پنجاب میں موجود میڈیکل کالجز میں حواکی بیٹیوں کی عزتیں لوٹنے لگیں
  4  اگست‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

یہ میرے زمانہَ طالبِ علمی کی بات ہے کہ کچھ ایسے اہانت انگیز واقعات میری نظروں کے سامنے سے گزرے جن میں پروفیسر اور طلباء دونوں شامل تھے۔۔ میں نے کبھی ان واقعات پر کان نہیں دھرے کیونکہ مجھے یہی لگتا تھا کہ کوئی اس قدر تک اخلاقی طور پر پسماندہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ میں بیوقوف تھا یا پھر شائد میری سمت ہی خراب تھی یا شائد میں خود کو تسّلی دے رہتا تھا کہ ہمارے اساتذہ میں ایسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ مگر جب میں خود اس سسٹم کا حصّہ بنا تو مجھ پر حقیقت آشکار ہوئی۔ ہمارے معاشرہ اخلاقی اقدار کو بھولتا جا رہا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کچھ کیسز میں تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے اور ہر دفعہ نشانہ لڑکیاں نہیں ہوتیں مگر اس حقیقت سے بھی منہ موڑا نہیں جا سکتا کہ اکثر و بیشتر اس طرح کے سکینڈلز میں زیادہ تر لڑکیاں ہی نشانہ بنتی ہیں اور بعد کی ذلت بھی اُن کے حصّے میں ہی آتی ہے۔ عملی زندگی میں سینئیر اور جو نئیر کا تعلق ہمیشہ عمودی ہوتا ہے جس میں جونئیر ہمیشہ لینے والی طرف ہوتا ہے اور اکثر بے بس نظر آتا ہے اور سینئیر طاقت کے عدم تناسب کی باعث ایک طاقتور پوزیشن کا حقدار گردانا جاتا ہے اور وہ اس کا خوب غلط استعمال بھی کرتا ہے پھر چاہے وہ حاضری جیسا چھوٹا مسئلہ ہو یا پھر امتحان میں پاس ہونے جیسا بڑا مسئلہ۔ یہیں پر مسئلہ گھمبیر ہوتا ہے جب سینئیر کسی جونئیر کی جائز ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بھی لین دین پر اُتر آتا ہے۔ جب بھی اُن کو موقع ملتا ہے وہ جونئیر سے کہتے ہیں کہ بدلے میں دینے کے لیے تمہارے پاس کیا ہے؟ کبھی تو صرف یہ ایک اشارہ یا طعنہ ہوتا ہے اور کبھی معاملہ جنسی طور پر ہراساں کرنے تک جا پہنچتا ہے۔

ایسی بات چیت اکثر موبائل پر میسیجز میں ہوتی ہے اور موبائل کا ہاساں کرنے سے ایک گہرا تعلق ہے۔ میری مادرِ علمی سے تعلق رکھنے والے ہسپتال کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر تھے جو چھوٹی چھوٹی علمی سہولیات کے عوض لڑکیوں سے جنسی سہولیات مانگتے تھے۔ وہ غیر شادی شدہ تھے اور ہر خسبصورت لڑکی پر اُن کا دل آجاتا تھا اور تب ہی اُن کا دل میری ہی کلاس کی ایک لڑکی پر آگیا اور اُس کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے اُن پروفیسر صاحب نے ایڑی چوٹی کا زور لگا ڈالا۔ پہلے تو اُنہوں نے اپنی عام چالیں چلیں مگر جب وہ لڑکی نا مانی تو وہ ددھمکیوں پر اُتر آئے اور کہا کہ میں تمہیں viva voce میں پاس ہونے نہیں دونگا۔۔ وہ پروفیسر میری ہر بات مانتا ہے اور جس سٹوڈنٹ کہ میں کہہ دوں اُس کو فیل کر دیتا ہے‘‘۔معاملے کا اختتا م اُس لڑکی کی ڈٹنشن پر ہوا( میڈیکل سکول مین ایک ساتھ دو امتحانات میں فیل ہونا اور اگلے سال دوبارہ امتحان دینا)، جس نے اُس لڑکی کا کیرئیر تباہ کر دیا۔ ایس اہی کچھ ہوا جنوبی پنجاب کے مضافات میں جب ایک پروفیسر کا دل اُن کو وائیوا دینے والی لڑکی پر آگیا۔۔۔ پہلا سوال جو پروفیسر صاحب نے اُس لڑکی سے پوچھا وہ تھا’’ لڑکی تم بہت خوبصورت ہے۔۔ مجھ سے شادی کرو گی؟؟ ‘‘ لڑکی کو جھٹکا لگا اور اُس نے پوچھا کیا مطلب تو پروفیسر صاحب نے اپنا سوال دہرا دیا۔ لڑکی بہادری کا مظاہرہ کیا اور پروفیسر کو کرارا جواب بھی دیا جس پر پرو فیسر صاحب بولے ’’ اگر شادی نہیں بھی کرنی تو بھی کہہ دو کہ کر لوں گی میں تمہیں پاس کر دوں گا‘‘۔ اس چیز پر لڑکی کو اور بھی غصّہ آیا مگر وہ نہیں مانی اور امتحان میں فیل ہو گئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی وہ بیچاری ایک میڈیکل کالج سے دوسرے میں گئی مگر ہر بار اُس کا اُنہی پروفیسر کا سامنا کرنا پڑتا اُس کو جب دوسری بات ڈٹنشن ملی تو لڑکی نے میڈیکل کی پڑھائی چھوڑ دی مگر اُن پروفیسر نے اُس لڑکی کی جان نہیں چھوڑی اور آخرکار لڑکی کے غریب اور لاچار ماں باپ نے مالی مدد کے عوض وہ رشتہ قبول کر لیا۔ میری ہاؤس جاب کے دوران میرے ایک ساتھی نے بھی مجھے ایک ایسا ہی واقعہ بتایا جس میں لڑکی کو ایک ہفتے کی چھٹی درکار تھی جس کے عوض پروفیسر نے اُسے اپنے ساتھ ایک ڈنر کرنے کا کہا۔ لڑکی مان گئی مگر ڈنر کے بعد پروفیسر نے اُسے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور بعد میں ایک سال تک اُس لڑکی کو بلیک میل کرتا رہا۔ لڑکی کی خلاصی تب ہوئی جب اُن محترم کا دل کسی اور لڑکی پر آگیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہسپتالوں میں طلباء کو ہراساں کرنا اور سیٹیاں مارنا ایک روایت سا بنتا جا رہا ہے۔ اپنی پوزیشن یا پاور کا غلط استعمال کر کے ایسے گھٹیا مفادات حاصل کرنا ایک گندی اور غیر اخلاقی بات ہے۔ اور یقین مانیے کہ یہ سب ہمارے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں پر بڑے پیمانے پہ ہو رہا ہے جس کے چلتے کافی لڑکیا ں خود کشی تک کر لیتی ہیں۔ ایک سیٹ اپ جس میں ہمارے پروفیسرز اور اساتذہ کو ہم ’’ روحانی باپ‘‘ کا درجہ دیتے ہیں اُس میں ہی طلباء کا جنسی استحصال ایک المیہ نہیں تو اور کیا ہے۔ ہم سب کو خود سے یہ سول ہوچھنے کی ضرورت ہے کہ ’’ ہم آج یہ سب دیکھ کر خماوش ہیں مگر کتنا دور ہے وہ وقت جب ایسا ہی کچھ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ نا ہو؟‘‘ عورت کی حھاظت کے لیے قانون تو بہت موجود ہیں مگر عملی طور پر اس کا نتیجہ صفر ہے۔ اس کا ایک حل ایسے درندوں کو سوشل میڈیا پر بے نقاب کرنا ہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی لڑکیوں کو حوصلہ دیں کہ وہ آگے بڑھیں اور اس کے بارے میں بات کریں تا کہ یہ عفریت جلد از جلد ہماری درسگاہوں سے نکل سکے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
76%
ٹھیک ہے
11%
کوئی رائے نہیں
3%
پسند ںہیں آئی
11%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved