پاکستان میں زرعی سائنسدانوں کسانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی
  5  فروری‬‮  2017     |      کاروبار

اسلام آباد (روز نامہ اوصاف )پاکستان میں مونگ کی پیداوار بھارت سے دوگنا ہو گئی ہے جبکہ زرعی سائنسدانوں نے مزیدبہترین پیداوار کے حصول کیلئے مونگ کی بھرپور قوت مدافعت رکھنے والی نئی اقسام کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے جس کے جلد مفیدنتائج حاصل ہونے کاامکان ہے۔ ماہرین زراعت نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت بھی متاثر ہورہی ہے جبکہ مختلف فصلات کی اگیتی اور پچھیتی کاشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیںاس لئے موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دیگر فصلات کے علاوہ مونگ کی نئی قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے بتایاکہ گزشتہ سال مونگ کی پیداوار 779کلو گرام فی ہیکٹر حاصل کی گئی ہے جو کہ انڈیا کی مونگ کی پیداوار سے دوگنا ہے۔انہوںنے بتایاکہ مونگ کی برداشت اور تھریشننگ میں کاشتکاروں کو مسائل کا سامنا ہے کیونکہ برداشت کے دوران بارش ہوجانے سے مونگ کی فصل کا بہت زیادہ نقصان ہوجاتا ہے اور مونگ کی مخلوط کاشت سے ایک بوری یوریا زمین میں داخل ہوجاتی ہے جس سے زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔انہوںنے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کیڑوں کا کردار بھی تبدیل ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مربوط طریقہ انسداد (آئی پی ایم )کراپ مینجمنٹ کا اہم حصہ ہے جس کا اولین مقصد صحت مند فصل کا حصول ہے۔انہوںنے کہا کہ کماد اورترشاوہ باغات میں مونگ کی مخلوط کاشت کے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیںاورگزشتہ دو سالوں میں مونگ کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ نہ کئے بغیر زیادہ پیداوار حاصل ہوئی ہے۔انہوںنے کہاکہ کسانوں کومونگ کے زیر کاشت رقبہ کوبڑھانے کے لیے راغب کرنے اور قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کا بیج مہیا کرنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
85%
ٹھیک ہے
8%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
8%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved