سکردو، بلتستان کے طول وعرض میں جشن آزادی پاکستان کی رنگا رنگ تقریبات شروع
  12  اگست‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

سکردو(اوصاف نیوز)یوم آزادی پاکستان کے حوالے سے بلتستان کے طول وعرض میں جشن آزادی کے رنگا رنگ تقریبات شروع ہوگئی ہیں اور جشن آزادی کے حوالے سے مختلف سکولوں اور کالجوں میں آزادی وطن کے حوالے سے تقریری اور ملی نغموں کے زبردست مقابلے ہورہے ہیں ۔ جشن آزادی کے حوالے سے بلتستان ڈویژن کے چاروں اضلاع کے ڈگری کالجز اور انٹرکالجز کے مابین بلتستان ڈویژن کی سطح پر بین الکلیتاتی تقریر ی مقابلے کا آغاز ہوا ۔ تقریب میں سکردو، خپلو، کھرمنگ اور شگر کے 6 کالجوں کے طلباہ اور طالبات کے درمیان تقریری مقابلہ ہوا ۔ اس پروقار تقریری مقابلوں کے ججز میں بلتستان کے معروف شاعر وادیب پروفیسر حشمت کمال الہامی ، صحافی قاسم نیسم اور معروف بلتی شاعر و استاد رسول تمنا تھے ۔تقریب کے میر محفل سابق پرنسپل ڈگری کالج سکردو پروفیسر نثار علی تھے ۔ فلسفہ یوم آزادی پاکستان اور نوجوانوں کی ذمہ داریوں کے عنوان سے تقریر ی مقابلہ میں حصہ لیتے ہوئے بلتستان کے مختلف کالجوں کے طلباہ و طالبات نے تقریریں کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حصول اور جدوجہد آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں جس تاریخی جدوجہد شروع کی تھی ان کی قربانیوں کی بدولت یہ عظیم ملک دنیا کے نقشے میں نمودار ہوا ۔ اور دنیائے اسلام میں ایک عظیم ملک کی حیثیت سے آج ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا اس ملک کی آزادی کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنی جائدادوں اور خاندانوں کی قربانیاں دیں ۔ یہ ملک بہت بڑی قربانیوں کے بعد آزاد ہوا ہے اور ہمیں اس ملک کی آزادی کی قدر کرنی چائیے ۔یہ ملک آسانی سے آزاد نہیں ہوا ہندووں نے اپنے بیرونی آقاؤں کے ذریعے مسلمانوں کا استحصال کیا اور مسلمانوں کے ساتھ ایسا ظلم روا رکھا تھا جس کے باعث مسلمانوں کو برصغیر میں علیحدہ ریاست ناگزیر ہوچکی تھی ۔ آزادی پاکستان میں نوجوانوں نے جس دلیر ی ہمت کا مظاہر ہ کیا اور قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں بھرپور جدو جہد کے زرئیعے اس ملک کو آزاد کرایا ۔یہی وجہ ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ہمیشہ جوانوں کو عزیر رکھتے تھے ۔برصغیر کی تقسیم کے وقت ہندو اس ملک کی آزادی سے ہر گز خوش نہیں تھے اور مسلمانوں کی تحریک آزادی کو ہمیشہ دبانے کی کوشش کررہے تھے ۔ اس ملک کی آزادی کے بعدبھی بھارت نے اس ملک کیخلاف تین جنگیں مسلط کیں ۔ لیکن وہ ناکام اور نامراد رہے ۔ اس ملک کے خلاف اپنی دشمنی جاری رکھتے ہوئے اس ملک کو اندرونی طورپر کمزور کرنے کیلئے دشمن ملک نے دہشتگردی کو پروان چڑھانے کی کوشیش کیں اور ملک بھر میں دہشتگرادی کے زرئعیے ملک کے ہزاروں لوگوں کو شہید کیا گیا ۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی بہادر افواج نے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے اپریشنو ں کے زرئعیے دشمنوں کو سبق سکھایا ہے ۔ ہماری بہادر فوج ملک سے دھشت گردی کے خاتمے کے لیے بیش بہا قربانیاں دیں اور ہماری فوج کے بہادر افیسروں اور سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے برسرپیکار ہیں اور دشمن کی ہر چال کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں ۔ ملک میں جاری دہشتگردی کی جنگ میں اب بھی ہماری بہادر افواج کی قربانیاں جاری ہیں ۔ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کیں ہیں

پوری قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے اور پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو ہمارے اسلاف بیش بہا قربانیاں دیکر ہمیں دیا ہے ہمیں ایمان،اتحاد اور نظم ضبط سے اس ملک کی تعمیر و ترقی پر بھرپور حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ دور حاضر میں نوجوانوں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی زمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں ۔ ہم نوجوان پاکستان کی ترقی کے امین ہیں اور خلوص نیت اور جذبہ حب الوطنی سے سروشار ہو کر اپنے اپنے شعبوں میں بہتری پیدا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کی عمارت کی پہلی اینٹ ہے اور پہلی اینٹ کے قیام کے بعد ایک عمارت بنتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان اپنی زمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتا ہے ۔تقریر ی مقابلوں میں طلباہ و طالبات نے یوم آزادی کو یوم تجدید عہد کے طور پر منانے کی ضرور ت پر زور دیا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق پرنسپل نثار علی نے مہمان خصوصی کی حثیت سے خظاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سطح پر ۴۱ اگست کو گلگت میں ہونے والے مقابلوں میں حصہ لینے والے طلباہ وطالبات پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے مزید بہتر انداز میں تیار ی کریں۔ انہوں نے طلباہ و طالبات کی طرف سے کی گئی معیاری تقاریر کو سہراہا ۔ اس سے قبل کالج کے موجودہ پرنسپل پروفیسر محمد حسین نے خطاب کرتے ہوئے تحریک آزادی پاکستان اور گلگت بلتستان کی آزادی تحریک پر سیر حاصل گفتگو کیا۔ تقریب کے آخر میں بلتستان کے تمام کالجوں سے حصہ لینے والے طلباہ و طالبات میں اسناد اور انعامات تقسیم کیا گیا۔ تقریر ی مقابلے میں گرلز ڈگری کالج سکر دو کی طالبہ عارفہ بتول نے پہلی ، انٹر کالج کھرمنگ کی فرزانہ بتول نے دوسری اور انٹر کالج گمبہ سکردو کے طالب علم جمشید علی نے تیسری پوزیشن حاصل کیا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved