1906 سے 1948: طلوعِ پاکستان
  12  اگست‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

برصغیر کی تقسیم کے وقت ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ افراد بے گھر ہوئے،جب کہ پُر تشدد واقعات میں 20 لاکھ افراد نے جانیں گنوائیں۔ اس فیچر میں 42 برس کی جدوجہد کا احاطہ کیا گیا ہے، جو 1906 سے لے کر 1948 تک رہی، کیوں کہ اسی دورانیے میں آزادی کی تحریکیں اور جدوجہد سامنے آئی، پھر قوم نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک علیحدہ مسلم ریاست حاصل کی۔ پاکستان اس وقت 70 برس کا ہونے والا ہے اور اب اس مملکت خداداد کی داستان ہماری اور آپ کی کہانی بن چکی ہے۔ یہ قائداعظم محمد علی جناح کا ستمبر 1948 میں کیا گیا ڈھاکہ کا آخری دورہ تھا، یقیناً ان کی جانب سے اس سے پہلے مشرقی پاکستان کے دارالحکومت کے متعدد دورے کیے گئے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں ڈھاکہ میں ہی رکھی گئی اور محمد علی جناح نے کلکتہ سے بنگال کے شہر ڈھاکہ کے کئی دورے کیے، کیوں کہ برطانوی راج میں اسے اہم سیاسی شہر کی حیثیت حاصل تھی، البتہ تقسیم ہند کے بعد ڈھاکہ صرف مسلم اکثریتی صوبے مشرقی بنگال کی سیاست کا گڑھ بن گیا۔ جس وقت بنگال کے عوام نے یہ مطالبہ کیا کہ ریاست کی قومی زبان کا درجہ اردو نہیں بلکہ بنگالی کو ملنا چاہیے، اُس وقت مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ خواجہ ناظم الدین تھے اور اس معاملے کے بعد حالات کو قابو کرنے کے لیے محمد علی جناح ڈھاکہ تشریف لے آئے۔ کچھ دن بعد 24 مارچ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ عوام کو صوبے کی زبان اپنی مرضی سے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن پورے ملک میں رابطے کی ایک ہی زبان ہونی چاہیے اور اردو کو ہی قومی زبان کا درجہ حاصل ہونا چاہیے۔ جنرل ایوب خان 1958 میں فوجی بغاوت کے بعد ملک کے دوسرے صدر بنے اور 1969 میں مشرقی پاکستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں ان کو سخت مزاحمت کا سامنا رہا، ان پر صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ اس فوجی حکمرانی کے نتیجے میں مشرقی پاکستان اور اس کے دارالحکومت ڈھاکہ کو پاکستان محض 13 سال بعد کھو دیتا ہے۔ گلگت اور کشمیر 1947 جزوی جیت یکم نومبر 1947 کو گلگت، ہنزہ اور بلتستان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا۔ استور، ہنزہ، گلگت اور نگر کو ڈوگرا مہاراجہ نے فتح کیا تھا، مگر 1889 میں برطانوی سرکار نے گلگت ایجنسی کو روسیوں کے خلاف مزاحمت کے لیے اہم علاقے کے طور پر تشکیل دیا، پھر انگریزوں نے 1935 میں گلگت ایجنسی کو مہاراجہ ہری سنگھ سے 60 سال کے لیز پر حاصل کیا۔ چلاس کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ میجر ولیم نے 1947 میں اعلان کیا کہ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے حکم دیا ہے کہ گلگت ایجنسی کی 1935 سے لی گئی لیز 49 برس میں ختم کردی جائے گی، اگرچہ اس علاقے کی اکثریت مسلم آبادی پر مبنی ہے، تاہم اسے مہاراجہ ہری سنگھ کے حوالے کردیا جائے گا۔

دریں اثناء پنجاب میں سکھوں اور ہندوؤں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کی کہانیاں گلگت میں داخل ہوئیں اور یہاں بھی جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ہونے لگے، جس کے بعد 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے (دستخط شدہ معاہدہ نہیں مل سکا) معروف تاریخ دان احمد حسن دانی کے مطابق اس امتیازی فرق کو دیکھتے ہوئے میجر براؤن نے یکم نومبر 1947 کو گورنر کو ہٹاتے ہوئے گلگت میں صوبائی حکومت قائم کردی اور وزیراعلیٰ نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروژنل (این ڈبلیو ایف پی) کو خط لکھ کر پاکستان کی جانب سے علاقے کو ٹیک اوور کرنے کا کہا، ان کے مطابق عوام میں بغاوت کے جذبوں کے باوجود پاکستان کے لیے مضبوط جذبات پائے جاتے تھے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے ہندوستان تک رسائی حاصل کرنے کے بعد مسلح قبائلی افراد کا یہ جتھا باچا گل کا منتظر ہے، جن کی سربراہی میں کشمیر میں جنگ لڑی گئی، مسلح قبائلیوں کا یہ جتھا سری نگر کی بیک سائیڈ سے کشمیر میں داخل ہوا، مگر جلد ہی اسے اس جگہ دھکیل دیا گیا جہاں آج آزاد کشمیر ہے۔ آسٹریلوی مؤرخ کرسٹوفر سنیڈن کے مطابق پونچھ میں یہ مزاحمت ٹیکس کے معاملے سے شروع ہوتی ہے، تاہم یہ اُس وقت مسلح جنگ کے روپ میں بدل جاتی ہے، جب ریاست کشمیر کی فوج عوام پر فائرنگ کردیتی ہے، اس واقعے کے 2 دن بعد وزیراعلیٰ این ڈبلیو ایف پی نے قبائلیوں پر مشتمل ایک مسلح گروپ تیار کیا، جس نے دھیر کوٹ میں موجود مہاراجہ ہری سنگھ کے فوجیوں کے کیمپ پر حملہ کردیا، کشیدگی کو بڑھانے والے پونچھ کے مسلمان تھے، نہ کہ پاکستانی علاقے کے قبائلی پٹھان۔ بھارت کی جانب سے کشمیر میں فوجی مداخلت اسی جواز کی بناء پر کی گئی کہ پاکستانی قبائلیوں نے کشمیر پر حملہ کیا، یکم جنوری 1948 کو بھارت یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں لے گیا، جس نے ایک قرار داد منظور کی، جس میں پاکستان کو جموں و کشمیر سے نکل جانے اور بھارت کو فوج کی تعداد انتہائی کم کرنے کا کہا گیا، بھارت نے لوگوں کی خواہش کا نام دے کر وہاں فوج موجود رکھی۔ تنازعات کو حل کرنے کا میکانزم ختم ہونے کی وجہ سے آج تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکا۔ سوات کو ریاست کا درجہ اُس وقت حاصل ہوا، جب سکھ اور افغان بادشاہت کا خاتمہ ہوا، جب 1849 میں انگریزوں نے پشاور پر قبضہ کیا تو سوات پر بنیادی طور پر یوسف زئی پٹھان حکمران تھے، اسی سال قبائلی جرگے نے سید اکبر شاہ کو سوات کا نواب منتخب کیا، اگرچہ سوات میں حقیقی طاقت علاقے کے بادشاہ اخوند کے پاس تھی، جسے سیدو بابا کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سیدو بابا کی 1887 میں وفات کے بعد سوات میں ان کے بیٹے اور پوتے کے درمیان جنگ شروع ہوگئی، بلآخر 1917 میں قبائلی جرگے نے سیدو بابا کے ایک پوتے مینگل عبدالودود کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا، اگرچہ 1923 تک انہوں نے پورے سوات پر حکمرانی حاصل کرلی تھی، مگر برطانوی سرکار نے انہیں باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، البتہ 1926 میں انگریز سرکار نے انہیں ولی کا لقب دیا، جو کسی قدر مذہبی ہے، کیوں کہ انگریز کا خیال تھا کہ بادشاہ کا لقب صرف ملکہ برطانیہ کا حق ہے۔ برطانوی سرکار کی جانب سے پوزیشن دیے جانے کے باوجود سوات کے نامزد بادشاہ ولی کو جرگے کے احکام اور قوانین پر بھی اختیار حاصل رہا۔ 1931 تک سوات کا رقبہ 18 ہزار اسکوائر کلومیٹر تک تھا اور اس کی آبادی 21 لاکھ 60 ہزار تھی، ریاست کی زیادہ آبادی مسلمانوں پر مبنی تھی، لیکن ہندوؤں کی بھی کم تعداد موجود تھی، سوات نے بھی کالام کی جانب سے پاکستان کے ساتھ 1947 میں الحاق کے فوری بعد الحاق کرلیا، جس نے چترال اور دیر کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ اگرچہ پاکستان نے سوات کے دعوؤں کو مسترد کردیا، مگر ولی کو امید تھی کہ پاکستان کالام سے متعلق ان کے دعوے کو تسلیم کرلے گا، سوات کے آخری ولی جہانزیب نے اپنے نوٹ میں لکھا ٗ پاکستان کی تخلیق کے بعد ہم فوری طور پر ایک نئی ریاست کے طور پر اس میں شامل ہوئے اور ہم محب وطن ہیں، میں نے پولیٹیکل ایجنٹ نواب شیخ محمود سے اس سارے معاملے پر ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ الحاق پر دستخط کرنے جا رہے ہیںٗ۔ ولی نے 24 نومبر 1947 کو الحاق کے دستاویزات پر عملدرآمد شروع کردیا۔ بہاولپور کے نوابوں کا دعویٰ تھا کہ ان کا شجرہ نسب خلیفہ بغداد سے ملتا ہے، اس لیے یہ بات انہیں ہندوستان کے دیگر شہزادوں سے منفرد بناتی ہے، انہیں پہلی بار امداد کے طور پر نادر شاہ کی بادشاہت سے زمین ملی، اس کے بعد وہ احمد شاہ درانی کی بادشاہت میں آجاتے ہیں، جب احمد شاہ درانی کی بادشاہت ڈھیر ہوجاتی ہے تو وہ آزاد ہوجاتے ہیں، تاہم جیسے ہی سکھ طاقت میں آتے ہیں تو انہیں 1833 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ نواب صادق عباسی صرف 18 ماہ کی عمر میں بہاولپور کے حکمران بنتے ہیں، لیکن 1924 تک ریاست ان کی بڑی بہن کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔ 1941 تک ریاست بہاولپور کی اراضی 17 ہزار 449 مربع میل اور آبادی 13 لاکھ تک ہوتی ہے، 1947 میں نواب خرابی صحت کے باعث انگلینڈ میں ہوتے ہیں اور ڈاکٹرز کی جانب سے انہیں وہاں مزید قیام کا مشورہ دیا جاتا ہے، یہ وقت بہاولپور کے لیے نہایت ہی اہم تھا، اس کی سرحدیں ہندوستان اور پاکستان سے ملتی تھیں، اسے کسی ایک ملک کا انتخاب کرنا تھا۔ نواب کی غیر موجودگی میں کوئی فیصلہ نہ ہوپایا، مؤرخ اور بہاولپور ریاست میں پبلک ورکس کے وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے سر پینڈرل مون نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ محمد علی جناح کانگریس کے رہنماؤں کی طرح حکمران شہزادوں کو قید کرنا یا ان کی طاقت ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اپریل 1947 میں یونینسٹ وزیر مشتاق احمد گرمانی پنجاب کے وزیراعلیٰ مقرر ہوئے، اختیارات کی منتقلی کے وقت یہ افواہیں عام تھیں کہ بہاولپور کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا جائے گا۔ 15 اگست 1947 کو نواب صادق عباسی نے آزاد حکمران کے طور پر رہنے کا اعلان کرتے ہوئے بہاولپور کو پاکستان کے تحت چلانے کی خواہش کا اظہار کیا، جس کے بعد حکومت پاکستان نے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے بہاولپور کو پاکستان کا حصہ بنانے پر کام شروع کردیا اور نواب کے انگلینڈ سے واپس آنے تک بات چیت کا انتظار کیا جاتا ہے۔ مشتاق احمد گرمانی بہاولپور کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی افواہوں کے باوجود ان پر الحاق کے لیے دباؤ نہیں ڈالتے، اس معاملے کو حل کرنے کے لیے امیر کے دستخط کافی تھے، جو انہوں نے 3 اکتوبر 1947 کو کیے۔ پاکستان کے ساتھ الحاق سے پہلے نواب صادق خان عباسی بہاولپور ریاست کے آخری بادشاہ تھے، انہوں نے ریاست میں بہترین طرز حکمرانی کے لیے خلیفہ خاندان کی سفری روایات کو برقرار رکھا۔ انہوں نے اسکول، ہسپتال، پل اور سڑکیں تعمیر کیں، زراعت کے لیے آبپاشی نظام تشکیل دیا، ریاست میں ٹیکس کلیکشن کے سب سے بہترین اور معیاری نظاموں میں سے ایک نظام رائج کیا اور معروف گاڑیاں رولز رائس اور بینٹلیس کی کئی گاڑیاں رکھیں، وہ فائن آرٹس اور کھانوں سے محبت کرنے کے طور پہچانے جاتے تھے۔ سندھ میں تالپوروں کی حکمرانی 1783 سے اُس وقت شروع ہوئی، جب حیدرآباد کے میر فتح علی خان تالپور نے خود کو رئیس سندھ قرار دیا، انہیں بادشاہ شاہ زمان درانی کی قربت حاصل رہی، میر فتح علی خان تالپور کا بھتیجا میر سہراب خان تالپور روہڑی منتقل ہوا، جہاں اس نے ریاست خیرپور کی تشکیل کی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو قبول کرتے ہوئے خیرپور کے میروں نے پہلی افغان جنگ کے دوران برطانوی سرکار کو مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی، یہ ایک حیران کن قدم تھا اور اسے برقرار رکھنا ریاست خیرپور کی بڑی پالیسی تھی۔ 24 جولائی 1947 کو میر فیض محمد خان تالپور دوئم نے خرابی صحت کی وجہ سے انگلینڈ کا دورہ کیا تو انہوں نے اپنے بیٹے مسٹر جارج علی مراد خان تالپور دوئم کو حکمران مقرر کیا، لیکن کم عمر ہونے کی بناء پر ان کی رہنمائی کے لیے بورڈ آف چیئرمین تشکیل دیا جاتا ہے، جو میر خاندان کے قریبی مردوں پر مبنی ہوتا ہے، اس میں میر غلام حسین بھی شامل ہوتے ہیں۔ 1940 تک ریاست خیرپور کا رقبہ 6 ہزار 50 اسکوائر میل، جب کہ آبادی قریباً 3 لاکھ تھی، جس میں سے 16 فیصد غیر مسلم تھے۔ لاہور کو کراچی سے ملانے والے ریلوے ٹریک کا بہت بڑا حصہ اس ریاست میں تھا، جو اسے پاکستان کے ساتھ ملانے کا اہم جز تھا۔ 4 اگست 1947 کو ریاست خیرپور ایک نوٹی فکیشن جاری کرتی ہے کہ ریاست 15 اگست کو یوم آزادی منائے گی، تاہم حکومت پاکستان نے بڑی کوششوں کے بعد ریاست خیرپور کو قائل کرلیا، جس کے بعد چھوٹے بادشاہ نے 3 اکتوبر 1947 کو اُسی دن پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، جس دن ریاست بہاولپور نے اس پر دستخط کیے۔ حکومت پاکستان نے اس ایک ہی دن 2 اہم ریاستیں حاصل کیں، جو نہ صرف زمینی لحاظ سے اہم تھیں، بلکہ زرعی، صنعتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کے حوالے سے بھی اہم تھیں۔ مندرجہ بالا تصویر تحریک پاکستان کے فوٹوگرافر فاسٹن ایلمن چوہدری نے 7 جنوری 1946 کو پنجاب یونیورسٹی کے لان میں کھینچی، تصویر میں قائداعظم محمد علی جناح کو طلبہ سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ طلبہ اور خاص طور پر پنجاب کے طلبہ نے 1945 میں ہونے والے عام انتخابات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا مسلم لیگ کے لیے اہم تھا، کیوں کہ انتخابات میں ناکامی کا مطلب یہ تھا کہ کانگریس اور برطانوی سرکار کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے مزید مذاکرات منسوخ کردیے جاتے اور اسی لیے ہی مسلم لیگ نے طلبہ کی جانب رخ کیا اور انہیں متحرک کرنے کی کوششیں کیں۔ نوابزادہ لیاقت علی خان علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کو ہدایات کرتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ کی مہم کے لیے اپنی تعلیم کو کم وقت دیں، اسی حوالے سے یونیورسٹی میں ایک تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں کئی طلبہ کو تربیت دینے کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں میں بھیجا جاتا ہے، اسلامیہ کالج لاہور میں ایک الیکشن دفتر کھولا گیا، جب کہ مسلم لیگ کے پیغام کو پھیلانے کے لیے پنجاب مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے ایک الیکشن بورڈ کی تشکیل دی۔ قریباً 200 طلبہ کو 20 حلقوں اور 400 دیہاتوں میں عارضی طور پر تعینات کیا گیا، مہم کے اختتام کے بعد مسلم لیگ نے اعلان کیا کہ طلبہ نے تقریباً 60 ہزار دیہاتوں کا دورہ کیا۔ اس جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم لیگ کو انتخابات میں بھرپور کامیابی ملی اور اس نے 37-1936 کے انتخابات میں ملنے والی ناکامی کو ختم کردیا۔ سر سکندر حیات خان 1942 کو چل بسے تو قائد اعظم محمد علی جناح نے حالات کو قابو کرنے کے لیے پنجاب کی سیاست میں مداخلت کی، کیوں کہ ان کے جانشین ملک خضر حیات ٹوانہ 1937 میں جناح-سکندر معاہدے کو مسترد کرچکے تھے، مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملک خضر حیات کو مسلم لیگ سے نکال دیا گیا تھا۔ 1945 میں ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ، پنجاب میں واحد بڑی پارٹی کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی، لیکن اس کے باوجود برطانوی سرکار کی جانب سے اسے حکمرانی کے لیے کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی، انہوں نے ملک خضر حیات کو ہندو اور سکھوں سے مل کر اتحادی حکومت بنانے کے لیے کہا۔ یہ عمل پنجاب میں بہت بڑی سول نافرمانی اور تشدد بن کر ابھرتا ہے اور جنوری 1947 میں مسلم لیگ کے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے، خواتین کے مظاہروں پر پابندی نافذ کرکے بے شمار خواتین کو عدالتی تحویل میں لیا گیا، جس کے نتیجے میں آخر میں اتحادی حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ملک خضر حیات استعفیٰ دیتے ہیں اور صوبے میں گورنر راج نافذ کردیا جاتا ہے۔ خواتین اور خاص طور پر طالبات نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ سفید یونیفارم میں ملبوس قریباً 25 سے 30 کم عمر لڑکیوں پر مشتمل سندھ ویمن نیشنل گارڈ کا دستہ، اپنے تحفظ اور بچاؤ کی تربیت حاصل کر رہا ہے، جنہوں نے بعد ازاں خواتین کی ووٹنگ میں حوصلہ افزائی کی۔ یہ تصویر 1947 میں کھینچی گئی، جس میں 18 سالہ زینت راشد کو دیکھا جاسکتا ہے، جن کے والد حاجی عبداللہ ہارون 5 برس قبل چل بسے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کی والدہ لیڈی نصرت عبداللہ ہارون تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کرتی رہیں۔ انہوں نے سندھ ویمن نیشنل گارڈ کی کیپٹن کی حیثیت سے اپنی 35 کلاس فیلو لڑکیوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر ناخوشگوار واقعات پر قابو پانے کے لیے تیار کیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ’قائد اعظم نے ہمیں کہا کہ خواتین کو مردوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہنا چاہیے، آپ نوجوان لوگ کیا کر رہے ہیں‘؟ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے قائد اعظم کے اس سوال پر اپنے ہیرو کو جواب دیا کہ ’ہم تیار ہیں، آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں‘۔ بعد ازاں لائف میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ اس وقت علامت بن چکی تھیں، قائداعظم لوگوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ خواتین پاکستان میں ہر چیز کرسکتی ہیں، ہم اپنے سروں پر دوپٹہ تک نہیں پہنتی تھیں، لوگ سوچتے تھے یہ کیا بے وقوفی ہے، لیکن ہم بہتری کی علامت تھے‘۔ ان کی زندگی کا اہم دن 1947 میں وہ دن تھا، جس دن وہ سندھ ویمن نیشنل گارڈ کی خواتین کے ساتھ لاٹھیوں کے ساتھ تربیتی کیمپ میں شامل تھیں، مارگریٹ بورچ وائیٹ نے ان کی تربیت کو تصاویر میں قید کرلیا، یہ تصویر ان سلسلہ وار تصاویر کا حصہ ہے، جو بعد ازاں لائف میگزین نے 1948 میں اسٹوری آف پاکستان میں شائع کیں۔ پنجاب میں 1937 میں ہونے والے انتخابات میں جیت کے بعد یونین پارٹی کے سربراہ سر سکندر حیات پر مسلمان پارلیمنٹری ارکان کی جانب سے پنجاب میں متوازن تقسیم کا دباؤ رہا، جس کی بناء پر انہوں نے قائداعظم کے ساتھ مذاکرات کے بعد جناح-سکندر معاہدہ کیا۔ معاہدے کا اصل مقصد یہ تھا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی قومی سطح پر جب کہ یونین پارٹی صوبائی سطح پر نمائندگی کرے گی۔ قائداعظم کی جانب سے یہ معاہدہ وہاں مسلم لیگ کو1947 کے بعد حاصل ہونے والی طاقت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ میاں افتخار جن کا تعلق آرائیں میاں خاندان سے تھا، انہوں نے اپنا سیاسی کیریئر کانگریس سے ہی شروع کیا اور صوبائی صدارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، بعد ازاں 1945 میں انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت کی، تقسیم کے بعد وہ مسلم لیگ پنجاب کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور قائد اعظم نے انہیں پناہ گزینوں کی بحالی کا وزیر مقرر کیا۔ 1947 میں میاں افتخار الدین نے پاکستان ٹائمز کی شروعات کی اور فیض احمد فیض اس کے پہلے ایڈیٹر اِن چیف مقرر ہوئے، 1949 میں وہ پنجاب میں زرعی اصلاحات کے لیے تجویز پیش کرتے ہیں، جو بری طرح ناکام ہوجاتی ہے، اس کی ناکامی مسلم لیگ کے بااثر رہنماؤں کی جانب اشارہ دیتی ہے، جس پر وہ مایوس ہو کر وزارت سے استعفیٰ دے دیتے ہیں، بعد ازاں 1951 میں انہیں مسلم لیگ سے نکال دیا جاتا ہے۔ ان کی 1962 میں وفات کے بعد فیض احمد فیض نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا۔ **’ جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم، جو چلے تو جان سے گزر گئے، رہ یار ہم نے قدم قدم، تجھے یادگار بنا دیا‘۔** یہ قائد اعظم محمد علی جناح کی جانب سے سیاسی تدبیر کا نتیجہ ہی ہے کہ انہوں نے میاں افتخارالدین جیسے رہنماؤں کو پنجاب میں حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے منتخب کیا۔ ڈان دہلی اور ڈان کراچی کو قائد اعظم نے قائم کیا،انہوں نے سب سے پہلے 1945 میں محمد حسین کو ڈان دہلی کے لیے ایڈیٹر مقرر کیا، جس کے بعد اگست 1947 میں پوتھن جوزف نے یہ ذمہ داریاں سنبھالیں، انہیں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے جلسے میں ڈان کے صحافیوں کی جانب سے فائرنگ کرنے جیسے الزامات کے بعد ہٹایا گیا، واقعے کے بعد قائداعظم نے محمد حسین کو دہلی سے ڈان کراچی منتقل کرکے انہیں ایڈیٹر مقرر کردیا، جو پہلے جناح فیملی، بعد ازاں حاجی عبداللہ ہارون فیملی کے تحت شائع ہوتی رہی۔ سردار ولبھ بھائی کے جلسے میں فائرنگ کے الزامات میں ڈان دہلی کو دھمکیاں ملتی رہیں اور 14 ستمبر 1947 کو اس کا دفتر جلادیا گیا،اس کے باوجود بھی ڈان کراچی کی جانب سے ڈان دہلی اور کراچی کے پرچے شائع ہوتے رہے، مگر 21 اکتوبر 1947 کو قائداعظم نے تسلیم کیا اور ڈان دہلی کو باقائدہ طور پر ختم کردیا۔ ڈان دہلی کا سانحہ قائد اعظم کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا، کیوں کہ انہوں نے یہ اخبار 1941 میں منقسم ہن


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved