پانامہ پیپرز امریکہ نے تیار کروائے ،وکی لیکس پانامہ پیپرز کی تیار ی اور اشاعت کے لئے فنڈز یو ایس ایڈ اور جارج سوروس فاونڈیشن نے جاری کئے
  31  جولائی  2017     |     اوصاف سپیشل

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور اپنے مفادات کی راہ میں حائل نواز حکومت کو ختم کرنے کے لیے ”پانامہ پیپرز “تیار کروائے اور انھیں دینا بھر میں پھیلانے کے لیے امریکی ادارے ” یو ایس ایڈ اور جارج سورس فاو¿نڈیشن کے زریعے فنڈ ز مہیا کیے ہیں۔وکی لیکس نے جاری کی گئی خفیہ دستاویزات میں اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکی جو دینا بھر میں اپنا لبرل اور مہم جوئی کا کر دار تیزی کے ساتھ کھورہا ہے ، اب اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ دنیا میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران پیدا کرنے کے لیے ڈالر کی طاقت کو استعمال کرے۔ پانامہ پیپرز تیار کرنے والی ریاست(پانامہ) امریکہ کی ایک کالونی ہے جہاں سی آئی اے کا ایک بڑا آپریشن سنٹر اور امریکی اڈے موجود ہیں ، پانامہ میں امریکی سی آئی اے کی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہیں مار سکتی ہے ۔ پانامہ امریکہ کے لیے ڈرگ کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم گزر گاہ ہے ، امریکہ ڈرگ کی آمدنی لاطینی امریکہ میں اپنی مخالف انقلابی حکومتوں کا تختہ الٹنے لیے استعمال کرتا ہے ،پانامہ کے صدر نو ریگا جو لاطینی امریکہ میں انقلابی حکومتوں کی حمایت کرتا تھا اس نے امریکہ کے لیے پانامہ کے راستے ڈرگ کا کاروبار کرنے والوں کا راستہ بند کر دیا تھا جس پر امریکہ نے پہلے اسے سخت نتائج کی دھمکی دی جب وہ امریکی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوا تو امریکہ نے 20 دسمبر 1989کو Operation Just Cause کے نام سے پانامہ پر حملہ کر کے وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی ، پانامہ کے صدر نوریگا نے امریکی قبضے کے بعد ویٹی کن سٹی کے سفارتخانے میں پناہ لی مگر امریکہ نے تمام تر سفارتی اداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 3 جنوری 1990 کو سفارتی خانے پر فوجی حملہ کیا اور صدر نو ریگا کو سفارتخانے سے اٹھا کر MC-130E Combat Talon I aircraftجہاز می کے زریعے امریکہ لے جا کر جیل میں ڈال دیا ۔امریکہ نے پانامہ میں اپنی اسی کٹھ پتلی حکومت کے زریعے پانامہ پیپرز تیار کروائے جنھیں امریکہ مخالف حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ان پیپرز کی تیاری کے لیے ، وکی لیکس کے مطابق امریکہ کے سرکاری ادارے ” یو ایس ایڈ اور امریکہ کی ہی جارج سورس فاو¿نڈیشن نے فنڈ ز مہیا کیے ہیں۔جارج سورس فاونڈیشن جو دینا میں امریکی مفادات کے لیے کام کرتی ہے ، اس نے 1990کی دہائی میں جب مشرق بعید کے ممالک ملایشیا وغیرہ جو ایشین ٹاگرز کہلاتے تھے ،عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مل کر ملایشیا میں کرنسی کا بحران پیدا کر کے وہاں کی معیشت کو عملا تباہ کر دیا تھا، ملایشیا کے صدر مہاتر محمد نے اس بحران کی تمام تر زمہ داری امریکہ کی ایما پر کام کرنے والے آئی ایم ایف اور جارج سورس فاونڈیشن پر عائد کی تھی ۔سیاسی مبصرین کا موقف ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا بنیادی مقصد یہاںشام اور عراق کی طرح کے حالات پیدا کرنا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے تاکہ دینا کو یہ باور کروایا جا سکے کہ کسی بھی وقت دہشت گرد ریاست پاکستان پر قبضہ کر سکتے ہیں اور وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کر کے پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار عالمی کنٹرول (امریکی کنٹرول) میں لے لیے جائیں ۔ان مبصرین کا خیال ہے کہ 2014میں بھی دھرنے کے دوران ملک پر قبضے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس سازش کو ناکام بنانے میں حکومت کا بھر پور ساتھ دیا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ پہلے حکمران خاندان کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے اس قدر بد نام کیا جائے تاکہ جب انھیں نکالا جائے تو اُنھیں اپوزیشن جماعتوں سیمت عوام کی حمایت نہ مل سکے ، اس مقصد کے لیے پانامہ پیپرز تیار کر کے ملک میں ایک ایسا بحران پیدا کر دیا گیا ہے کہ جس سے ملک عملا تبائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔عالمی میڈیا میں چھپنے والی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سارے کھیل میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت امریکی سامراج کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کا کر دار ادا کر رہی ہے جو امریکہ کی سرپرستی میں پاکستان میں شام عراق اور لیبیا کی طرز پر خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری کر رہی ہے جس کے لیے بلوائیوں کے لشکر تیار کرنے کے لیے جرائم پیشہ تنظیموں اور عالمی دہشت گرد گرہوں سے رابطوں کا بھی انکشافات ہو رہے ہیں ،2014 میں بھی ایسے ہی جتھوں کو ان کے طعام و قیام کا بندو بست کر کے دارلحکومت اسلام آباد پر قبضے کاحدف دیا گیا تھا،ان بلوائیوں نے پروگرام کے مطابق دارلحکومت پر قبضے کی یکے بعد دیگرے کئی کوششیں کیں مگر حکومت کی کامیاب حکمت عملی اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے تعاون سے بلوائیوں کے ان حملوں کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔نواز حکومت کے خلاف مبینہ سازش کے حوالے سے ایک عالمی نشریاتی اشاعتی ادارے گارڈین لائیونے اپنی 6نومبر 2016کی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ 2017 کے وسط میں مسلم لیگ کی حکومت کو عدالتی بغاوت (judicial coup) کے ذریعے ختم کر دیا جائے گا ، رپورٹ کے مطابق اس کی منصوبہ بندی جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے کی ہے ۔ ان دنوں رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک بڑا اسلامی ملک بھی پڑوسی اسلامی ممالک کے خلاف فوج مہیا نہ کرنے پر نواز شریف سے سخت نالاں ہے اور اسنے بھی امریکہ سے مل کر نواز شریف کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ان مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کے جرائم اس قدر بڑے ہیں کہ اسے کوئی بھی درگزر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق نواز شریف کا پہلا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے پاکستان کو امریکی غلامی سے نکالنے کی راہ ہموار کی اور خطہ کے ممالک کے ساتھ مل کر اجتماعی ترقی اور منسلکی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے ۔نواز شریف کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے بھارت کے ساتھ مل کر چین کا گھیراو کرنے کے لیے امریکی مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔نواز شریف کا تیسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبے کی بدولت پاکستان کو خطہ کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بنا رہاہے ۔نواز شریف کا چوتھا بڑا جرم یہ ہے کہ جون 2013میںڈیفالٹ ہونے والے پاکستان کو بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ نواز شریف کا پانچواں بڑاجرم یہ ہے کہ اس نے چھیاسٹھ سالوں میں ہونے والی مجموعی سرمایہ کاری سے زیادہ سرمایہ کاری ان چار سالوں میں لائی ہے جس کے باعث پاکستان آئندہ پانچ سے سات سالوں میں تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والا چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہو گا ۔نواز شریف کاچھٹا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس اور چین کی قیادت میں بننے والے ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے 80 سے زاہد ممالک کے اتحاد میں پاکستان کو شامل کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے ۔نواز شریف کا ساتواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے راہ ہموار کی ہے ۔نواز شریف کا آٹھواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے افغانستان سے نکلنے کے لیے امریکہ کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں مدد نہیں کی ہے ۔نواز شریف کا نواں جرم یہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد میں شمولیت سے انکار کیا ہے ۔نواز شریف کا دسواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے ایک بڑی اسلامی ملک کو پڑوسی اسلامی ممالک کے خلاف فوج دینے سے انکار کر دیا۔نواز شریف کا گیارواں جرم یہ ہے کہ اس نے امریکی پالیسیوں کے برعکس فیڈریشن کو مضبوط کیا اور سی پیک کے زریعے چاروں صوبوں کو ایک مضبوط زنجیر میں باندھ دیا ہے ۔نواز شریف کا بارواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے بلوچستان خیبر پختونخواہ اور سندھ کی قوم پرست قیادت کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی اختیار کی جس سے ان صوبوں میں علحدگی کی تحریکیں کمزور ہوئی ہیں اور نواز شریف کا تیرواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے برعکس بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر کو پر امن بنیادوں پر حل کرنے کی کوششیںترک نہیں کی ہیں۔ہر چند کے نواز شریف کے جرائم کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، جن کے باعث مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کو اب کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے ، ان مبصرین کا یہ موقف ہے کہ فوج سیمت تمام دوسرے اداروں کی یہ تاریخی زمہ داری ہے کہ وہ ملک کے خلاف ہونے والی سازش کو ناکام بنانے کے لیے فیصلہ کن کر دار ادا کریں،اس کے برعکس اگر یہ سازش کامیاب ہوتی ہے تو یہ حکومت کی نہیں ریاست کی ناکامی ہو گی جس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا ہو گی۔ اسی حوالے سے دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے ، نواز شریف کو یہ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ،وہ اس سازش میں شامل تمام کر داروں کے بے نقاب ہونے تک کوئی جوابی حملہ نہیں کریں گے ،جب تمام سازشی کر دار بے نقاب ہو جائیں گے تو اس کے بعد وہ یہ کیس پہلے عوام کی عدالت میں لے جائیں گے، پھر دوسرے محاذوں پر لڑیں گے ،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف ملک کو سازشیوں کے حوالے کر کے چلاجائے گا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہو گی۔امریکہ نے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور اپنے مفادات کی راہ میں حائل نواز حکومت کو ختم کرنے کے لیے ”پانامہ پیپرز “تیار کروائے اور انھیں دینا بھر میں پھیلانے کے لیے امریکی ادارے ” یو ایس ایڈ اور جارج سورس فاو¿نڈیشن کے زریعے فنڈ ز مہیا کیے ہیں۔وکی لیکس نے جاری کی گئی خفیہ دستاویزات میں اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکی جو دینا بھر میں اپنا لبرل اور مہم جوئی کا کر دار تیزی کے ساتھ کھورہا ہے ، اب اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ دنیا میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران پیدا کرنے کے لیے ڈالر کی طاقت کو استعمال کرے۔ پانامہ پیپرز تیار کرنے والی ریاست(پانامہ) امریکہ کی ایک کالونی ہے جہاں سی آئی اے کا ایک بڑا آپریشن سنٹر اور امریکی اڈے موجود ہیں ، پانامہ میں امریکی سی آئی اے کی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہیں مار سکتی ہے ۔ پانامہ امریکہ کے لیے ڈرگ کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم گزر گاہ ہے ، امریکہ ڈرگ کی آمدنی لاطینی امریکہ میں اپنی مخالف انقلابی حکومتوں کا تختہ الٹنے لیے استعمال کرتا ہے ،پانامہ کے صدر نو ریگا جو لاطینی امریکہ میں انقلابی حکومتوں کی حمایت کرتا تھا اس نے امریکہ کے لیے پانامہ کے راستے ڈرگ کا کاروبار کرنے والوں کا راستہ بند کر دیا تھا جس پر امریکہ نے پہلے اسے سخت نتائج کی دھمکی دی جب وہ امریکی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوا تو امریکہ نے 20 دسمبر 1989کو Operation Just Cause کے نام سے پانامہ پر حملہ کر کے وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی ، پانامہ کے صدر نوریگا نے امریکی قبضے کے بعد ویٹی کن سٹی کے سفارتخانے میں پناہ لی مگر امریکہ نے تمام تر سفارتی اداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 3 جنوری 1990 کو سفارتی خانے پر فوجی حملہ کیا اور صدر نو ریگا کو سفارتخانے سے اٹھا کر MC-130E Combat Talon I aircraftجہاز می کے زریعے امریکہ لے جا کر جیل میں ڈال دیا ۔امریکہ نے پانامہ میں اپنی اسی کٹھ پتلی حکومت کے زریعے پانامہ پیپرز تیار کروائے جنھیں امریکہ مخالف حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ان پیپرز کی تیاری کے لیے ، وکی لیکس کے مطابق امریکہ کے سرکاری ادارے ” یو ایس ایڈ اور امریکہ کی ہی جارج سورس فاو¿نڈیشن نے فنڈ ز مہیا کیے ہیں۔جارج سورس فاونڈیشن جو دینا میں امریکی مفادات کے لیے کام کرتی ہے ، اس نے 1990کی دہائی میں جب مشرق بعید کے ممالک ملایشیا وغیرہ جو ایشین ٹاگرز کہلاتے تھے ،عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مل کر ملایشیا میں کرنسی کا بحران پیدا کر کے وہاں کی معیشت کو عملا تباہ کر دیا تھا، ملایشیا کے صدر مہاتر محمد نے اس بحران کی تمام تر زمہ داری امریکہ کی ایما پر کام کرنے والے آئی ایم ایف اور جارج سورس فاونڈیشن پر عائد کی تھی ۔سیاسی مبصرین کا موقف ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا بنیادی مقصد یہاںشام اور عراق کی طرح کے حالات پیدا کرنا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے تاکہ دینا کو یہ باور کروایا جا سکے کہ کسی بھی وقت دہشت گرد ریاست پاکستان پر قبضہ کر سکتے ہیں اور وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کر کے پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں

،ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار عالمی کنٹرول (امریکی کنٹرول) میں لے لیے جائیں ۔ان مبصرین کا خیال ہے کہ 2014میں بھی دھرنے کے دوران ملک پر قبضے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس سازش کو ناکام بنانے میں حکومت کا بھر پور ساتھ دیا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ پہلے حکمران خاندان کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے اس قدر بد نام کیا جائے تاکہ جب انھیں نکالا جائے تو اُنھیں اپوزیشن جماعتوں سیمت عوام کی حمایت نہ مل سکے ، اس مقصد کے لیے پانامہ پیپرز تیار کر کے ملک میں ایک ایسا بحران پیدا کر دیا گیا ہے کہ جس سے ملک عملا تبائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔عالمی میڈیا میں چھپنے والی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سارے کھیل میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت امریکی سامراج کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کا کر دار ادا کر رہی ہے جو امریکہ کی سرپرستی میں پاکستان میں شام عراق اور لیبیا کی طرز پر خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری کر رہی ہے جس کے لیے بلوائیوں کے لشکر تیار کرنے کے لیے جرائم پیشہ تنظیموں اور عالمی دہشت گرد گرہوں سے رابطوں کا بھی انکشافات ہو رہے ہیں ،2014 میں بھی ایسے ہی جتھوں کو ان کے طعام و قیام کا بندو بست کر کے دارلحکومت اسلام آباد پر قبضے کاحدف دیا گیا تھا،ان بلوائیوں نے پروگرام کے مطابق دارلحکومت پر قبضے کی یکے بعد دیگرے کئی کوششیں کیں مگر حکومت کی کامیاب حکمت عملی اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے تعاون سے بلوائیوں کے ان حملوں کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔نواز حکومت کے خلاف مبینہ سازش کے حوالے سے ایک عالمی نشریاتی اشاعتی ادارے گارڈین لائیونے اپنی 6نومبر 2016کی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ 2017 کے وسط میں مسلم لیگ کی حکومت کو عدالتی بغاوت (judicial coup) کے ذریعے ختم کر دیا جائے گا ، رپورٹ کے مطابق اس کی منصوبہ بندی جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے کی ہے ۔ ان دنوں رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک بڑا اسلامی ملک بھی پڑوسی اسلامی ممالک کے خلاف فوج مہیا نہ کرنے پر نواز شریف سے سخت نالاں ہے اور اسنے بھی امریکہ سے مل کر نواز شریف کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ان مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کے جرائم اس قدر بڑے ہیں کہ اسے کوئی بھی درگزر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق نواز شریف کا پہلا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے پاکستان کو امریکی غلامی سے نکالنے کی راہ ہموار کی اور خطہ کے ممالک کے ساتھ مل کر اجتماعی ترقی اور منسلکی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے ۔نواز شریف کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے بھارت کے ساتھ مل کر چین کا گھیراو کرنے کے لیے امریکی مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔نواز شریف کا تیسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبے کی بدولت پاکستان کو خطہ کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بنا رہاہے ۔نواز شریف کا چوتھا بڑا جرم یہ ہے کہ جون 2013میںڈیفالٹ ہونے والے پاکستان کو بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ نواز شریف کا پانچواں بڑاجرم یہ ہے کہ اس نے چھیاسٹھ سالوں میں ہونے والی مجموعی سرمایہ کاری سے زیادہ سرمایہ کاری ان چار سالوں میں لائی ہے جس کے باعث پاکستان آئندہ پانچ سے سات سالوں میں تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والا چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہو گا ۔نواز شریف کاچھٹا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس اور چین کی قیادت میں بننے والے ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے 80 سے زاہد ممالک کے اتحاد میں پاکستان کو شامل کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے ۔نواز شریف کا ساتواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے راہ ہموار کی ہے ۔نواز شریف کا آٹھواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے افغانستان سے نکلنے کے لیے امریکہ کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں مدد نہیں کی ہے ۔نواز شریف کا نواں جرم یہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد میں شمولیت سے انکار کیا ہے ۔نواز شریف کا دسواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے ایک بڑی اسلامی ملک کو پڑوسی اسلامی ممالک کے خلاف فوج دینے سے انکار کر دیا۔نواز شریف کا گیارواں جرم یہ ہے کہ اس نے امریکی پالیسیوں کے برعکس فیڈریشن کو مضبوط کیا اور سی پیک کے زریعے چاروں صوبوں کو ایک مضبوط زنجیر میں باندھ دیا ہے ۔نواز شریف کا بارواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے بلوچستان خیبر پختونخواہ اور سندھ کی قوم پرست قیادت کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی اختیار کی جس سے ان صوبوں میں علحدگی کی تحریکیں کمزور ہوئی ہیں اور نواز شریف کا تیرواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے برعکس بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر کو پر امن بنیادوں پر حل کرنے کی کوششیںترک نہیں کی ہیں۔ہر چند کے نواز شریف کے جرائم کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، جن کے باعث مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کو اب کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے ، ان مبصرین کا یہ موقف ہے کہ فوج سیمت تمام دوسرے اداروں کی یہ تاریخی زمہ داری ہے کہ وہ ملک کے خلاف ہونے والی سازش کو ناکام بنانے کے لیے فیصلہ کن کر دار ادا کریں،اس کے برعکس اگر یہ سازش کامیاب ہوتی ہے تو یہ حکومت کی نہیں ریاست کی ناکامی ہو گی جس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا ہو گی۔ اسی حوالے سے دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے ، نواز شریف کو یہ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ،وہ اس سازش میں شامل تمام کر داروں کے بے نقاب ہونے تک کوئی جوابی حملہ نہیں کریں گے ،جب تمام سازشی کر دار بے نقاب ہو جائیں گے تو اس کے بعد وہ یہ کیس پہلے عوام کی عدالت میں لے جائیں گے، پھر دوسرے محاذوں پر لڑیں گے ،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف ملک کو سازشیوں کے حوالے کر کے چلاجائے گا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہو گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
88%
ٹھیک ہے
7%
کوئی رائے نہیں
1%
پسند ںہیں آئی
4%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved