تذکرہ قطب العالم حضرت سیدجلال الدین حسین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بخاری کی کرامات
  25  جولائی  2017     |     اوصاف سپیشل

وادی کشمیر میں آمد اور فیض رسانی ۷۴۸ھ میں حضرت مخدوم سیروسیاحت کی غرض سے وادی کشمیر میں تشریف لائے تو کشمیر کی مشہور مجذوبہ عارفہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے کوہِ سیلمان پر ان سے مراقبے کرائے اور انہیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ جب آپ کشمیر سے واپس ہوئے تو لَلّٰہ عارفہ سے فرمایا: کہ میرے بعد حضرت حسین سمنانی یہاں تشریف لائیں گے اور وہ تمہیں سلوک اور طریقت کی منزلیں طے کرائیں گے۔ چنانچہ ۷۷۳ھ میں حضرت امیر کبیر علی ہمدانی کے حکم پر حضرت سید حسین سمنانی کشمیر تشریف لائے تو ان کے استقبال کے لیے للہ عارفہ کئی میل پیدل چل کر حاضر ہوئی اور جب تک کشمیر میں رہے للہ عارفہ آپ سے روحانی فیض حاصل کرتی رہیں۔ ۱۰۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی حضرت مخدوم سے ملاقات ایک مرتبہ امیر کبیر سید علی ہمدانی، حضرت مخدوم جہانیاں کی ملاقات کو آئے اور آپ کے حجرے کے باہر بیٹھ گئے۔ خادم نے اطلاع دی کہ سید علی ہمدانی آکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت مخدوم نے فرمایا: ’’ہمہ دان تو علام الغیوب کے سوا کوئی نہیں!‘‘ یہ کہہ کر ان کو اندر طلب کیا۔ اس واقعہ سے سید علی ہمدانی کو بڑی کوفت ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے ہمدان کا معنی بیان کرنے میں ایک رسالہ تحریر کیا۔ شاید حضرت مخدوم کے اعتراض فرمانے کی حکمت بھی یہی ہو۔ ۱۱۔ مخدوم جہانیاں بارگاہ رسالت مآب میں دوران حج آپ جب روضۂ انور پر حاضری کے لیے مدینہ طیبہ میں حاضر ہوئے تو لوگوں نے سوال کیا: آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں سید ہوں۔ وہاں کے سادات نے آپ کو تسلیم نہ کیا تو آپ نے فرمایا: چلو روضۂ انور پر۔ اگر تصدیق ہوگئی تو ٹھیک ورنہ بے شک تسلیم نہ کرنا۔ چنانچہ لوگوں کے جم غفیر کے ساتھ وہاں کے ایک سید صاحب نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور روضۂ انور پر لے گئے۔ جاتے ہی وہاں کے سید صاحب نے کہا الصلوٰۃ والسلامُ علیک یا جدی۔ اے میرے جد پاک آپ پر صلوٰۃ و سلام ہو۔ پھر تھوڑے وقفے کے بعد مخدوم جہانیاں نے کہا الصلوٰۃ والسلامُ علیک یا جدي تو روضۂ انور سے با آواز بلند جواب آیا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَا وَلَدِيْ۔ أَنْتَ مِنِّیْ وَقُرَّۃُ عَیْنِيْ۔ ’’اے میرے بیٹے تم پر بھی سلام ہو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔‘‘ جب یہ آواز سب نے سنی تو آپ کے معتقد ہوگئے۔ دوسرے سید صاحب کو اپنے نسب میں شک ہونے لگا کہ میں سید نہیں ہوں کہ مجھے جواب نہ ملا۔ مخدوم جہانیاں نے فرمایا۔ نہیں سید آپ بھی ہیں مگر نظر اپنی اپنی ہے۔ جب آپ نے سلام کیا حضورﷺ نماز ادا فرما رہے تھے۔ جب میں نے سلام کیا حضورﷺ سلام پھیر چکے تھے۔ ۱۲۔ ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں ایک مرتبہ آپ جدہ کی جامع مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ گزرا۔ آپ نے پوچھا کہ کس کا جنازہ ہے؟ عرض کی بدر الدین یمینی کا جو حج سے ہوکر یہاں فوت ہوگئے۔ آپ نے فرمایا: لوگو جلدی نہ کرو شاید انہیں سکتہ ہوگیا ہو! آپ کے حکم کے مطابق جنازہ اتار دیا گیا۔ آپ نے نوافل شروع کئے، پھر قرآن پاک کی تلاوت شروع کی اور آیت یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ کا بار بار ورد کرتے رہے۔ اتنے میں بدر الدین یمینی کی نعش میں حرکت پیدا ہوئی اور زندہ ہو کر اُٹھ بیٹھے۔ ۱۳۔ مخدوم جہانیاں اور موت کا علم سید شمس الدین سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ نمازِ چاشت ادا فرما رہے تھے کہ ان کا چھوٹا صاحبزادہ مصلیٰ کے اردگرد گھوم رہا تھا۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو مجھے مخاطب ہوکر فرمانے لگے: یہ بچہ زندہ نہیں رہے گا کیونکہ عین نماز میں میری طبیعت اس کی طرف مائل ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ اسی دن ظہر کے وقت بیمار ہوا اور رات کو انتقال کرگیا۔ ۱۴۔ سلطنت ہندکی غیاث الدین کو سپردگی

حضرت جلال الدین بخاری اوچ شریف میں تھے۔ یہ واقعہ ملتان جا کے مرشد کے خرقۂ خلافت حاصل کرنے سے پہلے کا ہے کہ ایک روز دِلّی سے غرنی جانے والے ایک قافلہ نے اوچ میں پڑاؤ کیا۔ رات کو عشاء کے بعد قافلے کے لوگوں کا ایک وفد سیّد احمد کبیر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ناصر الدین خسرو بادشاہِ ہند کی شقاوت کا حال بیان کرنے لگا۔ نو عمر حضرت جلال الدین بھی والد کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ پہلے بھی بہت سن چکے تھے۔ وفد نے ناصر الدین خسرو کے چشم و دید واقعات اور خود پر بیتی ہوئی داستان سنائی تو جلال الدین بخاری کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا اور اضطراری کی حالت میں اُن کی زبان سے تین بار لفظ ’’غیاث ‘‘ ادا ہوا۔ پھر جلال الدین بخاری نے دِلّی کی سمت ہاتھ اٹھا کر پکارتے ہوئے کہا: ’’غیاث لے، اسلام کی تیغ تجھے دی۔ خسرو کا ناپاک جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔‘‘ سید احمد کبیر رحمتہ اللہ علیہ نے پیارے بیٹے کو صبر کی تلقین کی اور آہستگی سے فرمایا: جلال الدین بہتر ہے کہ منافقین کے فیصلے اللہ پر چھوڑ دئیے جائیں۔ حضرت مخدوم نے بے تابانہ انداز میں عرض کی: مگر بابا جی، یہ فیصلہ تو لوحِ محفوظ پر لکھا ہوا ہے! زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ایک دن دِلّی سے آنے والے شاہی قاصد نذرانوں کے ساتھ ملتان اور اوچ کی خانقاہوں میں داخل ہوئے۔ انہوں نے مشائخ کو خوشخبری دے کہ اب دِلّی کے تخت پر غیاث الدین تغلق، تاجدارِ ہند کی حیثیت سے جلوہ افروز ہو چکا ہے ناصر الدین خسرو اس کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ نیا سلطان مشائخ سے تعاون کا خواست گار ہے۔ غیاث الدین تغلق نے تقریباً پانچ سال حکومت کی اور شریعت کا پابند تھا۔ ۱۵۔ مخدوم جہانیاں کی عیدی ایک مرتبہ آپ بہاؤ الدین زکریا کے مزار پر شب عید کو حاضر ہوئے اور عیدی مانگی، مزار سے آواز آئی: آپ نے انہیں مخدوم جہانیاں کہہ کر مخاطب کیا۔ اور فرمایا کہ یہی تمہاری عیدی ہے۔ پھر آپ شیخ صدر الدین کے مقبرے پر گئے تو وہاں سے بھی یہی جواب ملا۔ پھر جب شاہ رکن عالم کی خدمت میں حاصر ہوئے عیدی مانگنا ہی چاہتے تھے کہ شیخ نے پہلے ہی فرما دیا کہ تمہاری عیدی وہی ہے جو تم مزارات پر حاضر ہوکر شیوخ سے لے آئے ہو۔ جب آپ واپس آئے تو راستے میں جو شخص بھی آپ کو ملتا وہ کہتا قطب عالم ’’مخدوم جہانیاں‘‘ آ رہے ہیں۔ ۱۶۔ ایک وقت میں کئی جگہ موجودگی تذکروں میں مخدوم جہانیاں کے بہت ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک طرف لوگوں کے درمیان بیٹھے ہیں، دوسری طرف اسی وقت وہ بہت دُور دیکھے گئے۔ حضرت مخدوم سیروساحت کرتے ہوئے سمر قند پہنچے تو خود بادشاہ سمر قند نے ہزارہا عقیدت مندوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور ان سے رشد و ہدایت کی درخواست کی۔ آپ نے درخواست منظور فرمائی تو آپ کو دربار میں لایا گیا۔ انہوں نے سردربار وعظ فرمایا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ عین اسی وقت حضرت مخدوم کو سمر قند کی جامع مسجد میں خطاب کرتے دیکھا گیا۔ ان کی یہ کرامت اس وقت کھلی جب آپ سمر قند سے روانہ ہوئے۔ اسی طرح بنگال کے قطب شیخ علاؤ الدین چشتی نے وصال سے کچھ دیر پہلے خواہش ظاہر کی میرا جنازہ مخدوم جہانیاں پڑھائیں۔ جب حضرت شیخ کی وفات ہوئی تو شیخ کے مرید حیران تھے کہ شیخ کی یہ خواہش کیسے پوری ہوگی جبکہ حضرت مخدوم سینکڑوں میل دور ہیں۔ لیکن عین جنازے کے وقت لوگوں نے حضرت مخدوم کو وہیں موجود پایا۔ حالانکہ وہ اوچ شریف میں تھے ۔ چنانچہ حضرت مخدوم نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔ نور قطب کو شیخ علاؤالدین کا سجادہ نشین مقرر کیا اور بے شمار اکابر کو مرید بنایا۔ اور جس طرح اچانک آئے تھے اسی طرح غائب ہوگئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
91%
ٹھیک ہے
9%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved