پی ٹی آئی ٹائیگرز کا نشانہ بننے والی ترک لڑکی کی گواہی
  3  اگست‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

میں اپنی زندگی میں ایک بار پاکستان کا سفر کر چکی ہوں پاکستان بہت پیارا ملک ہے اس ملک کے باشندے بہت ملنسار اور خوبصورت ہیں۔ میرا گروپ لاہور کے ایک تعلیمی ادارے میں بھی گیا، وہاں بھی ہمیں بہت عزت اور احترام دیا گیا, ہم خریداری کے لیے انارکلی بازار بھی گئے۔ اردو زبان کے طلبہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بات کرنے میں زیادہ دشواری نہ تھی۔ مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم لوگ کسی دوسرے سیارے سے وہاں اترے ہیں، سب ہمیں ادب اور محبت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا تھا، ہم اپنی درسی کتابوں میں پڑھتے تھے کہ برصغیر کے لوگ عظیم ترک ریاست (سلطنت عثمانیہ) کے قدر دان اور وفادار تھے۔ وہ ریاست کو اپنی عظمت سمجھتے تھے اور جب برا وقت آیا تو اس خطے کے نوجوانوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ لیں۔ ماوں اور بہنوں نے اپنے زیورات پیش کر دئیے، بوڑھوں نے کونے کونے میں مسلمانوں کو ریاست عثمانیہ کے تحفظ کے لیے بیدار کر دیا۔ میں تب خود کو انہی خوبصورت یادوں کے درمیان پا رہی تھی، ویسی ہی محبت اور احترام دیکھ کر مجھے پاکستانیوں میں ان بزرگوں کی ارواح کی جھلک نظر آ رہی تھی کہ کتنے بے مثل انسان ہیں۔ ترک ملت بھی اپنے اس رشتے کی عظمت کی معترف رہی ہے۔ ویسے تو میرا اردو سیکھنا روزانہ اردو مضامین پڑھتے رہنا اور یہ صفحہ تخلیق کرنا بھی اس کی نشانی ہے لیکن میں آپ کو ایک اور مثال دوں گی۔ استنبول میں اردو اور ترکی کے متعلق ایک بڑی تقریب تھی پاکستان سے علامہ محمد اقبال کے بیٹے جاوید اقبال کو مہمان خصوصی بلایا گیا تھا۔ جب انہیں تقریر کے لیے دعوت دی گئی تو آداب و سلام کے بعد انہوں نے پاکستانیوں اور ترکوں کے نسلی تعلق پر بات شروع کر دی، اور اس کی تفصیل میں چلے گئے وہ تاریخی اور اسلامی رشتہ داری کو بھول گئے یا مناسب نہ سمجھا، لیکن ہال میں بیٹھے ایک ترک کا ضبط ٹوٹ گیا اس نے کھڑے ہو کر کہا ہم سمجھے تھے پاکستان سے اقبال کا بیٹا آیا ہے۔ ہمیں ماضی کے تاریخی اسلامی رشتے کی یادیں سنائے گا، لیکن یہ کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ ترکوں کا پاکستانیوں سے تعلق صرف اور صرف اسلام کا ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ ہم اس کے علاوہ کوئی رشتہ قبول نہیں کریں گے، دیکھتے ہی دیکھتے کچھ تو جاوید اقبال کو اسٹیج سے اتارنے کی بات کرنے لگے، میزبان پروفیسر کی مداخلت سے معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ ماضی کے اس جذباتی اور تاریخی رشتے کو اب رجب طیب ایردوان نے بیدار کر دیا ہے، انہوں نے صرف ایک بیمار ترکی کو صحت یاب ہی نہیں کیا بلکہ دنیائے اسلام کے مسلمانوں کے لیے زندہ امید بنے ہیں۔ صدر ترکی خود اس کا بخوبی احساس رکھتے ہیں اور عالم اسلام کے حالات کا بہترین ادراک رکھتے ہیں، وہ ترکی کو بدلنے کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات بدلنے کے خواہاں ہیں۔ وہ دنیائے اسلام کو یکجہتی اور اتحاد سے قوت بنانا چاہتے ہیں، لیکن یہ خواب دنیا میں موجود مسلمان ریاستی اکائیوں میں ہم خیال لوگوں کے اقتدار میں آئے بغیر ممکن نہیں۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم سے ان کے مناسب تعلقات تھے اس لیے ان کی نااہلی کو سارے ترکی میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اخبارات اور ٹیلی ویژنز پر اسے جوڈیشیل کوپ کہا گیا، بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم کے خلاف کرپشن کیسز کو متعصبانہ طریقے سے استعمال کرتے ہوئے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں اس نوعیت کی کوئی تحقیقات نہیں ہو رہیں کہ اداروں سے کرپشن میں ملوث عہدیداروں کا نکالا جا رہا ہو جس کی زد میں سابق وزیراعظم آ گئے ہوں۔ میں نے پاکستانی اخبارات کو پڑھا تو اس رپورٹ کی تائید ہو گئی لہذا ترک رائے کی نمائندگی کرتے ہوئے عوام کے غالب ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کی تائید کردی۔ یہ بالکل ایسے ہی تھی جیسے ہم مصر میں عوام کے غالب ووٹوں سے منتخب ہونے والے ڈاکٹر محمد مرسی کی حمایت کرتے ہیں۔ دراصل ترکی نے بھی کئی دوسرے ممالک کی طرح مختصر راستوں سے آنے والی حکومتوں کو سہا ہے اور پھر عوامی دور کی خوبصورتی کا مزہ چکھا ہے عوامی دور نے ہمارے لائف اسٹائل اور سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کو بہتری میں ڈھالا ہے۔ ترک ملت چاہتی ہے کہ پاکستان اور پاکستانی بھی ایسے ہی مبارک دور کا لطف اٹھائیں، یہی وجہ ہے کہ اب مختصر راستوں پر ہمارا یقین ختم ہی نہیں ہوا بلکہ نفرت ہو چکی ہے۔ اسی جذبے کے سبب 15 جولائی 2016ء کو فتح اللہ گولن کے پیروکار جو قومی اداروں میں نفوز کئے ہوئے تھے، صدر رجب طیب ایردوان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپنی فوجی جماعت کے ذریعے عوامی اداروں پر چڑھ دوڑے تو 40 سیکنڈ کی مختصر کال پر پوری ترک قوم سڑکوں پر آ گئی۔ ان میں حکومتی آق پارٹی کے کارکن بھی تھے اور اپوزیشن پارٹیوں کے ووٹرز بھی شامل تھے۔ وہ ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور سینے تان لیے 400 سے زائد شہری شہید اور 2000 سے زائد زخمی ہو گئے لیکن اپنی رائے سے بننے والی حکومت اور رہنماء کا تحفظ کیا۔ کیونکہ عوامی دور ہی ترقی اور خوشحالی کا ضامن تھا۔ اس مبنی براصول موقف پر جہاں کثیر پاکستانیوں نے تائید کی وہیں چند نے رجب طیب ایردوان، ترکی اور خود مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں۔ وہ غلیظ زبان کے ساتھ غیر اخلاقی جنسی تصاویر کمنٹ کر رہے تھے اور مجھے ان باکس میں بھیج رہے تھے۔ مجھے شرم محسوس ہو رہی تھی، میرا پاکستان اور پاکستانیوں سے متعلق تجربہ بہت خوبصورت تھا، وہ اس صفحہ کے لیے بھی میری بے لوث مدد کر رہے تھے۔ مفت ویب سائٹ بنا کر دے رہے تھے، کچھ میری اردو میں غلطیاں ٹھیک کرتے تھے اور کچھ اس صفحہ کی پوسٹس کی تشہیر پر خود سے رقم صرف کر رہے تھے۔ انہوں نے کبھی مجھے دیکھا نہیں تھا، میں نے اپنی تصویر پاکستانی اخبار میں اپنے کالم کی اشاعت کے علاوہ کہیں نہیں بھیجی تھی۔ لیکن وہ سب میری مدد کر رہے تھے صرف اس لیے کہ وہ ہم سے ایک خوبصورت تاریخی اسلامی رشتہ رکھتے تھے۔ لیکن جو کچھ اب ہوا یہ ایک شرمناک معاملہ تھا جس کا مجھے سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ مجھے فورا ہی جمہوریت عوام پارٹی (کمالسٹ) کے حامی یاد آ گئے۔ وہ بھی اپنے سے مختلف بات کرنے والوں کو غلیظ گالیوں سے نوازتے ہیں۔ یہ نئی بات نہیں تھی، یہ گالم گلوچ پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں میری رائے نہیں بدل سکتی تھی۔ ماضی اور حال کے پیار بھرے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتی تھی۔ ایسے بے خدا مگر تھوڑے سے لوگ ہر ملک میں پائے جاتے ہیں، ایسے لوگوں کی قسمت میں ذلت نامرادی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں لکھا ہوتا۔ مجھے آج بھی پاکستان اور پاکستانیوں سے تعلق پر فخر ہے مجھے آج بھی اردو لکھنے اور پڑھنے سے پیار ہے اور یہ آخری سانس تک قائم رہے گا- ترکی زندہ باد – پاکستان پائندہ باد آپ کی بہن – ایلیھل چیلیان


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
91%
ٹھیک ہے
2%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
8%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved