خونی چاند گرہن اور مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کا آغاز
  8  اگست‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

سائنس کہتی ہے کہ جب زمین سورج اور مریخ ایک ہی قطار میں آجاتے ہیں تو اس ترتیب کے نتیجے میں چاند کا رنگ خون کی طرح سرخ ہو جاتا ہے جسے خونی چاند گرہن بھی کہا جاتا ہے ۔ سال رواں کے آغا میں جب ماہرین فلکیات نے پیشن گوئی کی کہ اپریل سے ا ٓسمان پر سرخ چاند گرہن کا آغاز ہونے والا ہے تو اس چاند گرہن سے متعلق مختلف تاریخی ماہرین اور علم نجوم کے ماہر حضرات کی چاند سے متعلق مختلف آراءخیالات اور بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا خونی رنگت والے چاند کے نظارے کو دنیا کے خاتمے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور کی نشانی قرار دیا جانے لگا ، تو کہیں سے یہ تاریخ بھی بیان کی جانے لگی کہ ایسے چاند گرہن کے بعد جب چاند سرخ ہوجاتا ہے تو اہل یہود کو دنیا میں بادشاہت حاصل ہونے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے ، اس بیان کا یہودیوں کی تاریخ کے حوالے سے جائزہ لینے سے پہلے ہمیں امریکی خلائی ادارے ناسا کے اس بیان کو بھی سامنے رکھنا ہوگا جس میں ناسا نے سال2014ءاور2015ءمیں بلڈ مون کے بارے میں تصدیق کی تھی کہ یہ چاند وقفے وقفے سے چار مرتبہ نمودار ہوگا ۔ گزشتہ سال 2014ءمیں دو بار اور 2015ءمیں بھی دو بار ، پچھلے سال15 اپریل اور 18 اکتوبر کو اس خونی چاند کا نظارہ دیکھا گیا یہ منظر اس وقت تک قائم رہا جب تک مریخ اور زمین کے درمیان فاصلہ20 لاکھ میل نہ ہوگیا ۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ صدیوں کے دوران ایسے خونی چاند گرہن تین بار وقوع پذیر ہوچکے ہیں ۔ یمن اور سعودی عرب کے تنازعہ کے درپردہ طاقتوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہاں بھی صہیونی ریشہ دوانیوں کا جال دکھائی دیتا ہے یہودیوں کی مقدس کتاب تالمود میں لکھا ہے کہ جب ایسا چاند گرہن لگتا ہے تو وہ بنی اسرائیل کے لئے برا شگون ہوتا ہے، دنیا پر تلوار کا سایہ پڑ جاتا ہے مگر ”یہ ہماری فتح کی نشانی بھی ہے“۔ یہودی بہ ظاہرعلم نجوم پر یقین نہیں رکھتے مگر تاریخ کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودی علم نجوم پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں کہا جاتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کا ایک یہودی کے پاس سے گزر ہوا جو زائچہ بنانے میں مصروف تھا وہ آپ کو نہیں جانتا تھا آپ نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ اس وقت موسی کہاں ہے ؟ یہودی نے زائچہ کھینچا اور جواب دیا کہ اس وقت موسی ہمارے درمیان موجود ہے تو موسی ہے یا میں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہودی دو ہزار سال سے سرخ چاند گرہن کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ وہ سورج اور چاند گرہنوں کے دوران کرہ ارض کی تبدیلیوں کا مشاہدہ و مطالعہ اپنی مقدس کتابوں کی روشنی میں ضرور کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک سیل قائم کیا گیا ہے، جس کے مطابق ماضی میں جب بھی خونی چاند گرہن ایک ترتیب سے ظاہر ہوئے تو بنی اسرائیل پر ہمیشہ آفت آئی مگر ان کے عقیدے کے مطابق اس آفت میں ان کی یقینی فتح بھی پوشیدہ رہی ہے، تاریخ میں ایسا متعد بار ہوچکا ہے۔ حضرت موسیٰ نے پوچھا کہ بتاؤ اس وقت موسی کہاں ہے ؟ یہودی نے زائچہ کھینچا اور جواب دیا کہ اس وقت موسیٰ ہمارے درمیان موجود ہےچاند کا یہ خونی نظارہ ہمیشہ سے یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے دوران ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس سے قبل یہ چاند گرہن دو یہودی مذہبی تہواروں کے دوران مسلسل رونما ہوئے، 2014 میں دو بار اور 2015 میںان ہی دنوں میں رونما ہونے والے ہیں۔ گزشتہ پانچ صدیوں میں تین مرتبہ ایسا ہوا کہ جب کسی ایک سال میں دو خونی چاند گرہن لگے تو اس سے اگلے برس بھی دو ایسے ہی خونی چاند چڑھے۔

پہلی مرتبہ 93-1492 میں جب اسپین کو ملکہ ازابیلا اور فرڈیننڈ نے فتح کیا تو یہودیوں اور مسلمانوں پر افتاد پڑی اور انہیں جبراً عیسائی بنایا گیا، جو نہیں ہوئے انہیں بہت بڑے پیمانے پر تہِ تیغ کیا گیا اور غلام بنایا گیا۔ یہودیوں کو خاص طور پر ہفتے کے دن کاروبار کرنے اور سور کھانے پر مجبور کیاگیا۔ دوسری بار چار خونی چاند گرہنوں کی سیریز، 50 -1949 میں شروع ہوئی تو اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی اور ڈیوڈ بن گوریاں کی حکومت بنی مگر عرب ممالک نے مل کر اسرائیل پرحملہ کیا۔ تیسری مرتبہ 68 -1967 میں چار سرخ چاند چڑھے تو عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں اسرائیل کی مدد امریکا نے کی اور یوں دو ہزار سال بعد بیت المقدس (یروشلم) پر یہودیوں کا قبضہ ہو گیا۔ گزشتہ کئی سال سے چار خونی چاند کی سیریزکا انتظار والے اب پھر پرامید ہیں کہ دنیا پر ان کی باد شاہت قائم ہونے والی ہے۔ یوں سرخ چاندوں کے حوالے سے یہودیوں کا عقیدہ خاصا پیچیدہ ہے، ان چاند گرہنوں کے برسوں میں جہاں انہیں المیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہاں وہ اسے اپنے مالی استحکام اور اقتدار کے لیے باعثِ برکت بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ ان محاوروں کے عین مصداق ہے جن میں ہر غم کے بعد خوشی کی نوید دی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی کا پہلا خونی چاند گرہن اپریل 2014 میں لگ چکا ہے۔ اس دوران ان کا سا مشہور تہوار” یدش“ جاری تھا۔ اس تہوار پر یہودی اپنی مخصوص روٹی پکاتے ہیں اور اپنے معبد (Cinagog) کے سامنے قربانی بھی دیتے ہیں۔ دوسرا خونی چاند 8 اکتوبر 2014 کوہوا ۔ اس دوران یہودیوں کا مشہور مذہبی دن اسکوٹ تھا، جس کے آخر میں یوم کپور آتاہے۔ اس تہوار کو یہودی مصر سے صحرائے سینا میں آمد اور وہاں اپنی چالیس سالہ ’در بہ دری‘ کی یاد کے طور پر مناتے ہیں۔ نئے سال میں تیسرا خونی چاند 4۔اپریل 2015 کو طلوع ہو گا اور یہ ” یدش“ کے دنوں میں آرہا ہے۔ اس کے بعد چوتھا خونی چاند 28 ستمبر 2015 کو نمودار ہو گا اور یہ اسکوٹ کے دنوں میں آئے گا۔ اس پس منظر میں عالمی منظر نامہ کیا ہو گا ؟ اس پر جہا ں دیگر اقوام سوچ رہی ہیں تو وہیں یہودی بھی یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ اس دوران اسرائیل کے ساتھ کسی جنگ کا آغاز ہو گا اور اس کے آخر میں فتح اسرائیل کی ہوگی۔ اس وقت جہاں اسرائیل بھر کے معبدوں میں دعاوئں اور دیوار گریہ پر روایتی گریے کا Triumphthen and Tragedy سلسلہجاری ہے، وہیں دوسری جانب ان کے زیر سایہ کام کرنے والا عالمی میڈیا اس سارے عمل کو کے نام سے یاد کر رہا ہے یعنی پہلے اندوہ پھر کام یابی۔ پہلے دبے دبے لفظوں میں جب میڈیا نے اس یہودی فلسفے کے تحت بات شروع کی کہ اب امریکا اس قابل نہیں رہا کہ دنیا میں امن قائم رکھ سکے لہٰذا اسرائیل کو اب خود آگے بڑھ کر دنیا سے دہشت گردی ختم کرنا ہوگی تو اس پر امریکا، اسرائیل سے وقتی طور پر ناراض بھی ہوا تھا مگر اب یہ سمجھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوتی کہ اسرائیل نے اکتوبر 2o14 سے بہت ہی پہلے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر جو وحشیانہ حملے شروع کیے ، وہ کس لیے اور کیوں تھے؟۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کارروائی مسلمانوں کی بچی کھچی حمیت کو آزمانے کا ٹیسٹ کیس تھا۔ اس ٹیسٹ کیس میں ان کو عرب کے منظر نامے سے جو کام یابی ملی تھی، وہ اسے بھی رواں سال کے پہلے خونی چاند سے تعبیر کر رہے ہیں۔ مشرق وسطی کے حالیہ سیاسی منظر پر نظر ڈالیں تو صورتحال کچھ اچھی دکھائی نہیں دے رہی ہے ، جنگی آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلے پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لینے کو تیار ہیں یمن اور سعودی عرب کے تنازعہ کے درپردہ طاقتوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہاں بھی صہیونی ریشہ دوانیوں کا جال دکھائی دیتا ہے ۔ قرب قیامت کی علامتوں پر نظر ڈالی جائے تو اسلام اور یہودیت میں حتمی معرکہ آرائی سر پر منڈلاتی نظر آتی ہے ، ۔ یہودیوں کے نزدیک تاریخ میں جب کبھی چار خونی چاند گرہن ایک ترتیب میں آئے ہوں تو پھر بنی اسرائیل کے لیئے ا یک ا یسی آفت کا آغاز ہوتاہے جس میں یقینی فتح پوشیدہ ہوتی ہے، اور آخر فتح ہو ہی جاتی ہے، اور ایساتاریخ میں بار بار ہوا ہے۔ اس سارے عمل کو وہ” ایلی“ یعنی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک واضح نشانی جانتے ہیں۔ دراصل چاند اور سورج گرہن اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اس موقع پر دعاواستغفار کا اہتمام کریں ۔ یہ سچ ہے کہ آپ گرہن کے اوقات میں نماز میں مشغول ہو جایا کرتے تھے ۔ اور آپ نے امت کو بھی اس کی تلقین کی لیکن یہ گرہن کے ڈر یا نحوست یا کسی اور طرح کے وہم ،گمان کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ صرف خالق کائنات سے ڈر تے اور اسی سے ڈرنے کا حکم دیتے ، ایک مسلمان کا اس بات پر یقین کامل ہونا چاہیے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
68%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
32%




آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved