زرداری صاحب ایک نظر اس پرانے ساتھی پر ہو
  9  ستمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

خلیل قریشی پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک ایسے سیاسی کارکن، جیالے اور رہنما ہیں جنہوں نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے گزارا۔ یوں تو ان کے کارنامے بے شمار ہیں، لیکن سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کا شریک چیئرمین بنانے کی تجویز دی۔ آپ یہ چند سطریں پڑھ کرحیران ہو رہے ہوں گے کہ آصف علی زرداری کو شریک چیئرمین تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے قبل ایک وصیت کے ذریعے نامزد کیا تھا۔ لیکن اس وصیت کی صداقت کے بارے میں بھی زرداری صاحب کے مخالفین نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وصیت کی وجہ سے زرداری صاحب پی پی پی کے شریک چیئرمین بن گئے۔ جیسا کہ ہم ابتداء میں یہ بیان کرچکے ہیں کہ خلیل قریشی ایڈووکیٹ نے آصف علی زرداری کو شریک چیئرمین بنانے کی تجویز دی تھی۔ اس تمام صورتحال پر گفتگو سے قبل آئیے کچھ خلیل قریشی کے بارے میں جان لیتے ہیں۔خلیل قریشی کی پارٹی کے لیے قربانیاں کیا ہیں اس کا احوال ہفت روزہ معیار کی اشاعت 27 ستمبر سے 3 اکتوبر 1986 میں یوں شایع ہوا۔ خلیل قریشی کی کہانی، مجاہد بریلوی کی زبانی، پیپلز یوتھ کلچرل آرگنائیزیشن کے وائس چیئرمین خلیل قریشی کی قید اور اذیتوں کی داستان یوں سُناتے ہیں: خلیل قریشی کے بقول یہ 5 جنوری 1981 کی بات ہے۔ بھٹو صاحب کی سالگرہ تھی، جس مناسبت سے ہم پمفلٹ پوسٹر نکالنے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ یکم جنوری کو ہمارے ٹھکانے پر مختلف ایجنسیوں کی ایک پوری پلٹن حملہ آور ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ شاید چھاپہ ماروں کی ایک فوج اُن سے مقابلے کے لیے تیار ہو گی۔ جب میجر صاحب دروازے سے داخل ہوئے تو انہوں نے انتہائی ڈرامائی انداز میں مکالمہ ادا کیا ’’کھیل ختم ہو گیا‘‘ آپ سب ہماری حراست میں ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کون سا کھیل؟ اور آخر آپ ہمیں گرفتار کر رہے ہیں تو کس وارنٹ کے تحت۔ مگر ان کے کرخت چہرے جو فیصلہ دے رہے تھے، ان سے ہمیں اندازہ ہو گیا کہ آنے والے دن کتنے کٹھن ہوں گے۔ ہم سب 14 لڑکے تھے۔ ان میں سے مجھے منظر عالم، جان عالم، محمد ناصر، رحمت اللہ اور انجم کو برگیڈ تھانے میں رکھا گیا تھا۔ سوا دو ماہ تک شہر کے مختلف عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ جس شلوار قمیض میں گرفتاری ہوئی تھی اسے تبدیل کرنے اور نہانے تک کی نوبت نہیں آئی۔ گھنٹوں ایک ٹانگ پر کھڑا رکھا جاتا، کئی کئی راتیں سونے نہیں دیا جاتا۔ خلیل قریشی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت 1969 میں اختیار کی تھی مگر وہ طلبہ تحریک میں زیادہ سرگرمِ عمل رہے۔ وہ جامعہ ملیہ کالج ملیر کی طلبہ یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ پیپلز پارٹی جب تک اقتدار میں رہی اُس وقت تک ان کی پارٹی سے وابستگی ایک ’’ہمدرد کارکن‘‘ سے زیادہ نہیں رہی۔ کیونکہ اقتدار کے اُن دنوں میں پارٹی پر وڈیروں، پیروں اور سرمایہ داروں کا راج تھا۔ جولائی 1977 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار سے محروم ہوتے ہی جو صفِ اول میں تھے ان میں سے اکثر و بیشتر راتوں رات اپنی زمینوں اور بنگلوں میں منتقل ہو گئے۔ کچھ کو مختلف نامعلوم بیماریوں نے آ گھیرا۔ وہ جنرلوں سے رشتہ داریاں اور تعلقات استوار کرنے لگے۔ یہ پارٹی اور بھٹو خاندان کے لیے بڑا پُر آشوب دور تھا۔ اگر اس وقت پارٹی کے نوجوان، جیالے اور کارکن سامنے نہ آتے تو پیپلز پارٹی کا حشر بھی ریپلکن پارٹی اور مسلم لیگ سے مختلف نہ ہوتا۔ 4 اپریل 1979 کو بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی۔ ہر جانب صفِ ماتم بچھی ہوئی تھی اور پھر یہی وہ لمحہ تھا جب خلیل قریشی اور اُن جیسے ہزاروں کارکنوں نے یہ نعرہ مستانہ بلند کیا۔ قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

اس قافلے پر پہلا شبِ خون یکم جنوری 1981 کو پڑا۔ خلیل قریشی کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اطراف سے بے خبر شب و روز سرگرمِ عمل تھے۔ 20 قیدیوں کو ایک کمرے میں رکھا گیا تھا۔ ایک گھڑا پانی کا تھا، یہ پانی پینے اور بیت الخلا میں بیک وقت استعمال کرنے کے لیے تھا۔ اچانک ایک دن غالباً یہ مارچ کی 7یا 8 تاریخ تھی۔ ایس ایچ او ہمارے پاس آیا اور کہا کہ آپ لوگ نہا دھولیں، ہم حجام کو بلاتے ہیں، آپ کا شیو کرواتے ہیں، آپ لوگوں کو ہائی جیکروں کے مطالبے پر ملک سے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ ہم نے انہیں لکھ کر دیا کہ ہم اپنا ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ مگر جب ہم پر زور دے کر کہا گیا کہ اس سے پاکستانی مسافروں کی جان بخشی ہو سکتی ہے۔ تو بادِل نخواستہ ہم نے جانے کی حامی بھرلی۔ جمشید کوارٹر تھانے میں مختلف ٹارچر سیلوں اور تھانوں سے لا کر ہمیں اکٹھا کیا گیا۔ ہاتھ پشت پر باندھ کر گلوں میں تختیاں ڈال کر تصویریں اور فنگر پرنٹس لیے گئے اور پھر ہمیں ایئرپورٹ پہنچادیا گیا۔ 7 بجے فلائٹ تھی، بارش ہو رہی تھی، جہاز کو چہار جانب سے کمانڈوز گھیرے ہوئے تھے۔ ہم سب پرجوش نعرے لگارہے تھے اور آخر نعرے کیوں نہ لگتے کہ کم و بیش سوا دو مہینے بعد موت کے گھاٹ سے نکل کر کھلا آسمان دیکھنے کو ملا تھا۔ 7 بجے والی فلائٹ 11 بجے روانہ ہوئی۔ چار گھنٹے کی پرواز کے بعد شام کے شہر حلب میں اترے۔ یہاں سے ہم پاکستانی کمانڈوز کی تحویل سے آزاد ہو کر شامی کمانڈوز کی تحویل میں آ چکے تھے۔ حلب ایئرپورٹ سے چند گھنٹے بعد ہمیں ایک اور جہاز میں سوار کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ ہمیں لبیا بھیجا جا رہا ہے۔ ٹریپولی ایئرپورٹ پر جہاز نے کئی چکر لگائے۔ معلوم ہوا کہ لبیا کے صدر معمر قذافی نے اس جہاز کو لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ مجبوراً جہاز کو ایندھن لینے کے لیے ایتھنز ایئر پورٹ پر اترنا پڑا۔ پھر چند گھنٹے بعد شام کے شہر دمشق سے جب گرین سگنل مِلا تو ہماری جان میں جان آئی، ورنہ یوں لگ رہا تھا جیسا ایک شہر سے دوسرے شہر، دوسرے سے تیسرے، ہماری دربدری ہوتی رہے گی۔ دمشق ایئرپورٹ سے ہمیں قریب ہی ایک خالی ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا۔ یہاں بھی ایک طرح کی نظر بندی ہی تھی۔ ہوٹل سے باہر جانے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔ ڈیڑھ ماہ بعد ہمیں باہر نکلنے کی آزادی ملی تو مختلف دوستوں نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ میں چند دوستوں کے ساتھ کابل آ گیا، تاکہ یہاں سے وطنِ عزیز جا کر جمہوری جدوجہد میں حصہ لے سکوں۔ غالباً جون 1981 کے دوسرے ہفتے کی بات ہو گی میں صوبہ سرحد (خیبر پختونخواہ) کے شہر باجوڑ سے گزرتا ہوا واپس آ رہا تھا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری نے مجھے گرفتار کر لیا اور قلعہ دارسک کی پولیس چوکی میں نظربند کر دیا گیا۔ یہاں میں اکیلا تھا، کئی دن تفتیش کی جاتی رہی۔ یہاں سے مجھے قلعہ بالا حصار منتقل کر دیا گیا۔ یہ پرانے طرز کی عمارت ہے، اور اس میں زیرِ زمین کال کوٹھڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ مجھے جس کوٹھڑی میں رکھا گیا وہ 4 فٹ چوڑی 2 فٹ لمبی تھی۔ یہاں مشکل ہی سے کسی روشنی کا گزر ہوتا تھا۔دن رات کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ پوچھ کچھ کے لیے ہر دو تین دن بعد اوپر کے ایک کمرے میں لاتے، تشدد کرتے، مختلف ہتھیاروں سے اذیتیں دیتے۔ ایک دن کہیں سے پنسل اور کاغذ میرے ہاتھ لگ گیا، خیال تھا کہ یا تو پیغام بھیج دوں لیکن میں مخبری کی وجہ سے پکڑا گیا، جس پر میری شدید پٹائی ہوئی۔ 2 مہینے دنیا سے بے خبر گزر گئے۔ غالباً اگست 1981 کے اوائل میں انہوں نے مجھے ایک بیان پر دستخط کرنے کو کہا۔ میں نے یہ سوچ کر دستخط کر دیے کہ شاید اسی طرح اِس پھانسی گھاٹ سے نکل کر مجسٹریٹ کے سامنے جانے کا موقع مل جائے۔ چند دن بعد مجھے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ مجسٹریٹ کے سامنے میں نے کہہ دیا کہ انہوں نے مجھ سے مار پیٹ کر بیان لیا ہے اور میں اس بیان کو تسلیم نہیں کرتا۔ مجسٹریٹ نے مجھے پشاور جیل بھجوا دیا۔ پھر کچھ دن بعد پشاور جیل سے ہری پور سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ ایک دن پولیس مجھے عدالتی رمانڈ سے واپس لا رہی تھی تو جیل کے دروازے پر میرے بھائی کھڑے مل گئے اور اس طرح تقریباً نو ماہ بعد مجھے اپنے گھر والوں کا چہرہ دیکھنا نصیب ہوا۔ ہری پور جیل میں اکتوبر 1985 تک بغیر مقدمہ چلائے نظر بند رہا۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ’’جیل میں آ کر ایک سیاسی قیدی محفوظ ہو جاتا ہے مگر آج یہ بات ایک مفروضہ ہے۔ ہری پور جیل میں 18 مئی 1983 کو ایک رات سیاسی قیدیوں کو بیرکوں سے نکال کر بے تحاشا تشدد کیا گیا۔ تقریباً 3 فرلانگ تک ڈنڈوں سے مارتے ہوئے ہمیں وہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک لے گئے۔ اس تشدد سے کسی کا سر پھٹا، کسی کا ہاتھ ٹوٹا اور پھر یہاں سے ہمیں ’’بند وارڈ‘‘ میں نظر بند کر دیا گیا۔ کئی ہفتے بند وارڈ میں رہے، اس دوران جو زیادتیاں ہوئیں وہ ضبطِ تحریر میں نہیں لائی جاسکتیں۔ میں تقریباً 4 سال دو ماہ ہری پور جیل میں رہا۔ اکتوبر 1985 کو سینٹرل جیل کراچی لایا گیا اور 16 اکتوبر سے مسرور احسن اور مجھ پر سمری ملٹری کورٹ میں بغاوت اور دیگر نام نہاد الزامات کی بنیاد پر جیل کے اندر ہی مقدمہ چلنا شروع ہو گیا۔ یکم جنوری 1986 کو جب مارشل لا نام نہاد طور پر اٹھایا گیا، تو ہم نے عدالت میں اپنی غیر قانونی نظر بندی کو چیلنج کیا اور 12 فروری 1986 کو ہمیں ضمانت پر رہائی ملی۔ خلیل قریشی نے ایک طویل خاموشی کے بعد ٹھہرٹھہر کر کہنا شروع کیا، قلعہ بالا حصار کی کال کوٹھڑی میں جب میں نظر بند تھا تو مجھے رہائی کی ایک فیصد بھی امید نہیں تھی۔ اکثر یہ خیال آتا تھا کہ مجھے وہ یہیں جان سے ما رکر کسی کھائی میں پھینک دیں گے۔ یہ خیال اس لیے بھی آتا تھا کہ کئی سیاسی کارکنوں کے ساتھ ایسا ہو چکا تھا۔ ہمارے کئی ایسے ساتھی ہیں جن کی برسوں سے کوئی خبر نہیں آئی ہے۔ ہری پور جیل میں منتقلی کے بعد کچھ امید پیدا ہو چکی تھی کہ شاید اس حکومت کے خاتمے کے بعد رہائی مل جائے۔ مجھے اس دوران بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی بھی طرح مجھے کراچی یا سندھ کی کسی جیل میں منتقل کر دیں تاکہ دورانِ نظر بندی مہینے میں ایک بار ہی سہی، میں اپنے گھر والوں کا چہرہ دیکھ سکوں اور اگر نظر بندی کے دوران موت آئے بھی تو اپنی سرزمینِ سندھ پر۔اگست 2001 کا دن پیپلز پارٹی کی تاریخ کا وہ اہم دن ہے جب پیپلز پارٹی کراچی شرقی کے صدر اور صوبائی کونسل کے رکن خلیل قریشی ایڈوکیٹ نے سندھ کونسل کے اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد کا متن کچھ یوں ہے: ’’میں اس معزز ایوان کے سامنے ایک قرارداد پیش کرتا ہوں کہ جناب آصف علی زرداری جنہوں نے گزشتہ ایک دہائی کا نصف سے زیادہ حصہ پارٹی کی خاطر قید و بند کی صعوبتوں میں گذارا اور بے پناہ تشدد کے باوجود نواز آمریت اور موجودہ حکومت کے سامنے ہر قسم کے سمجھوتے کی پیشکش کو ٹھکرا دیا، پارٹی اور محترمہ کا سر فخر سے بلند کیا جو نواز کی طرح ملک چھوڑ کر نہیں بھاگا، نہ ہی مشاہد حسین اور غوث علی شاہ اور چوہدری نثار کی طرح معافی نامے دے کر جیل سے باہر آیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پارٹی میں اِس وقت جتنی قربانیاں آصف علی زرداری نے دیں ہیں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اِس بے باک اور نڈر رہنما کو پارٹی کی طرف سے ان قربانیوں کے شایانِ شان کوئی عہدہ نہیں دیا گیا، لہٰذا میں تجویز کرتا ہوں کہ جناب آصف علی زرداری کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی غیر موجودگی میں پارٹی کا شریک چیئرمین (Co-Chairman) نامزد کیا جائے۔ میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ سندھ کونسل متفقہ طور پر ایک قرارداد اس بارے میں منظور کر کے سی ای سی کو بھیجے اور ہماری قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی سفارشات بھیجی جائیں۔ یہ ہاؤس مخدوم خاندان کی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے خدمات اور بھٹو خاندان سے وفاداری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔‘‘ کمال بات یہ ہے کہ اردو اخبارات نے پیپلز پارٹی سندھ کونسل کے اجلاس کو اپنے ہی انداز میں رپورٹ کیا۔‘‘ ’’روزنامہ نوائے وقت‘‘ کی اشاعت 29 اگست 2001 میں اس حوالے سے ایک تین کالمی خبر شائع ہوئی جوکچھ یوں تھی: زرداری کو، کو چیئرمین بنانے کی قرارداد پر ہنگامہ، خلیل قریشی پر حملہ، ’’ایجنٹ ہے‘‘ کے نعرے ستار بچانی اور زاہد بھرگڑی خلیل قریشی کی طرف بڑھے اور کہا اسے قتل کر دیا جائے، زرداری کا کوئی حامی بچ کے نہ نکلے کئی ارکان نے زرداری کو ’’ایجنٹ‘‘ قرار دیا، منور سہروردی نے کہا جو’’ زرداری کا نام لے گا ہم اسے دیکھ لیں گے‘‘ کراچی (نامہ نگار خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کونسل کے اجلاس میں اس وقت شدید ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب پیپلز پارٹی کے رہنما خلیل قریشی نے بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو بے نظیر کی غیر حاضری میں پیپلز پارٹی کا ’’کو چیئرمین‘‘ بنانے کی قرارداد پیش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ یہ قرارداد ارکان میں تقسیم کر چکے تھے، سندھ کونسل کے اجلاس کی صدارت نثار کھوڑو کر رہے تھے۔ خلیل قریشی قرار داد پڑھنے لگے تو پورے اجلاس میں ہڑبونگ مچ گئی۔ سندھ کونسل کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ اجلاس کی کارروائی معطل ہوگئی، ستار بچانی اور زاہد بھرگڑی اس قرارداد کے محرک کی طرف بڑھے اور کہا کہ یہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے اسے قتل کر دیا جائے۔ آصف زرداری کا کوئی حامی بچ کہ نہیں نکلے گا۔ وہ ان کو مارنے کے لیے لپکے۔ اس موقعے پر رضا ربانی، آفاق شاہد، این ڈی خان اور بلوچ خان گبول نے مداخلت کی اور خلیل قریشی کو بچا لیا۔ اس دوران کئی ارکان کھلم کھلا آصف زرداری کو گالیاں دے رہے تھے اور ایجنٹ قرار دے رہے تھے۔ منور سہروردی نے کہا کہ ’’جو آصف زرداری کا نام لے گا ہم اُسے دیکھ لیں گے۔‘‘ جب ہنگامہ تھوڑی دیر کے لیے رُکا تو پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے آئین میں ’’کو چیئرمین‘‘ کا کوئی عہدہ نہیں۔ بے نظیر بھٹو پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئر پرسن ہیں۔ جس قرارداد پر ہنگامہ ہوا اُس میں کہا گیا ہے کہ یہ ہاؤس تاحیات چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ معزز ایوان کے سامنے یہ تجویز رکھی جاتی ہے کہ جناب آصف علی زرداری کو پارٹی کی خاطر قید و بند برداشت کرنے اور آمریت اور موجودہ حکومت کی طرف سے ہر طرح کی ڈیل کو مسترد کرنے پر ان کی قربانیوں کے باوجود اس نڈر لیڈر کو ان کے شایانِ شان عہدہ نہیں دیا گیا، وہ نہ نواز شریف کی طرح ملک سے گئے اور غوث علی شاہ، شاہد خاقان عباسی اور دوسروں کی طرح رہا ہوئے۔ لہٰذا میں تجویز کرتا ہوں کہ آصف زرداری کو بے نظیر بھٹو کی غیر موجودگی میں کو چیئرمین نامزد کیا جائے۔ یہ ایوان پیپلز پارٹی کے لیے مخدوم خاندان کی خدمات کو سراہتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved