اللہ تعالیٰ قتل و غارت، فتنہ وفساد ، لڑائی کو پسند نہیں کرتا
  11  ستمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

لاہور(ویب ڈیسک )مسجد نبویؐ کے نائب امام، موذن الشیخ ایاد بن احمد شکری نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ قتل و غارت، فتنہ وفساد ، لڑائی کو پسند نہیں کرتا ، کسی پر فتوے نہ لگاؤ اور کافر نہ کہو یہ کام جس کا ہے وہی کر سکتا ہے ،دین اسلام میں آسانیاں ہیں، ایمان صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ عمل بھی ضروری ہے ،کوئی بھی حاکم وقت ،حکمران وقت خواہ وہ برائی بھی کرتا ہے اس کے خلاف افرا تفری نہ پھیلاؤ اس کے خلاف خرو ج نہ کرو ،امن و امان کو پسند کرنے والے صحیح مشن اور منہج پر ہیں ۔ وہ جمعہ کو جامع مسجد اسحاق میں نماز جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ۔ اس موقع پر انہوں نے عالم اسلام کے اتحاد،سلامتی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعا بھی کرائی ۔الشیخ ایاد بن احمد شکری نے اپنے خطبے میں کہا کہ اللہ رب العزت نے اپنے رسول محمد ﷺکو ہم سب کیلئے حادی و مرشد بنا کر بھیجا ، جنت کی خوشخبریاں سنانے والے اور جہنم سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور پھر اپنے محبوب کو ایسی توجیحات سے نوازا جن کے ذریعے رسول ﷺ اپنی امت کی تربیت کر سکیں۔رسولﷺ اللہ کی مرضی کے بغیر کلام نہیں کیا کرتے تھے ،اس لئے آپ ؐکی ہر بات شریعت ہے اور ایک مسلمان کو اس پر ایمان لانا چاہیے ۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو جوتوجیحات دیں ان میں ایک توجیح یہ تھی اے میرے محبوب آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح استقامت اختیار کیجیے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھاکہ تم کہہ دو میں اللہ پر ایمان لاتا ہو ں اور اس پر استقامت اختیار کر تا ہوں یہ کلمات دین اسلام کی اصل روح ہیں اور یہ وہ کلمات ہیں جس میں اسلام کو جمع کر دیا گیا ہے ۔ یاد رکھنا ایمان بہت بڑی نعمت ہے ۔صحیح مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کی جماعت سے الگ نہیں ہوتا اور اپنی زندگی نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارتا ہے ۔ صحیح مشن اور منہج وہ ہے جو انسان صحابہ کی برائی نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان ہستیوں کو اپنے محبوب کا وزراء بنایا ہے اور انہیں پوری کائنات سے چنا ہے ۔ نبی کریمﷺ ؐنے خود کہا میرے صحابہ کو گالی نہ دو اور جس نے گالی دی اس پراللہ اس کے فرشتوں اورپوری کائنات کی لعنت ہے۔ جو قتل و غارت ،فساد او ر لڑائی کو پسند نہیں کرتا جوامن کو پسند کرتا ہے وہ مومن ہے کیونکہ جو ایک مومن کو قتل کرتا ہے وہ امن و امان کو تہہ و بالا کرنا چاہتا ہے ۔ تقدیر کو نہ جھٹلائیں ،ہر قسم کی تقدیر چاہے وہ اچھی ہو یا وہ بری ہو اس کا فیصلہ اس رب نے کیا ہے ۔ ایمان پر شک نہ کرنا ایمان نیکی کرنے سے بڑھتا اور برائی کرنے سے کم ہوتا ہے ۔ دین میں جھگڑے نہ کرو لڑائی نہ کرنا جس کی زندگی کا مقصد یہ ہے وہ صحیح مشن پر ۔ صحیح منہج یہ ہے کہ اپنے سر کو اللہ اور اس کے رسول ؐ کے حکم کے آگے جھکا لے ۔ تم میں سے جو نما ز پڑھنے والا ہے اس کانماز جنازہ پڑھو بیشک وہ گناہ کرنے والا برائی کرنے والا کیوں نہ ہوں کیونکہ اس سے ایمان تو کم ہوتا ہے بندہ کافر نہیں ہوتا ،مسلمانوں کی ملت سے خارج نہیں ہوتا ، فتوے نہ لگاؤ کسی کو کافر نہ کرو یہ بڑے علماء کا کام ہے یہ عام لوگوں کا کام نہیں۔ گناہ اللہ سے معافی مانگنے سے معاف ہو جائے گا اس طرح فتوے بازی تمہارے کے لئے پریشانی کا باعث ہوگا۔ دین مین آسانیاں ہیں رخصتیں ہیں ان کو قبول کیا جائے ، اللہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان کی کی دی گئی رخصتوں کو قبول کیا جائے ۔ کوئی بھی حاکم وقت ،حکمران وقت خواہ وہ برائی بھی کرتا ہے اس کے خلاف افرا تفری نہ پھیلاؤ اس کے خلاف خرو ج نہ کرو ،نبی کریم سے سیکھنے والے اور آگے سکھانے والوں سے یہ مشن منتقل ہوا ہے کہ امن و امان کو پسند کرنے والے صحیح مشن اور منہج پر ہیں ۔چار اصول سمجھ لیں سب سے پہلے اس تقدیر کو سچا جانیں جو رب نے فیصلہ کر دیا ہے وہ مجھے اچھا لگے یا برا لگے انسان کو مان لینا چاہیے اس سے وہ غلط عقیدہ سے بچ جاتا ہے ۔ ایمان صرف دعوے کا نام نہیں اس کے لئے عمل بھی ضروری ہے اور اگر کوئی انسان یہ کرتا ہے تو وہ غلط نظریات سے دور ہو جاتاہے ۔ خلفائے راشدین تمام صحابہ سے افضل ہیں اگر آپ نے اپنے منہج کو صحیح کر لیا تو اپنے آپ کو غلط نظریات سے بچا لیا ۔ اس طرح اعتقاد رکھنا چاہیے کہ نماز ہر اس حاکم وقت امام کے پیچھے ہو سکتی چاہے اس اس میں کمی کوتاہی اور غلطی ہو، ا س کا خون بہانے کی منصوبہ بندی کرنا شرعاًنا جائز ہے ،امن و امان کو پسند کرنا چاہیے ،نماز پڑھنی چاہیے اس نے اپنے آپ کو خوراج کے غلط نظریات سے بچا لیا ۔ مومن خون کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ آپ ؐنے خطبہ حجتہ الوداع میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ تمہارا ایک دوسرے کا خون بہانہ ،مال لوٹنا اورعزت کو پامال کرنا یہ حرام ہے ۔ نماز کا خیال کرو اس میں خشوع و خضوع کا خیال کرو ۔ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا اور حقوق میں سب سے پہلے خون کا حساب ہوگا۔ نبی کریم ؐکا فرمان ہے کہ تم اس وقت تک صحیح مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے والدین ، اولاد اور مال و دولت سے بڑھ کر مجھ سے محبت نہ کرو ۔ اس معاملے میں محبت اس کی میزان ہیں جس میں زیادہ محبت ہو گی اس کا ایمان اتنا قوی ہوگااس کی ایمانی کیفیت مضبوط ہو گی ۔

جس چیز کی نسبت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو جائے اس سے محبت کرنا اور اس محبت کا تقاضہ ہے کہ مدینے سے محبت کی جائے ۔ رسول نے مدینہ طیبہ میں پڑاؤ ڈالااور اسلامی حکومت قائم کی ،اپنی زبان اقدس سے اس کے بہت سے فضائل بیان کئے اور دعا کی کہ اے اللہ جس طرح مکہ ہمیں محبوب ہے ہمیں مدینہ بھی محبوب بنا دے اس کے لئے اس سے زیادہ محبت ڈال دے ، جو مکہ میں برکت عطا فرمائی مدینے کو اس سے دوگنی برکت سے نواز دے ، اے اللہ ہمارے مدینے کے اندر برکت فرما دے ۔نبی کریم ؐ نے فرمایا کاش لوگوں کو پتہ چل جائے کہ مدینہ ان کے لئے بہت بڑی نعمت ہے ۔ مدینے میں رہنے والے مصیبت اور مشقت میں صبر کرتے ہیں ۔نبی کریم ؐ نے فرمایا یہ چند روز کی مشقت ہے میں قیامت کے روز ان کا سفارشی بن جاؤں گا ، جو شخص مدینہ میں مرنے کی خواہش کرے گا میں اس کیلئے گواہ بھی ہوں گا اورسفارشی بھی ہوں گا۔ نبی کریم ؐنے فرمایا مدینہ طیبہ میں نہ طاعون کی بیماری آ سکتی ہے اور نہ دجال آ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ مدینہ طیبہ کے باہر فرشتوں کو ذمہ داری دیں گے وہ مدینہ طیبہ مین دجال کو داخل نہیں ہونے دیں گے ۔ مسجد نبوی ؐ کے نائب امام نے بعد ازاں دعا کرائی مسلمانوں کی مدد فرما ،کمزوروں کی مدد فرما ،جو بیمار ہے انہیں شفائے کاملہ عطا فرمائے ،جومقروض ہیں انہیں قرض سے نجات دلا،ہماری اولادوں کو بیویوں کو دین پر چلا ان کی حفاظت فرما اوران کی زندگیوں کو دین کی طرف موڑ دے ،ہر خیر میسر فرما ، جو نبی کریم ؐ مانگتے تھے ہم بھی وہی دعا مانگتے ہیں ، رسول ؐنے جس سے پناہ مانگی ہم بھی اس سے پناہ مانگتے ہیں ،ہمیں ثابت قدمی عطا فرما ،حرمین شریفین کی حفاظت فرما،پاکستان کی حفاظت فرما اپنے فضل ،رحمت سے نواز ،اس میں امن و امان قائم فرما اور اسے مضبوط اسلام کا قلعہ بنا۔اس کے حکمرانوں کو دین اور رعا یاکیساتھ خیر خواہی کرنیوالا بناپر ، اے اللہ فضل فرما اور رحمتوں سے نواز دے۔ اللہ کا حکم ہے کہ اللہ عدل کا حکم دیتا ہے احسان کرنے کا حکم دیتا ہے رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ۔ اللہ نے کہا ہے کہ فحاشی سے رک جاؤبرائی سے رک جاؤ اور یہ بہت بڑی نصیحت ہے اللہ ان نصیحتوں کو قبول کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں عثمان نے مسجد نبویؐ کے نائب امام سے ملاقات کی اور ان کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved