اگر آپ کا بینک میں اکاؤ نٹ ہے ،تو یہ خبر پڑھ لیں
  11  فروری‬‮  2017     |      کاروبار
کراچی(روزنامہ اوصاف)نجی بینکوں نے کھاتے داروں کو مطلع کیے بغیر ہی 24 گھنٹے کے دوران ایک سے زائد اکاؤنٹس سے 50 ہزار روپے کی رقوم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی شروع کردی ہے جس سے کھاتے داروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔بینک کھاتوں سے ایک دن میں 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے تاہم نجی بینکوں نے ایک شناختی کارڈ پر کھولے جانے والے ایک سے زائد کھاتوں پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس کی شرط عائد کردی ہے۔ کھاتے داروں کی بڑی تعداد ودہولڈنگ ٹیکس کی لاگت کم کرنے کیلیے ایک دن میں 50ہزار سے زائد رقم کی حد میں رہتے ہوئے ایک سے زائد کھاتوں کا استعمال کررہے ہیں تاہم ایسے کھاتے داروں کو متعلقہ بینکوں کی جانب سے مطلع کیے بغیر ہی ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی جارہی ہے۔دوسری جانب متاثرہ کھاتے داروں کا کہنا ہے کہ بینکوں کی جانب سے 50 ہزار سے زائد کی رقم کے بجائے 24 گھنٹے میں نکالی جانے والی مجموعی رقوم پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جارہا ہے جو قانون کی غلط تشریح ہے اور ٹیکس کی رقم دونوں کھاتوں سے نصف نصف منہا کی جارہی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم پر عائد ہوناچاہیے تاہم بینک اضافی رقم کے بجائے مجموعی رقم پرودہولڈنگ ٹیکس عائد کررہے ہیں۔ متاثرہ کھاتے داروں کے مطابق بینکوں کی شاخوں پر اس ضمن میں کوئی ہدایت آویزاں نہیں کی گئیں اور نہ ہی ایس ایم ایس یا کھاتے داروں کو جاری کردہ مراسلے میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ایک شناختی کارڈ پر کھولے گئے تمام کھاتوں پر ایک دن میں 50 ہزار روپے نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔اس صورتحال سے زیادہ تر بینکوں سے یومیہ لین دین کرنے والے تاجر متاثر ہورہے ہیں جو ایک سے زائد کھاتوں میں رقوم وصول کرتے اور ادائیگیوں کیلیے بھی ایک سے زائد بینکوں کے اکاؤنٹس استعمال کررہے ہیں۔ متاثرہ تاجروں اور کھاتے داروں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی بینکوں کو پابند کیا جائے کہ کسی بھی کٹوتی کی پیشگی اطلاع کھاتے داروں کو بذریعہ ایس ایم ایس ارسال کی جائے اور ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے بینکوں کیخلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
53%
ٹھیک ہے
12%
کوئی رائے نہیں
7%
پسند ںہیں آئی
28%




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved