حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کو ملنے آنے والی ہستیاں اپنے ساتھ کیا چیز لائیں کہ علامہ اقبال کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے
  11  ستمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

مولاناعبدالستارخان نیازی ؒفرماتے ہیں کہ میں علامہ اقبال کے خادم مولا بخش سےایک دفعہ ملاقات ہوئی جس کی پوری زندگی علامہ اقبال کی خدمت میں گزری میں نے کہاکہ علامہ صاحب کی کوئی عجیب بات تم نے اپنی زندگی میں دیکھی ہوتوبتائو۔مولانافرماتے ہیں کہ اس نے کہازندگی میں اقبال نے مجھ سے وعدہ لیاتھاکہ بیان نہیں کرنااب چونکہ فوت ہوچکے ہیں اس لیے آپ کوبتاتاہوں۔بات یہ تھی کہ میں رات کوسویاہواتھادویاتین بجے کاوقت ہوگارات کاپچھلاپہرتھاعلامہ اقبال نے آکرمجھے جگایااورکہاکہ میرے خاص مہمان آئے ہیں جائوان کے لیے تازہ لسی بنواکرلائو۔میں آنکھیں ملتاہوااٹھااورسوچاکہ اس وقت لسی کہاں سے ملے گی۔اورمہمان کون آیاہے اس وقت اندرکمرے میں ایک بزرگ بیٹھے تھے ان کے چہرے کانوراتناتھاکہ کمرہ بھی جگمگارہاتھا۔میں کچن کی طرف برتن لینے کے لیے گیاتواقبال نے کہاکہ برتن میں خوددوں گا۔

اقبال نے برتن دھوکرمجھے دیااورکہاکہ جائوکہیں سے لسی لے کرآئومیں گلی میں جارہاتھاکہ اس وقت لسی کہاں ملے گی جونہی میں نے گلی کاموڑ کاٹادیکھاتوسامنے ایک کھوکھابناتھاایک باباجی لسی بنارہے تھےمیں حیران ہوگیاکہ پہلے یہاں کبھی کھوکھاتھااورنہ ہی پہلے اس باباجی کودیکھاراتوں رات یہ کھوکھاکیسے بن گیااوردل میں خوش بھی ہواکہ کام قریب سے ہوگیااب یہ صبح تحقیق کررہے ہیں کہ کھوکھاکس نے بنایا۔کہتاہے میں نے اس سے کہاکہ مجھے دوچارگلاس لسی بنالوانہوں نے لسی بناکردی میں نے ان بزرگوں سے کہاکہ کتنے پیسے ہیں تومسکراکرفرمانے لگے کہ لے جائواقبال سے ہمارامعاملہ چلتارہتاہے۔میں بڑاحیرا ن ہواکہ یہ اقبال کوبھی جانتے ہیں اورمیں انہیں نہیں جانتامیں لسی لے آیااقبال نے برتن پکڑااورکہنے لگاکہ بیٹھواپنے کمرے میں۔اقبال لسی لے گئے مہمان کوپیش کی ۔اب میں اگلے حکم کامنتظرتھاکہ مہمان رات ٹھہریں گے یاجائیں گے تھوڑی دیرکے بعدمجھے آوازآئی کہ مہمان اٹھ کھڑے ہوئے اقبا ل دروازے تک چھوڑنے گئے اورآنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اس عظیم پرنور ہستی سےبغل گیرہوئے۔معانقہ کیااوردروازے سے باہرنکلےمیں بھی دوڑ کرباہرنکلااورکہاکہ علامہ صاحب آپ اندرآرام کریں میں دروازہ بندکردیتاہوں ۔علامہ صاحب اندرچلے گئےمیاں امام بخش کہتے ہیں کہ اللہ کی عزت کی قسم لوگوجب میں نے باہرجھانکاکہ آدھی رات کوآئے اورآدھی رات کوجارہے ہیں یہ مہمان ہیں کون؟تومیں دیکھ کرحیران ہوگیاکہ اس مہمان نے ایک قدم اقبال کے دروازے سے اٹھایااوردوسراقدم گلی کے آخری کونے پررکھ دیااورغائب ہوگئے میں دوڑ پڑاپیچھے کہ اتنی عجیب شخصیت اوراتنابڑاقدم میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھایہ کون انسان ہے۔جب میں گلی کے کونے پرپہنچاتوحیرت میں اضافہ ہوگیاکہ نہ وہ کھوکھاتھانہ وہ باباتھامہمان بھی غائب کھوکھے والابھی غائب۔وہ نوکرکہتاہے کہ میں پلٹ کرواپس آیااوراقبال کے قدموں میں گرگیا۔میں نے کہاکہ اقبال زندگی بھرمیں نے آپ کی خدمت کی ہے خداکاواسطہ مجھے بتائویہ آنے والے کون تھے اوروہ کھوکھے والاکون تھا؟میں جب بہت رویاتواقبال نے کہاکہ ایک شرط پہ بتادیتاہوںکہ میری زندگی میں راز فاش نہیں کروگے ۔میں نے کہاکہ میں قسم کھاتاہوں۔اقبال نے کہاکہ سن میرے دوست اللہ کی عزت کی قسم جوآئے تھے وہ خواجہ غریب نوازمعین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ تھےجو قیام پاکستان کی دستخط شدہ فائل لے کرآئے تھے اورکھوکھے پر براجمان لسی بنا کردینے والےداتاعلی ہجویری تھے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved