ہتھیلی پر لکھنا شروع کر دیا‘ کہنے لگے اس دوران امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے میری طرف دیکھا انہوں نے اس محفل میں ایک سو ستائیس احادیث لکھوائیں جب اگلی نماز کا وقت ہو گیا تو محفل برخاست ہو گئی‘ طلباء چلے گئے‘ فرمانے لگے (امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ) کہ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے مجھے دیکھا تو مجھے اپنی طرف بلایا اور مجھے کہا تو اجنبی معلوم ہوتا ہے میں نے کہا جی ہاں میں مکہ مکرمہ سےآیا ہوں کہنے لگے کہ تو ہتھیلی پر کیا کر رہا تھا؟ میں نے کہا کہ احادیث لکھ رہا تھا‘ کہنے لگے کہ دکھاؤ میں نے دکھایا تو ہتھیلی پر تو کچھ لکھا ہوا ہی نہیں تھا‘ انہوں نے کہا کہ یہاں تو کچھ نہیں لکھا میں نے کہا کہ حضرت نہ تو میرے پاس قلم تھا نہ کاغذ میں تو آپ جو املاء لکھوا رہے تھے اس کی نسبت حاصل کرنے کیلئے ایک تنکے سے بیٹھا ہوا ہتھیلی پر لکھ رہا تھا اس پر امام مالک رحمتہ اللہ علیہ ناراض ہوئے کہ یہ توحدیث پاک کے ادب کیخلاف ہے کہ تم نے اس طرحسے لکھا‘ میں نے کہا کہ حضرت میں تو ظاہری مناسبت کیلئے ہاتھ پر تنکا چلا رہا تھا‘ حقیقت میں تو حدیث پاک دل میں لکھ رہا تھا کہنے لگے کہ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اچھا اگر دل میں لکھ رہا تھا تو تو مجھے چند ایک روایت اس میں سے سنا دے تو میں جانوں‘ فرمانے لگے میں نے ان کو ایک سے لے کر ایک سو ستائیس حدیثیں متن اور سند کے ساتھ سنا دیں. یہ علم 127 جس ترتیب سے لکھوائی تھیں تمام اس ترتیب پر ان کو سنا دیں. فرماتے ہیں امام مالک بڑے خوش ہوئے کہنے لگے کہ اچھا اے نوجوان تو میرا مہمان بن جا‘ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں! میں تو پہلے ہی سے تیار تھا‘ کہنے لگا کہ حضرت میں تیار ہوں‘ امام مالک گھر تشریف لے گئے. امام مالک کے گھر میں ان کی بیٹیاں تھیں اور وہ عالمہ تھیں‘ حدیث کی حافظہ تھیں‘ قرآن مجید کی حافظ تھیں‘ بہت متقیہ پاک زندگی گزارنے والی عورتیں تھیں. آپ نے جا کر گھر میں بتایا کہ آج ایک عالم آ رہے ہیں اور وہ بڑے دانا ہیں اور بڑا علم کا شوق رکھتے ہیں۔ وہ تو بہرحال امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ تھے. انہوں نے گھر میں کھانے کا بڑا اہتمام کیا‘ بستر لگایا‘ مصلیٰ بچھایا‘ لوٹا پانی کا بھر کر رکھا‘ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے کھانا کھایا لیٹ گئے صبح کو امام مالک کے ساتھ مسجد میں آ گئے‘ جب اشراق کی نماز پڑھ کر واپس گھر گئے. امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا امام شافعی سے کہ میری بیٹیوں کو آپ پر اعتراض واقع ہوا ہے. بچیاں کہہ رہی ہیں کہ ابو آپ نے تو یہ کہا تھا کہ یہ بڑے نیک اور اچھے انسان ہیں لیکن ہمیں ان پر اشکال واقع ہوا ہے کہ سارا کھانا تنہا کھا گئے‘ دوسرا یہ کہ ہم نے مصلیٰ بچھا کر رکھا اور پانی کا برتن بھر کر رکھا لیکن جیسا مصلیٰ بچھایا تھا صبح کو ویسا ہی رکھا ملا‘ اور پانی بھی جوں کا توں تھا لگتا ہے کہ تہجد کی نماز بھی نہ پڑھی اور پھر مسجد میں تو وضو کا انتظام بھی نہیں تھا‘ لوگ گھروں سے وضو کر کے جاتے ہیں اور یہ اسی طرح آپ کے ساتھ اٹھ کر مسجد میں چلے گئے پتہ نہیں نماز بھی انہوں نے کیسی پڑھی؟ تو ہماری سمجھ سے تو بالاتر ہے.امامشافعی رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ حضرت بات یہ ہے کہ جب میں نے آپ کے یہاں کھانا کھایا تو کھانے میں اتنا نور تھا کہ ہر ہر لقمہ کھانے پر مجھے سینہ نور سے بھرتا نظر آتا تھا‘ میں نے سوچا کہ ممکن ہے اتنا حلال مال زندگی میں پھر میسر نہ ہو کیوں نہ میں اسے جزو بدن بناؤں اس لئے میں نے اس سارے کھانے کو اپنے بدن کا جزو بنا لیا. (اللہ اکبر) فرماتے ہیں کہ پھر میں لیٹ گیا لیکن اس کھانے کا نور اتنا تھا کہ نیند غائب تو میں احادیث پر غور کرتا رہا۔ فرمانے لگے کہ ایک حدیث پیش نظر رہی کہ نبی علیہ السلام نے ایک چھوٹے بچے کو جس کا پرندہ مر گیا تھا‘ پیار محبت سے جو الفاظ کہے تھے میں ان کے اندر غور کرتا رہا اور آج کی رات میں نے چند الفاظ سے فقہ کی چالیس مسائل اخذ کر لئے کسی کے دل میں ملاطفت کے لئے کیسے بات کرنی چاہئے؟ یا ابا عمیر ما فعل النغیر‘‘ صرف اس میں غورکر کے میں نے چالیس فقہ کے مسائل اخذ کر لئے اور پھر فرمایا چونکہ میرا وضو باقی تھا اس لئے میں اٹھا اورفجر کی نماز اسی وضو سے ادا کی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
98%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
2%




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved