آج سے 54 سال قبل اردن کے علاقے میں بڑا عجیب و غریب واقعہ
  18  مئی‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ڈاکٹر محمود احمد غازی لکھتے ہیں “آج سے 54 سال قبل اردن کے علاقے میں بڑا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ ڈیڈ سی جس کو بحر میت (یا بحر مردار) بھی کہتے ہیں۔ اس کے ایک طرف پہاڑ ہے اور پہاڑ کے اختتام پر بحر میت شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے دوسرے کنارے پر اس علاقہ کی حدود شروع ہوتی ہیں جس کو مغربی کنارہ کہتے ہیں جس پر اب اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہاں ایک چرواہا رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ وہ روزانہ اس جگہ اپنی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ ایک روز وہ اپنی بکریاں چراتا چراتا پہاڑ کے اوپر چلا گیا اور شام تک وہاں بکریاں چراتا رہا۔ جب واپس جا رہا تھا تو ایک بکری گم ہو گئی۔ وہ اس بکری کی تلاش میں نکلا۔ چلتے چلتے اسے ایک غار دکھائی دیا۔ اس نے سوچا کہ شاید بکری غار کے اندر چلی گئی ہے۔ بکری کو بلانے کے لئے اس نے آواز دی تو اندر سے بکری کی آواز آئی۔ وہ غار کے اندر داخل ہو گیا۔ وہ غار کے اندر چلتا گیا اور بکری بھی آگے آگے چلتی گئی۔ جب خاصا اندر چلا گیا تو اسے کچھ اندھیرا سا محسوس ہوا۔ یہ اپنی بکری چھوڑ کر واپس آ گیا اور اگلے دن کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر گیا اور ساتھ ہی روشنی کا انتظام کرے کے لئے کوئی شمع یا لالٹین بھی ساتھ لیتا گیا۔ جب وہ اندر داخل ہوا اور بکری کو ساتھ لانے لگا تو اس نے دیکھا کہ غار کے اندر مٹی کے بہت سارے بڑے بڑے گھڑے رکھے ہوئے ہیں۔ اس کو یہ خیال ہوا کہ شاید یہ کوئی پرانا خزانہ ہے جو یہاں چھپا ہوا ہے۔ اس نے ایک مٹکے میں ہاتھ ڈالا تو اس میں پرانے کاغذ اس طرح لپٹے ہوئے رکھے تھے جیسے طومار لپٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک کو چھیڑا، وہ پھٹ گیا۔ دوسرے کو چھیڑا وہ بھی پھٹ گیا۔ ہر مٹکے میں ایسے ہی طومار بھرے ہوئے تھے۔ وہ واپس آ گیا اور اس نے آ کر گاؤں والوں کو بتایا کہ شاید وہاں کوئی خزانہ دفن ہے۔ بہت سے گاؤں والے وہاں پہنچے اور انہوں نے ان مٹکوں میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکالنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں بہت سے کاغذ پھٹ گئے۔ اتفاق سے وہاں ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم آئی ہوئی تھی جو چند مغربی ماہرین پر مشتمل تھی۔ جب انہیں یہ قصہ معلوم ہوا تو وہ بھی وہاں پہنچے اوران میں سے بہت سے کاغذات اورکتابیں چرا کر لے گئے۔ مقامی حکومت کو جب ان کی اس حرکت کا پتہ چلا تو انہوں نے انہیں روکا اور یہ تمام کاغذات اور کتابیں سرکاری قبضہ میں لے کر ایک مرکز میں رکھ دیں اور ماہرین کی ایک ٹیم مقرر کی کہ وہ کاغذوں اور طوماروں کا مطالعہ کر کے دیکھیں کہ یہ کیا کتابیں ہیں۔ کہاں سے آئی ہیں اور کس نے لکھی ہیں اور ان میں کیا لکھا ہوا ہے۔ ان آثار و دستاویزات کا جو حصہ مغربی ماہرین لے گئے تھے، انہوں نے بھی ان کاغذات کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ قدیم خطوط اور مذاہب کے ماہرین کو بلوایا گیا۔ انہوں نے بھی ان کتابوں کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک بہت بڑا کتب خانہ تھا جو کسی بڑے عیسائی عالم کی ملکیت تھا۔ وہ عیسائی عالم اس زمانہ میں تھا جب عیسائیوں پر مظالم ہو رہے تھے اور یہودیوں کی حکومت تھی۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے 150،100 سال بعد کا واقعہ ہے۔ یہ لوگ اہل ایمان اور صاحب توحید تھے۔ جب ان پر مظالم ہوئے تو یہ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اس کتب خانہ کے مالک عالم کو خیال ہوا کہ کتابوں کا یہ قیمتی ذخیرہ لوگ ضائع کر دیں گے۔ اس لئے وہ اس ذخیرہ کو غار میں چھپا کر چلا گیا کہ اگر زندگی بچی تو واپس آ کر لے لوں گا۔ اس کے بعد اس کو واپس آنے اور اپنے کتب خانے کو واپس حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ یوں یہ کتب خانہ کم و بیش اٹھارہ سو سال وہاں غاروں میں محفوظ رہا۔ گویا سن 100 یا 150 عیسوی سے یہ کتابیں وہاں رکھی ہوئی تھیں۔ کوئی پونے دو ہزار سال پہلے کے لکھے ہوئے یہ ذخائر قدیم عبرانی اور سریانی زبانوں میں تھے۔ ان میں سے ایک ایک کر کے چیزیں اب شائع ہو رہی ہیں۔ کچھ چیزیں اردن میں شائع ہوئی ہیں اور کچھ انگریزی زبان میں یورپ میں شائع ہو رہی ہیں۔ یونیسکو اس عظیم کام کے لئے پیسہ دے رہی ہے۔ ان میں سے کچھ حصے جو 1960 یا اس کے لگ بھگ شائع ہوئے تھے ان میں ایک پوری کتاب ہے جو غالبا کسی عیسائی عالم کی لکھی ہوئی ہے۔ اس کا کچھ حصہ یہودیوں کی تردید میں ہے۔ خاص طور پر ان یہودیوں کی تردید میں جو حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے ہیں۔ کتاب میں اس عقیدے کی برائی بیان کی گئی ہے اور اس مشرکانہ عقیدہ پر ان یہودیوں کو شرم دلائی گئی ہے اور پھر یہ وضاحت بھی لکھی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو ایک ہے۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اور عزیر علیہ السلام تو اللہ کے نیک بندے اور انسان تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے کیسے ہو سکتے ہیں؟گویا اسلام سے بہت پہلے کا یہودیوں کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا، عیسائیوں کا محفوظ کیا ہوا اور اہل مغرب کا چھاپا ہوا ایک مسودہ مل گیا کہ جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس زمانہ میں یہودیوں میں ایک فرقہ ایسا موجود تھا جو حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتا تھا۔(محاضرات قرآنی، ڈاکٹر محمود احمد غازی)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
96%
ٹھیک ہے
2%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
2%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved