قائداعظمؒ کے سسرالیوں کی ضد
  6  اگست‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

نظر نہ آنے والے سفید دھاگوں میں پروئی ہوئی پھولوں کی لمبی لمبی لڑیوں میں سر سے پاؤں تک چھپے ہوئے محمد علی پانیلی میں اپنے دادا کے گھر سے دلہا بن کر بارات کے ہمراہ اپنے ہونے والے سسر کے گھر کی جانب روانہ ہوئے جہاں چودہ سالہ ایمی بائی قیمتی نئی لباس اور بھاری بھرکم زیورات پہنے ہاتھوں میں مہندی رچائے دلہن بنی بیٹھی تھی ۔ اس کے لباس اور چہرے پر نہایت قیمتی عطر چھڑکا ہوا تھا ۔ گاؤں کے مولوی صاحب نے رسمِ نکاح ادا کی ۔ قرآن حکیم سے چند آیات کی تلاوت کی گئی اور دونوں میاں بیوی ہوگئے ۔ میرے والد کو کراچی سے آئے چند ہفتے ہوچکے تھے اور ان دنوں مواصلات کے ذرائع بہت محدود تھے ۔ نتیجتاً یہ ہوا کہ وہ پانیلی بیٹھ کر اپنے کاروبار کے لیے فکر مند ہونے لگے ، بے صبری اور گھبراہٹ کا اظہار ہونے لگا اور انہوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ وہ جلد کراچی واپس جانا چاہتے ہیں ۔ مگر سماجی رسوم کی اپنی ایک طاقت ہوا کرتی ہے ۔ خاص طور پر پرانے زمانے میں ایک دور افتادہ گاؤں میں یہ اور بھی سخت تھیں ، معاشرتی رسم و رواج کو توڑنا مقدس مذہبی روایات کی پامالی کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ۔میرے بھائی کے سسرال والے روایات کی سختی سے پیروی کرنے والے لوگ تھے ۔ انہوں نے یہ بات شائستگی مگر پوری شدت کے ساتھ اپنے سمدھی جناح بھائی پر واضح کردی تھی کہ ان کی بیٹی دلہن بننے کے بعد تین ماہ تک اگر ممکن نہ ہو تو ایک ماہ تک قیام ضرور کرے گی ۔ اس کے بعد ہی اسے اس کے دلہا کے ساتھ کراچی جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔ میرے والد کے لیے اتنا عرصہ پانیلی میں قیام کرنا ممکن نہیں تھا اور وہ کراچی واپسی کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ ادھر میری والدہ اپنے شوہر کو تنہا کراچی واپس جانے کی اجازت دینے کے لیے رضامند نہیں تھیں ۔ وہ بے حد مصروف آدمی تھے۔ وہ گھنٹوں کام کرتے تھے۔ ایسی صورت میں ضروری تھا کہ والدہ ان کے ساتھ کراچی واپس جاتیں، گھر بار سنبھالتیں، والد کے لیے کھانا وغیرہ بنا کر گرما گرم ان کو پیش کرتیں۔ نوکروں پر کون اعتبار کر سکتا ہے؟ وہ صفائی کا خیال نہیں رکھتے اورکھانا بھی اچھا نہیں بناتے اور نہ ہی وہ رات کو صاحبِ خانہ کی آمد پر دیر تک انتظار کر سکتے ہیں اور نہ رات کو ان کی واپسی پر گرما گرم چپاتیاں بنا کر دے سکتے ہیں۔ ان حالات میں والدہ بھی پانیلی میں مزید نہیں رک سکتی تھیں۔ البتہ محمد علی پانیلی میں رک سکتے تھے۔یہاں تک کہ ان کے سسرال والے انہیں ان کی دلہن کو لے کر کراچی جانے کی اجازت دے دیتے۔ مگر میرے بھائی بھی میرے والد کے ساتھ کراچی جانے کو بے تاب تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شادی کے بندھن سے باہم وابستہ ہونے والے دونوں خاندانوں کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہو گئی

۔ دونوں خاندان کئی روز تک باہم مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر اختلافات ختم نہ ہوئے۔ انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی لاینحل معاملے میں الجھ کر رہ گئے تھے۔ اس تمام گفت و شنید کے دوران محمد علی اب تک خاموش رہے تھے۔ ان کی حیثیت اکھاڑے کے باہر بیٹھے شخص کی سی تھی اور اکھاڑے کے اندر خاندانی جھگڑے کو نپٹانے کے لیے کوششیں کی جارہی تھیں۔ مگر جب انہیں یقین ہو گیا کہ بات تعطل کا شکار ہو گئی ہے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود معاملے کو نمٹائیں گے۔ اپنے والدین کو بتائے بغیر محمد علی اپنے سسر اور خوش دامن سے ملنے چلے گئے۔ ان لوگوں نے رسم و رواج کے مطابق اپنے داماد کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا اور ان کی خوب تواضع کی۔ انہیں بتائے بغیر کہ وہ کس مقصد کے لیے ان کے پاس آئے ہیں، محمد علی ان کے ساتھ کچھ دیر بیٹھے رہے۔ ان کے سسرال والوں نے یقینا سوچا ہو گا کہ ان کا داماد کس قدر مہذب، خاموش طبع اور فرمانبردار ہے۔ استقبال اور خوش آمدید وغیرہ کی رسومات مکمل ہو جانے کے بعد محمد علی نے نہایت پختہ لہجے میں بات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا ان کے والدین پانیلی میں قیام نہیں کر سکتے اور انہیں لازمی طور پر کراچی واپس جانا ہے اور یہ کہ وہ خود بھی ان کے ساتھ جائیں گے۔ وہ اپنی دلہن بھی ساتھ لے جانا چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ دلہن کے والدین کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن اگر انہوں نے گاؤں کے رسم و رواج کے مطابق فیصلہ کیا تو ٹھیک ہے ان کی مرضی۔ میرے بھائی نے کہا وہ انہیں (اپنے سسرال والوں کو) یہ بتانے آئے ہیں کہ اس صورت میں وہ اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور جب چاہیں اسے کراچی بھجوا سکتے ہیں۔ دلہن کے والدین اس نوجوان کی اپنے سسرال والوں سے اس قدر بے باکانہ گفتگو پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے اپنے داماد کو حیرت اور پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کے غیر متوقع مضبوط لہجے اور صاف گوئی پر انہیں بہت حیرت ہوئی۔ تاہم محمد علی نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ وہ جلد ہی تین برس کے لیے کراچی سے یورپ روانہ ہو جائیں گے۔ شاید دلہن کے والدین اسے شوہر کی عدم موجودگی میں کراچی بھیجیں اور اسے تین سال تک ان کی انگلینڈ سے واپسی کا انتظار کرنا پڑے۔ نوجوان بیٹا اس مسئلے کو سلجھانے میں کامیاب ہو چکا تھا جس میں اس کے والدین کو ناکامی ہوئی تھی۔ اگلے روز محمد علی کے سسر اور خوش دامن میرے والدین سے ملنے آئے اور بڑی فکر مندی سے پوچھا کہ وہ ایمی بائی کو کب کراچی لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس کی رخصتی کے لیے ضروری انتظامات کر سکیں۔ دونوں خاندانوں کے درمیان اختلاف اور تلخی کی جگہ خیر سگالی کی فضا بر قرار ہو چکی تھی


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved