زخم
  18  ستمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ایک لکڑہارے کی شیر کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ لکڑہارا جب بھی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا شیر اس کے پاس آجاتا اور دونوں خوب باتیں کرتے۔لکڑہارا بھی بغیر کسی خوف کے شیر کے پاس بیٹھا رہتا کیونکہ اسے یقین تھا کہ شیر اسے کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ایک دن ایک آدمی نے دونوں کو پاس بیٹھے دیکھ لیا ۔ وہ بہت حیران ہوا۔ شیر کے جانے کے بعد اس نے لکڑہارے سے کہا کہ مجھے تمہاری عقل پر حیرت ہورہی ہے کہ تم نے شیر کے پاس بیٹھے رہتے ہو اگر اس نے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیا تو؟ لکڑہارے نے جواب دیا کہ شیر میرا دوست ہے اور مجھے اس پر اعتماد ہے کہ وہ کبھی مجھے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اس آدمی نے کہا کہ مان لیا تمہارا دوست ہے لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ وہ ایک درندہ ہے اور تم کسی درندے پر کیسے اعتبار کرسکتے ہو۔ اس کو جب کہیں اور سے خوراک نہ ملی تو وہ تم پر بھی حملہ کرکے تمہیں اپنی خوراک بنا سکتا ہے۔ لکڑہارے نے کہا کہ بات تو تمہاری ٹھیک ہے وہ ایک خونخوار درندہ تو ہے ۔ چلو میں آئیندہ سے احتیاط کروں گا۔ اتفاق سے لکڑہارے کی یہ بات شیر نے بھی سن لی اسے بہت دکھ ہوا۔ اگلے دن جب وہ لکڑہارے سے ملا تو اسے کہا کہ میری کمر پر کلہاڑی کا ایک وار کرو۔ لکڑہارے نے حیرانی سے پوچھا پاگل تو نہیں ہوگئے

میں تم پر کیوں وار کروں گا لیکن شیر ضد کرتا رہا کہ نہیں مجھ پر ایک وار کرو۔ مجبوراََ لکڑہارے نے اس کی کمر پر کلہاڑی سے وار کردیا ۔ شیر کو کافی گہرا زخم آیا لیکن وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا ۔ اس واقعے کے بعد بھی شیر اسی طرح لکڑہارے سے ملتا رہا اور اس کا زخم بھی آہستہ آہستہ بھرتا رہا۔ جب زخم بالکل بھر گیا اور نشان بھی ختم ہوگیا تو اس نے لکڑہارے سے کہا کہ دیکھو تم نے اپنے کلہاڑے سے مجھے جو زخم لگایا تھا وہ بالکل بھر گیا ہے اس کا نشان بھی باقی نہیں رہا لیکن تم نے اس نے مجھے درندہ کہہ کر اور میری دوستی پر شک کرکے اپنی زبان سے جو زخم لگایا تھا وہ آج بھی تازہ ہے۔ لکڑہارا شیر کی یہ بات سن کر بہت شرمندہ ہوا اور وعدہ کیا کہ آئیندہ وہ کبھی ایسی کوئی بات نہیں کرے گا جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ آج ہم لوگ اپنا بھی محاسبہ کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی زبان سے کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، کتنے لوگوں کا دل دکھایا اور کتنے لوگوں کو ذلیل کیا۔ ہم تو کہہ کر بھول جاتے ہیں لیکن بعض دفعہ ہمارے کہے ہوئے چند لفظ کسی کی زندگی تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ خدارا لوگوں کو اپنے الفاظ کے تیروں سے زخمی مت کیجئے ۔ آپ اختلاف رائے اور تنقید طنز کے تیر چلائے بغیر بھی کرسکتے ہیں۔میں نے فیس بک پر ہی بہت سے لوگوں کو گالیوں اور مخالفت کی وجہ سے مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔افسوس زمانے کے کتنے چراغ ہم نے تنقید کی پھونکوں سے بجھا دیے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
94%
ٹھیک ہے
6%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved