نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک سے 2016میں تین سو ٹن سونے میں سے 111ٹن سونا واپس جرمنی لایا گیا
  10  فروری‬‮  2017     |      کاروبار

برلن (روزنامہ اوصاف) جرمنی کا مرکزی بینک ’بنڈس بانک‘ بتدریج وہ سونا واپس لا رہا ہے، جسے سرد جنگ کے دوران بیرونی دنیا بالخصوص امریکا میں رکھا گیا تھا۔ اب تک 300ٹن سونا واپس جرمنی پہنچ چکا ہے۔نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس بینک نے جمعرات نو فروری کو بتایا کہ 2016ء میں نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک سے 111ٹن سونا واپس لایا گیا۔ وہاں پڑے ہوئے 300ٹن سونے کی یہ آخری کھیپ تھی، جو واپس جرمنی لائی گئی۔ جرمنی کا مرکزی بینک پیرس سے بھی ایک 500 ٹن سونا واپس لایا ہے۔جرمنی کے مرکزی بینک نے نیویارک میں پڑے ہوئے300 ٹن سونے اور پیرس میں محفوظ 374ٹن سونے کو واپس جرمنی منتقل کرنے کا پروگرام 2013ء میں شروع کیا تھا۔ اُس سے پہلے تک جرمنی کا صرف اکتیس فیصد سونا بڑی بڑی ڈلیوں کی صورت میں ملک کے اندر محفوظ تھا۔ابھی بھی جرمنی کا اکیانوے ٹن سونا بدستور پیرس میں پڑا ہے، جسے مرحلہ وار واپس لایا جائے گا۔اس بینک کا کہنا ہے کہ بیرونی ممالک میں پڑا ہوا جرمن سونا واپس لانےکا پروگرام اس سال مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد جرمنی کے پاس موجود سونے کے مجموعی ذخائر کا نصف حصہ فرینکفرٹ میں مرکزی جرمن بینک کے تہ خانوں میں محفوظ ہو چکا ہو گا۔ اس خالص سونے کی جرمنی منتقلی کا سارا عمل انتہائی راز میں رکھا جاتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ جرمنی کے سونے کے مجموعی ذخائر تین ہزار تین سو اکیاسی ٹن پر مشتمل ہیں۔ جرمنی کا باقی سونا نیویارک اور لندن میں محفوظ ہے۔ جرمنی کے پاس سونے کی دو لاکھ ستّر ہزار سے زائد ڈلیاں ہیں اور یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا ذخیرہ ہے۔سرد جنگ کے دوران اس سونے کو بیرونِ ملک منتقل کر دیا گیا تھا، یہ سوچ کر کہ جرمنی کی بجائے یہ سونا نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک، لندن کے بینک آف انگلینڈ اور پریس کے بینک آف فرانس میں زیادہ محفوظ رہے گا۔جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے وقت تک صرف 77ٹن سونا ہی وفاقی جمہوریہٴ جرمنی کے اندر محفوظ تھا، جو کہ جرمنی کے مجموعی سونے کا محض دو فیصد بنتا تھا۔صرف جرمن ریاست ہی کے پاس اتنا زیادہ سونا نہیں ہے بلکہ جرمن شہری اپنی ذاتی حیثیت میں بھی سونے کے ایک بڑے ذخیرے کے مالک ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق عام جرمن شہریوں کے پاس 8672ٹن سونا ہے، جس کا نصف حصہ ڈلیوں اور سکّوں کی صورت میں ہے۔ تقریباً چار ہزار ٹن زیورات کی شکل میں ہے۔ گزشتہ سال ایک نجی یونیورسٹی کے محققین نے عام جرمن شہریوں کے پاس موجود سونے کی مالیت کا اندازہ 375ارب یورو لگایا تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
33%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved