حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی انتہائی حیرت انگیز پیشن گوئیاں . قسط نمبر 1
  19  مئی‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
بسم اللہ الر حمٰن الر حیم اللہ تعالٰی بزرگ و برتر کے برگزیدہ بندے جو اپنی تمام تر زندگی اللہ تعالٰی کی بندگی اور اسکی عبادت اور زہد و تقویٰ کےلئے وقف کردیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جب چاہیں اپنی خصوصی عنایت سے ولی، ابدال،قطب اور غوث جیسے اعلیٰ و ارفع روحانی مراتب پر فائز کر دیتے ہیں جہاں ان سے خارق عادت اور کشف و کرامات کا ظہور ہوتا ہے اور وہ ہاتف غیبی، القاء اور الہام کا ادراک رکھتے ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا۔ ”میری امت کے بعض علماء بنی اسرائیل کے پیغمبروں کی مثل ہونگے۔“ صوفیاء کرام کے نزدیک علماء سے مراد یہی گروہ اولیاء مراد ہے۔ انہی اولیاء کرام میں آج سے قریبا آٹھ سو پچاس ٨٥٠ سال قبل ایک مشہور و معروف صوفی با کمال حضرت نعمت اللہ شاہ ولی گزرے ہیں جن کے ہزاروں فارسی اشعار پر مشتمل دیوان کے علاوہ ایک قصیدہ بہت مشہور ہے جس میں اس برگذیدہ ولی اللہ نے آنے والے حوادث کی پیشن گوئی فارسی اشعار کی صورت میں کی ہے، جو آج تک حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوتی چلی آرہی ہے۔ قصیدے کے اشعار مختلف حوالوں سے دو ہزار کے قریب بتائے جاتے ہیں لیکن ہمیں کافی کوشش کے باوجود کم و بیش تین سو اشعار سے زیادہ دستیاب نہ ہو سکے۔ لہذا پیشن گوئی کا یہ انمول قصیدہ ہم سے مزید تحقیق اور جستجو کا مطالبہ کرتا ہے۔ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے جب ہم حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کے قصیدے لکھنے کی تاریخ سے ١٠٠ تا ٧٠٠ سال بعد آنیوالے بر عظیم پاک و ہند میں آنیوالے بادشاہوں کے نام ترتیب وار ان کے قصیدے کے اشعار میں پڑھتے ہیں جبکہ وہ حکمران ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ وہ سب سے پہلے مشہور مغل بادشاہ امیر تیمور کا نام اسکی پیدائش سے تقریبا ٢٠٠ سال قبل اپنی پیشن گوئی کے ایک ابتدائی شعر میں لکھتے ہیں۔ اسکے بعد لودھی خاندان کے حکمران سکندر لودھی اور ابراہیم لودھی کے ناموں کا ذکر کرتے ہیں۔پھر ان کے بعد آنے والے ہندوستان میں مغلیہ خاندان کے حکمران بابر ،ہمایوں (درمیان میں شیر شاہ افغان) اکبر، جہانگیر، شاہجہاں کے نام ان کے اشعار میں آتے ہیں اور یوں خاندان مغلیہ کے ٣٠٠ سالہ دور حکومت کی ترتیب وار پیشن گوئی کرتے ہوئے وہ انگریزوں کی ہند میں آمد تک خاندان مغلیہ کے قریبا تمام حکمرانوں کو اور ان کی مدت حکمرانی بیان کر دیتے ہیں۔ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی تمام حجابات سے پردہ اٹھاتے ہوئے اس کرہءارض پر تا قیامت نمودار ہونے والے کم و بیش تمام بڑے واقعات و حوادث کو اپنے قصیدے میں بیان کرتے ہیں جو ماضی کی تاریخ کی روشنی میں بالکل صحیح، واضع اور عام فہم ہیں۔جبکہ مستقبل میں ظہور پانے والے تمام واقعات کے لئے انتظار کرنا ایک فطری امر ہے۔ اس کتاب میں حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئی کے قصیدے کے تمام اشعار موجود نہیں۔ بلکہ اس میں ان کی وسیع پیشن گوئی کے چیدہ چیدہ فارسی اشعار اور ان کے ترجمے، توضیح اور تشریح پیش کی گئی ہے،تا کہ ان سے استفادہ کرتے ہوئے دنیا میں بالعموم اور بر صغیر پاک و ہند میں بالخصوص گزرے ہوئے اور مستقبل قریب یا بعید میں رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات، حادثات اور انقلابات کے پردوں میں جھانک کر مسلم امہ مادی،سیاسی یا روحانی طور پر عدم توجہی سے گریز کرتے ہوئے عالم غیب کے اس نایاب خزانے کی راہنمائی میں پر آشوب مستقبل سے نمٹنے کیلئے ابھی سے تیاری کریں کہ یہی پیش بینی، دور اندیشی اور دانشمندی اس قصیدے کی غرض و غایت اور مطلب و مدعا نظر آتا ہے۔ بقول اقبال: کھول کر آنکھیں میرے آئینہء گفتار میں۔۔ آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ۔۔ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئی کے قصیدے میں تین مختلف قسم کے ردیف اور قافیہ استعمال ہوئے ہیں۔ بعض اشعار کی ردیف ”مے بینم“(میں دیکھ رہا ہوں) اور بعض کی ردیف ”پیدا شود“(پیدا ہو گا) اور بعض اشعار میں قافیہ زمانہ،بہانہ اور غائبانہ وغیرہ استعمال ہوا ہے۔ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی عالم غیب کی پردہ کشائی سے پہلے کچھ یوں فرماتے ہیں: قدرت کرد گار مے بینم حالت روز گار مے بینم ترجمہ: میں اللہ تعالی کی قدرت دیکھ رہا ہوں، میں زمانہ کی حالت دیکھ رہا ہوں۔ از نجوم ایں سُخن نمے گویم بلکہ از کردگار مے بینم ترجمہ: میں یہ بات علم نجوم کے ذریعے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ ذات باری تعالی کی طرف سے دیکھ رہا ہوں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
91%
ٹھیک ہے
5%
کوئی رائے نہیں
5%
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved