جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ کھلاڑی الویرو پیٹرسن پر دو سال کی پابندی
  24  دسمبر‬‮  2016     |      کاروبار
جوہانس برگ(روزنامہ اوصاف)جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ نے سابق ٹیسٹ کھلاڑی پیٹرسن الوریو پر میچ فکسنگ کی معلومات کو چھپانے کے جرم میں دو سال تک ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کر دی ہے۔پیٹرسن الیویرو نے جنوبی افریقہ کی جانب سے چھتیس ٹیسٹ اور بائیس ون ڈے میچوں میں حصہ لیا۔پیٹرسن الویرو پر الزام ہے کہ انھوں نے دوسرے کھلاڑیوں کی جانب سے میچ فکسنگ کی کوششوں کی معلومات ہونے کے باوجود متعلقہ حکام سے تعاون کرنے سے گریز کیا۔البتہ جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ نے الویرو پیٹرسن پر براہ راست میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کو واپس لے لیا ہے۔الویرو پیٹرسن گذشتہ دو سالوں سے جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم میں شامل نہیں ہیں اور انگلش کاونٹی لنکاشائر کی نمائندگی کر رہے ہیں۔چھتیس سالہ الویرو نے کہا کہ وہ جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے خاندان، دوستوں، ہم وطنوں اور مداحوں سے معافی طلب کی ہے۔الویرو پیٹرسن پر الزام تھا کہ انھوں نے جنوبی افریقہ کی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں میچ فکسنگ کی کوششوں کی پردہ داری کی تھی۔الویرو پیٹرسن نے ان الزامات کو تسلیم کیا ہے کہ جب میچ فکسنگ کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے متعلقہ حکام کو مطلع نہیں کیا اور بعد میں تحقیق کاروں سے بھی مکمل تعاون نہیں کیا۔انھوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے دوسرے کھلاڑیوں کی میچ فکسنگ کی معلومات کو چھپانے کی کوشش کی اور بعض شواہد کو تلف بھی کیا تھا۔جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ نے جنوری میں ایک اور کھلاڑی غلام بودی پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے جرم میں پابندی عائد کر دی تھی۔جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے الویرو پیٹرسن کی تحریری گزارشات کا معائنے کرنے کے بعد ان کے خلاف میچ فکسنگ کے الزامات کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved