گالیاں
  20  ستمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

ایک دکان پر دو تین لڑکے بیٹھے تھے۔ ان کےقریب سے ایک قادیانی گزرا۔انھوں نےاسے سنانے کے لئےمرزا کو دو تین گالیاں دے دیں۔ یہ واقعہ اوکاڑہ شہر کا اور پاکستان بننے سے پہلے کا ہے۔اس وقت انگریز حکومت قادیانیوں کا پورا پورا ساتھ دیتی تھی۔ اس قادیانی نے مسلمان لڑکوں کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا۔ اس پر اوکاڑہ کے مسلمانوں نے مجلس احرار لاہور کے دفتر کو خط لکھ کر ساری صورتحال بتائی اور درخواست کی کہ ان کی مددکے لیے دفتر سے کسی کو بھیجا جائے۔جو عدالت میں ہماری مدد کر سکے۔ حضرت عطا اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے مولانا محمد حیات رحمتہ اللہ علیہ کو حکم دیا۔ آپ اوکاڑہ چلےجائیں اور اس کیس کی پیروی کریں ۔ مولانا حیات اوکاڑہ پہنچ گئے۔ دوستوں سے ملاقات کی۔ سارے کیس کا مطالعہ کیا۔ پھر ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں۔

اسے کتابیں دکھائیں حوالے دکھائےاور یہ بھی بتایا کہ مرزا نے مسلمانوں کو کیا کیا گالیاں دی ہیں۔ اور اسے سمجھایا کہ کیا کیا بات کرنی ہے اور کون کون سے دلائل دینے ہیں۔مقررہ تاریخ کو عدالت لوگوں سے کھچاکھچ بھر گئی۔سب لوگ مقدمے کی کاروائی کو سننا چاہتے تھے۔ مولاناحیات صاحب نے وکیل کی بہت تیاری کروائی تھی اس لیئے وہ مطمئن تھے کہ ان کا وکیل سب کچھ سنبھال لے گا۔ لیکن وکیل نے انکی بتائی ہوئی ایک بات بھی نہیں کی وہ سب یونہی رہ گئی۔ وکیل اس طرف آیا ہی نہیں، بلکہ اس نے عدالت میں اس قادیانی سے یہ کہا۔ میں کوئی زیادہ لمبی چوڑی بحث نہیں کروں گا نہ ہی دلائل دوں گا آپ صرف اتنا بتائیں! ان لوگوں نے مرزا کو کون سی گالی دی ہے۔ تاکہ اسے سن کر فیصلہ کیا جاسکے کہ وہ گالی ہے بھی یا نہیں ۔ قادیانی کو یہ سن کر سکتہ ہوگیا کہ وکیل نے یہ کیا سوال کردیا اور مجسٹریٹ منہ پر رومال رکھ کر مسکرانے لگا کہ وکیل نے کیا خوب سوال کیا ھے۔ آخر مرزائی نے کہا۔ مجھے یاد نہیں کہ کونسی گالی تھی لیکن گالی ضرور تھی ۔ اس پر وکیل نے کہا: کوئی بات نہیں ، میں گالیاں دیتا ہوں، آپ سنتے جائیں، جب وہ گالی آئے مجھے بتادیں: وکیل نے ایک ہی سانس میں مرزائی کو کئی گالیاں دے دیں، پھر اس نے قادیانی سے پوچھا: کیا ان گالیوں میں وہ گالی آئی ہے، جو ان لڑکوں نے دی تھی۔ قادیانی نے پھر کہا : مجھے یاد نہیں ۔ اس پر وکیل نے کہا:۔تو پھر اور گالیاں سنو، اس مرتبہ وکیل نے پوری 51 گالیاں دیں۔ مجسٹریٹ اور تمام حضرات دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے۔ بس مرزائی ساکت کھڑا تھا۔ اس کا رنگ فق تھا۔ اب پھر وکیل نے کہا۔ ان میں سے کوئی گالی آئی ہے۔؟ اس نے پھر کہا مجھے یاد نہیں۔ اب وکیل نے کہا جج سے کہا کہ سر مجھے کل کی تاریخ دے دیں میں اور گالیاں یاد کرکے آؤں گا اور ہوسکتا ہے اس کو بھی کل تک وہ گالی یاد آجائے ۔ جج نے تیسرے دن کی تاریخ دے دی تیسرے دن جب وکیل اور مسلمان عدالت میں پہنچے تو قادیانی وہاں موجود نہیں تھا۔ مجسٹریٹ نے مسلمانوں کو بتایا: کہ وہ کل ہی درخواست دے گیا تھا کہ ہم اپنا کیس واپس لیتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کے خلاف وہ کیس خارج ہوگیا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
93%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
7%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved