کروڑوں میں کھیلنے والااچانک مزدور بن گیا
  28  جولائی  2017     |     اوصاف سپیشل

یہ سچا اور میرے سامنے کا واقعہ ہے یہ 1970-80ء کی درمیانی دہائی کا واقعہ ہے۔ ہمارے قریب ایک آدمی رہتا تھا اس کی تھوڑی سی زمین تھی اور ساتھ ہی وہ اینٹیں بنانے کاکام بھی کرتا تھا‘ اس وقت وہ سعودی عرب چلا گیا اور وہاں پر ایک سعودی سیٹھ کے ساتھ ایلومینیم فیکٹری چلاتا تھا‘ اس کی وہاں ٹھاٹھ باٹھ بن گئی‘ نت نئی کار تبدیل کرتا‘ جب پاکستان رہنے آبائی گھر آتا تھا تو علاقہ کے زمیندار اس سے ملنےکیلئے جاتے اور اس کی دعوتیں کرتے تھے‘ کئی زمیندار حضرات تو اس کے بیوی بچوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر کراچی ایئر پورٹ پر چھوڑنے اور لیجانے کیلئے جاتے تھے۔میرے ایک قریبی عزیز نے بتایا کہ 1977ء میں میں جب اس کے گھر سعودی عرب گیا تو اس کے گھر میں فریزر رکھا ہوا تھا اور وہاں پر ڈسپوزیبل بوتلوں کے کریٹ رکھے ہوئے تھے اور پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اگر مہمان زیادہ آجائیں تو بار بار بازار نہ جانا پڑے۔۔۔ حالانکہ اس دور میں پاکستان میں صرف کسی مریض کو بوتل پلائی جاتی تھی‘ عام بوتل پینے کا رواج نہ تھا۔ ایک دفعہ میں اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ اس کے گھر گیا تو واپسی پر اس نے میرے اس چچازاد کو تین عدد گھڑیاں لاکر دیں اور بتایا کہ ان میں سے جو آپ کو پسند ہو وہ لے لیں‘ میرے اس چچازاد نے ویسٹ اینڈ واچ گھڑی رکھ لی۔ دوسرے دن وہ آدمی میرے چچا کے پاس آیا تو میرے چچا نے اسے بتایا کہ آپ نے میرے بیٹے کو گھڑی دی ہے اچھا کیا ہے لیکن آپ اس کی قیمت بتلا دیں میں آپ کو اس کی قیمت ادا کردوں گا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ پر دوسری طرح کا وقت آجائے اور ہم آپ کی خدمت نہ کرسکیں تو اس وقت کا لیا دیا اچھا ہے۔ اس بات کا یہ مطلب تھا کہ ہوسکتا ہے کہ آپ دوبارہ غریب ہوجائیں اور ہم آپ کی امداد نہ کرسکیں۔ یہ بات میں اب لکھ رہا ہوں کہ میرے چچا علاقہ میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے تھے اور اس آدمی کے خط میرے چچا کے پاس ہی آتے تھے اور ان کا بھائی خط سن کر بھی جاتا تھا اور جواب بھی لکھوا جاتا تھا۔ایک دفعہ ان کا بھائی خط لیکر آیا اور میرے چچا نے انہیں پڑھ کر سنایا تو میں بھی ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا۔

اس خط میں دیگر حالات کے علاوہ یہ بات بھی لکھی ہوئی تھی کہ میں آج کے بعد یہ بات نہ سنوں کہ میرا بھائی اینٹیں بنارہا ہے‘ یہ میری شان کے خلاف ہے اور یہ کام تم آج ہی چھوڑ دو۔وقت کاپہیہ چلتا رہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے الفاظ سن کر اپنی ناراضگی ظاہر کی‘ اللہ رب العزت نے ایسے حالات پیدا کردئیے کہ یہ آدمی جن کپڑوں میں کھڑا تھا سعودی حکام نے اسے اور اس کی بیوی بچوں کو جہاز میں بٹھا کر ڈی پورٹ کردیا‘ یہ کسی قسم کا سامان وہاں سے نہ لے جاسکا اور کراچی آگیا۔ وہاں سے کسی طرح وہ آدمی اپنے گھر آگیا اب وہ آدمی جو اسے ایئرپورٹ پر بٹھانے اور لے آنے کیلئے کراچی جاتے تھے منہ موڑ گئے جن کے پاس اس آدمی کے لاکھوں روپے جمع ہوتے تھے وہ پہچاننے سے انکاری تھے۔ اب یہ آدمی مرتا کیا نہ کرتا۔۔۔ خود اینٹیں بنانی شروع کردیں اور کئی سال تک اینٹیں بناتا رہا۔۔۔ اب اس آدمی کی اولاد جوان ہوگئی ہے‘ محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پال رہے ہیں۔ سچ ہے کہ آدمی اپنے چھوٹے منہ سے کوئی بڑی بات نہ نکالے کب اللہ تعالیٰ کی ناراضگی آجائے اور وہ آدمی پکڑا جائے۔ یہ بھی سچ ہے کہ غرور کا سر نیچا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
84%
ٹھیک ہے
8%
کوئی رائے نہیں
3%
پسند ںہیں آئی
5%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved