جسم کا ایسا نازک حصہ جہا ں سے با ل اکھا ڑنے سے مو ت واقعہ ہو سکتی ہے
  12  ستمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ہم زیادہ تر ناک کے ذریعے سانس لیتے ہیں اور اس دوران ہم جتنی بھی ہوا سانس کے ذریعے اندرلیجاتے ہیں ہماری ناک اسے کو صاف کرتی ہیں. ناک کے اندر موجود بال اس ہوا کو صاف کرنے کے لیے پہلے فلٹر کا کام کرتے ہیں.ہم نے عموماً دیکھا ہے کہ لوگ ناک کے بالوں کو ایک چمٹی کے ذریعے اکھاڑتے ہیں. یہ طریقہ آپ کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے. ویب سائٹ بزنس انسائیڈرنے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں نیویارک یونیورسٹی کے ماہر امراض ناک ، کان و گلا ڈاکٹر ایرک وائٹ نے بتایا ہے کہ ناک کے بالوں کو چمٹی سے اکھانا کس قدر نقصان دہ ہو سکتا ہے. ڈاکٹر ایرک کا کہنا تھا کہ جب ہم ناک کے بالوں کو چمٹی سے اکھاڑتے ہیں تو یہ جلد کے اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں۔

ٹوٹ جاتے ہیں، جس سے جلد میں ایک سوراخ بن جاتا ہے. اس سوراخ میں بیکٹیریا چلے جاتے ہیں. جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ بال اکھاڑنے سے بسااوقات معمولی خون بھی نکل آتا ہے. اس کا مطلب ہے کہ بال اکھاڑنے سے بننے والے سوراخ کے پاس خون کی وریدیں بھی ہوتی ہیں اور ڈاکٹر ایرک کے مطابق یہ بیکٹیریا ان خون کی وریدوں کے ذریعے باقی جسم میں پھیل جاتے ہیں اور انفیکشن کرتے ہیں.


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
89%
ٹھیک ہے
11%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved