کیا زیادتی کا شکار عورت چار گواہوں کو پیش کرنے کی پابند ہے۔۔۔؟اسلامی نظریاتی کونسل نے فیصلہ سنا دیا
  17  جون‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل
اسلام آباد (روز نامہ اوصاف )حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے طرف سے جب یہ فیصلہ سنایا گیا کے ڈی این اے کا ثبوت زنا کی سزا کے لئے صرف ثانوی شہادت کے طور پر ہی قبول کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ زنا کی سزا کے لئے چار گواہ ہونا ضروری ہے اور ظاہر بات کہ زنا یاریپ کرنے والا خواہ مخواہ چار گواہوں اور وہ بھی ثقہ گواہوں کے سامنے عورت کی آبرو ریزی نہیں کرے گا۔اب اسلامی نظریاتی کونسل نے واحد گواہی ڈی این اے کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔!!!مغربی اصول کے مطابق زنا اگر باہمی رضامندی سے ہو تو ایک جائز عمل ہےجبکہ ریب انتہائی گھناؤنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ مغرب کی تصور آزادی میں عورت کو آزادی ہوتی ہے کہ وہ مرد کو جتنا چاہئے جنسی اُکساوے فراہم کرے لیکن ایک خاص حدود پار کرنے کے بعد مرد ریپ کا قصور وار ٹہرا دیا جاتا ہے۔
بلکہ مغربی معاشرے میں ایسی صورت حال بکثرت فراہم کی جاتی ہے کہ عورت جب چاہےکسی کو جنسی اکساوے فراہم کرے اور پھر اس پر آسانی کے ساتھ “ریپ” کا الزام دھر دے۔ یہاں عورت کا صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ فلاں نےا سکے ساتھ زنا کیا ہے۔سیکولر عناصر یہ پراپیگنڈہ بھی کرتے ہیں کہ عورت اگر چار گواہ نا لاسکے تو ملزم کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی ۔ اگر گواہوں کی شرط پوری نا ہوسکے تو اس صورت میں مجرم کو آزاد نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ اسے تعزیری سزا دی جاتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تعزیری سزا بھی اس سزا سے سخت ہے جتنی یہ زانی کو دینے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ حدود آرڈیننس سیکشن ۱۰ کے تحت اگرکوئی عورت ریپ کا الزام لگائےاور چار گواہ نہیں لاسکے، لیکن اس جرم کو ثابت کرنے کے لئے سائنسی، میڈیکل اور واقعاتی شہادتیں موجود ہوں تو مجرم کو تعزیری سزا دی جاسکتی ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہوسکتی ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
54%
ٹھیک ہے
8%
کوئی رائے نہیں
8%
پسند ںہیں آئی
31%




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved