پاک فوج کاپہلا کمانڈر انچیف کون تھا ، جنرل ایوب خان نے قیادت کب سنبھالی ،تاریخی واقعات سامنے آگءے
  25  جولائی  2017     |     اوصاف سپیشل

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بھارت کا جنگی جنون اپنے عروج پر ہے تو پاکستان کی مسلح افواج نے بھی اپنی تیاری پکڑلی ہے اور کسی بھی جارحیت کامنہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کرلیاگیاہے لیکن کچھ ایسی تاریخی باتیں ہیں جو نوجوان نسل کے کئی افراد کو معلوم نہیں ۔ ایک ’ماہنامے‘ کے مطابق پاکستان کی بری افواج کو ’’آرمی‘‘ کہا جاتا ہے۔پاک آرمی کا پہلا انگریز کمانڈر انچیف جنرل میسروی تھا،پاکستان آرمی کی ایک ڈویژن فوج میجر جنرل کی قیادت میں ہوتی ہے۔پاکستان کی آرمی کے عام طور پر تین کور ہوتے ہیں جبکہ ’جوان ‘بری فوج کے سب سے چھوٹے عہدے کا عنوان ہے۔پاک آرمی کے سربراہ کو ’’چیف آف سٹاف‘‘ کہتے ہیں۔پاکستان کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف کا نام فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے دفاعی ادارے کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی کھاریاں میں ہے۔

پاکستان آرمی میں بٹالین کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل کرتا ہے جبکہ بریگیڈ کی قیادت بریگیڈیئر کرتا ہے۔21 مارچ 1956ء میں ’’پاک آرمی‘‘ کو فضائی اور بحری افواج سے سینئر فوج قرار دیا گیا تھاجبکہ بحری فوج میں لیفٹیننٹ کمانڈر اورفضائی فوج میں اسکوارڈرن لیڈر کا عہدہ بری فوج میں ’’میجر‘‘ کے عہدے کے برابر ہوتا ہے۔پاکستان کی تمام مسلح افواج کے سربراہ کو ’’سپریم کمانڈر‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ عہدہ وزیراعظم پاکستان کے پاس ہوتا ہے۔پاکستان بری فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کا عہدہ اعزازی طور پر سرآغا خان کو دیا گیا تھا۔پاکستان کی بری، فضائی افواج کے ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں جبکہ بحری افواج کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے۔پاکستان کی فضائی افواج کو ’’ایئر فورس‘‘ کہا جاتاہے اور اس کے مسلمان کمانڈر انچیف ایئرمارشل اصغر خان تھے۔پاک فضائیہ کے سربراہ کو ’’ایئرمارشل‘‘ کہتے ہیں۔پاک فضائیہ کا پہلا انگریز کمانڈر انچیف ایئر وائس مارشل ایل آر ایچرے تھا۔پاک بحریہ میں سینئر عملہ کا آغاز وارنٹ آفیسر کے عہدے سے ہوتا ہے جبکہ سینئر عہدیداروں کی سنیارٹی بالترتیب ایڈمرل، وائس ایڈمرل، ایئرایڈمرل، کموڈر، کمانڈر لیفٹیننٹ، سب لیفٹیننٹ، وارنٹ آفیسرہوتی ہے۔پاکستان فضائیہ ہیڈکوارٹر میں ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس ایئرسٹاف برانچ کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔پاک فضائیہ کے جہاز کو سب سے پہلا حادثہ 26نومبر 1947ء کو پیش آیا تھا جبکہ ’’ایف 86 جیٹ جنگی جہاز‘‘ 1956ء میں خریدے گئے تھے۔پاکستان فضائیہ کے زیر تربیت افسروں کو اعلیٰ تربیت کیلئے برطانیہ اور امریکہ میں بھیجا جاتا ہے۔بحری افواج کو ’’نیوی‘‘ کہا جاتاہے جس کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف حافظ حاجی محمد صدیق تھے۔پاک بحریہ کے سربراہ کو ’’ایڈمرل‘‘ کہتے ہیں۔پاک بحریہ کا پہلا انگریز کمانڈر انچیف ریئر ایڈمرل جیفورڈ جیمز ولفریڈ تھا۔پاکستانی بحریہ کے جونیئر عہدے بالترتیب برانچ لسٹ آفیسر، ہڈ شپ مین، چیف پیٹی آفیسر، پیٹی آفیسر، لیڈنگ ریٹ، ایبل ریٹ، آرڈنری ریٹ ہوتے ہیں۔5جون 1957ء کو پاکستان بحریہ نے ’’مجاہد‘‘ اور ’’مبارک‘‘ نامی جنگی جہاز خریدے تھے۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں اسلحہ سازی کا ایک بھی کارخانہ نہیں تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved