پونجا جناح ،قائداعظمؒ اور سکول کے دن
  26  جولائی  2017     |     اوصاف سپیشل

لاہور(ویب ڈیسک) پانیلی اور گونڈل میں چند ہفتے قیام کرنے کے بعد میرے والدین اپنے ننھے بیٹے کے ساتھ کراچی واپس روانہ ہو گئے، جس کا ننھا سا ذہن ابھی اس بات کا ادراک نہیں کرسکتا تھا کہ گانود اور پانیلی میں اس کی آمد اس قدر جوش و خروش اور پرمسرت تقریبوں کا باعث بنی رہی ہے۔ کراچی واپس پہنچ کر میرے والد تو اپنی کاروباری ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف ہو گئے جبکہ والدہ نے اپنی تمام تر توجہ اور وقت اپنے نومولود بیٹے کو دینا شروع کردیا۔ کسی موقع پر پیسوں کی اشد ضرورت کے باوجود، خاص طور پر جب والدہ کی یہ خواہش ہوتی تو بھی میرے والد بودوباش اور روپے پیسے کے معاملے میں محتاط رہتے تھے۔ ایک تاجر جو ایک نئے شہر میں پاؤں جمانے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا، اسے چھوٹی چھوٹی رقوم کے معاملے میں محتاط ہونا چاہیے تھا۔ یہ گھرانہ سادہ زندگی بسر کرتا تھا۔ شان و شوکت کی کمی کو ایک خوش و خرم زندگی کے تپاک سے پورا کیا جاتا۔ اگرچہ میرے والد کا کاروبار کافی پھیل چکا تھا تب بھی بے مصرف کاموں پر روپیہ پیسہ خرچ نہ کرنے کی عادت برقرار رہی۔ دولت آنی جانی چیز ہے، یہ آج آپ پر مہربان ہوسکتی ہے مگر کون جانتا ہے کہ کل اس کا موڈ کیا ہوگا۔ میرے والد نے اسی اصول کے تحت گھر کا بجٹ چلایا۔ جب ہم لوگ بڑے ہوئے تو اس بات کا ہمارے ذہن پر شدید اثر موجود تھا۔ قائداعظمؒ کی زندگی کا یہ انداز ایسا تھا جو ہمیشہ برقرار رہا۔

محمد علی اب تقریباً چھ سال کے ہو چکے تھے اور میرے والدین نے انہیں گھر پر ہی گجراتی پڑھانے کے لیے ایک استاد کی خدمات حاصل کرلیں۔ ان کا خیال تھا کہ ان کا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہے اور سب سے قریبی سکول بھی ہمارے گھر سے کافی فاصلے پر تھا۔ یہ فاصلہ اتنا تھا کہ والدین کے خیال میں چھ سال کا بچہ اسے پیدل طے کرنے کے قابل نہیں تھا۔ محمد علی کو پڑھنے کے لیے جو سبق دیا جاتا وہ اس سے لاپروا سے رہتے۔ وہ قطعی طور پر جمع تفریق کی حسابی دنیا میں داخل ہونے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس طرح استاد کے ساتھ ان کا وقت ایک ناگواری مجبوری کی حالت میں گزرتا۔ اس کے برعکس جب وہ پڑوسی لڑکوں کے ساتھ کھیل میں مشغول ہوتے تو زیادہ خوش وخرم رہا کرتے اور زیادہ بے تکلفی سے کام لیتے۔ ان لڑکوں میں انہیں کھیلوں میں مہارت رکھنے والے بچے کی شہرت حاصل تھی۔ ان کے ساتھ بچے انہیں اپنے بچگانہ ذہنوں میں اپنا لیڈر تصور کرتے اور محمد علی نے بھی محسوس کرنا شروع کردیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے بہتر ہیں۔ جب وہ نو سال کے ہوئے تو انہیں پرائمری سکول میں داخل کرا دیا گیا جہاں امتحان کے وقت انہیں اپنے ہم جماعت طلبا کے ساتھ پڑھائی میں مقابلہ کرنا پڑا۔ انہیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ سکول میں دوسرے لڑکے ان سے زیادہ نمبر حاصل کرکے ان سے آگے نکل گئے تھے۔ کھیلوں میں وہ دوسرے لڑکوں کو شکست دیا کرتے تھے، وہ خود کو ہمیشہ دوسرے سے بہتر اور برتر سمجھے تھے۔ مگر انہیں معلوم ہوا کہ وہ اپنی کلاس میں اول پوزیشن کے مالک نہیں تھے، سکول جانے کے بعد انہیں اپنے کھیل کے اوقات سے کئی گھنٹے پڑھائی کے لیے نکالنے پڑتے تھے اور سکول میں اتنا وقت رہ کر بھی انہیں بہترین طالب علم کی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا دل کتابوں اور سکول سے اچاٹ ہو گیا۔ جس نے میرے والدکو پریشان کر دیا۔ وہ اپنے بیٹے کو مناسب تعلیم دلوانا چاہتے تھے تاکہ وہ میٹرک کرنے کے بعد ان کے ساتھ کاروبار میں شامل ہو سکے۔ میری والدہ جنہیں محمد علی کی خوش بختی پر اندھا اعتماد تھا اکثر کہا کرتی تھیں: میرا محمد علی بہت بڑ ا آدمی بنے گا، وہ بہت ذہین اور ہوشیار ہوگا۔ وہ دوسرے لڑکوں سے بہت بہتر ثابت ہوگا مگر اب انہیں اپنے خواب ٹوٹ کر زمین پر بکھرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ ماں نے انہیں پیار سے سمجھایا کہ وہ باقاعدگی سے سکول جایا کریں اور اپنی تعلیم کی جانب سنجیدگی سے توجہ دیں کیونکہ صرف اسی طرح وہ زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں اور ایک بڑے آدمی بن سکتے ہیں۔ جو دوسروں سے بلند و برتر اور ممتاز ہوگا۔ بچے کی ہٹ دھرمی پر شدید رنجیدہ ہونے کے باوجود والد نے ان کے ساتھ نرمی سے کام لیا اوران سے کہا کہ وہ اپنی کتابوں پر پوری توجہ دیتے رہیں۔ ننھے محمدعلی نے کہا "اباجان مجھے سکول جانا اچھا نہیں لگتا۔" "پھر تم کیا کرنا چاہتے ہو؟" "اباجان میں آپ کے ساتھ دفتر میں بیٹھ کر کاروبار سیکھنا چاہتا ہوں" "مگر ابھی تم اس کیلئے بہت چھوٹے ہو محمد علی۔" "میں آپ کے دفتر میں بیٹھ کر سکول کی نسبت زیادہ بہتر کام کروں گا۔" میرے والد ذہین انسان تھے۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے بیٹے کو ترغیب دینے کی کوشش کی۔ محمد علی میرے دفتر کا ڈسپلن بہت سخت ہے۔ تمہیں میرے ساتھ صبح آٹھ بجے دفتر جانا پڑے گا۔ دوپہر کے کھانے کے لیے ہم دو بجے سے چار بجے تک گھر واپس آئیں گے اور اس کے بعد ہمیں دوبارہ چار سے نو بجے رات تک دفتر میں رہنا ہوگا؟ "میں ایسا ہی کروں گا، ابا جان" "مگر تمہیں کھیلنے کیلئے بالکل وقت نہیں ملے گا" "مجھے اس کی پرواہ نہیں۔" اور یوں ننھے منے محمد علی والد کے دفتر اور اپنے کمرہ جماعت کے درمیانی فاصلوں کو توڑتے ہوئے میرے والد کے ساتھ شریک کار ہو گئے۔ لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ وہ دفتر میں کوئی کام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہر کام کا تعلق لکھنے پڑھنے سے تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved