ایک ایسا وقت جب آپ کا اپنی بیوی کےپاس جانا مطلقاً حرام ہے
  9  ستمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

لاہور (نیوزڈیسک)مولانا طارق جمیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تھا ایک بدو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اورکہنے لگا کہ یا رسول اللہﷺ میں تو مارا گیا، آپؐ نے دریافت فرمایا کہ کیا ہوا، وہ بولا کہ میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس چلا گیا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ غلام آزاد کرو، وہ بولا کہ میں غریب شخص ہوں، کہاں سے غلام آزاد کروں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر 60 مسکینوں کوروٹی کھلا، کہنے لگا کہ میں خود مسکین ہوں، کیسے روٹی کھلاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر 60 روزے رکھو، کہنے لگا کہ ایک روزے یہ کام کیا ہے تو 60 روزے کیسے رکھوں؟ آپﷺ یہ سن کر بہت ہنسے اور کہا کہ بیٹھ جاؤ۔تھوڑی دیر گزری تو ایک صحابیؓ تشریف لائے اور بولے یا رسول اللہﷺ یہ صدقے کی کھجوریں ہیں۔ آپ ﷺ نے بدو کو بلایا اور کہا کہ یہ کھجوریں لے جاؤ اور مدینے کے 60 غریبوں کو دے دو۔

وہ کہنے لگا یا رسول اللہﷺ مدینے میں مجھ سے زیادہ کوئی غریب نہیں، میرا جرمانہ مجھ پر ہی حلال کر دیں۔ آپﷺ اتنا ہنسے کہ آپ کی داڑھیں مبارک نظر آئیں اور کہا کہ اچھا بھئی تمہارا جرمانہ تم پر ہی حلال کیا، مگر یہ صرف تمہارے لئے ہیں اور کسی کیلئے نہیں ہے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جب اوپر نیچے اس طرح کے واقعات ہوئے تو اللہ سبحان و تعالیٰ نے کرم کیا اور رات کو ہر حلال چیز حلال کر دی لیکن سحری کے بعد سب ختم اور ایسا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔رمضان المبارک کے دوران بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے اور اب معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کا واقعہ سناتے ہوئے اس اہم سوال کا جواب بھی دیدیا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ”رات کو آسانی کر دی، کھاؤ پیؤ، جب روزہ شروع ہوا تو ہر چیز حرام ہو گئی، خاوند بھی حرام ہو گیا اور بیوی بھی حرام ہو گئی، ہر شے حرام ہو گئی۔ لیکن ایک دو واقعات او پر نیچے ایسے آئے کہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے سارا نظام ہی بدل دیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
91%
ٹھیک ہے
9%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved