نوے کروڑ افراد رشوت دینے پر مجبور
  11  مارچ‬‮  2017     |      کاروبار
لندن(روزنامہ اوصاف)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ براعظم ایشیا کی ایک چوتھائی سے زائد آبادی بنیادی سہولیات تک رسائی کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہوچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2016 کے دوران بھارت اور ویتناپ میں رشوت ستانی عروج پر رہی جبکہ جاپان، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا میں رشوت لینے کا رجحام کم ترین ہے۔بدعنوانی پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم انجمن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان سے آسٹریلیا تک پھیلے ایشیا بحرالکاہل خطے کے 16 ممالک میں ایک سروے کیا جس میں شامل 20 ہزار سے زائد افراد کے سامنے بدعنوانی سے متعلق مختلف سوالات رکھے گئے۔ اس سروے کے نتائج سے اندازہ ہوا کہ گزشتہ 12 ماہ میں 90 کروڑ افراد سے 'چائے پانی' اور 'منہ میٹھا کروانے' کے نام پر رشوت لی گئی۔بھارت اور ویتنام تعلق رکھنے والے دو تہائی افراد نے اعتراف کیا کہ انہیں بنیادی تعلیم اور صحت عامہ کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے 'منہ میٹھا کرنے' کے لیے رشوت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ سروے کے مطابق سب سے زیادہ بدعنوانی پولیس کے محکمے میں پائی جاتی ہے جہاں رشوت کی لین دین بہت عام بات ہوچکی ہے۔ سروے میں شامل تین چوتھائی افراد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال پولیس افسران کو رشوت دی۔بڑھتی ہوئی بدعنوانی کا سب سے زیادہ اثر نچلے طبقے پر پڑ رہا ہے۔ ایک طرف تھائی لینڈ، بھارت اور پاکستان میں غریبوں سے رشوت طلب کرنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری جانب ویتنام، میانمار (برما) اور کمبوڈیا میں اس کے برعکس رجحان پایا جاتا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سربراہ جوز یوگاز کہتے ہیں کہ حکومتوں کو بدعنوانی ختم کرنے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ رشوت لینا کوئی چھوٹا موٹا جرم نہیں ہے کیوں کہ اس سے متاثرہ افراد کھانے پینے، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں جس کا نتیجہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔گزشتہ چند سالوں کے دوران کئی ایشیائی ممالک کی حکمران شخصیات کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ اس کی ایک مثال جنوبی کوریا کی صدر پارک جیون ہیں جنہیں ایک اسیکنڈل میں ملوث ہونے کے باعث دسمبر میں مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس سے قبل 2015 کے دوران ملائیشیا میں سامنے آنے والے ایک اسکینڈل میں عالمی تفتیش کاروں نے وزیراعظم نجیب رزاق پر کروڑوں کی خرد برد کا الزام عائد کیا تھا۔ بدعنوانی پر نظر رکھنے والے ایک ادارے کی رپورٹ میں کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن سین کے عزیز و اقارب کی دولت پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔بدعنوانی ختم کرنے میں سب سے موثر اقدامات چین میں اٹھائے گئے ہیں۔ اس ضمن میں 10 لاکھ سے زائد چینی افسران کو حوالات کے پیچھے دھکیلا جاچکا ہے جبکہ ویتنام میں بھی سابق کاروباری شخصیات کو بدعنوانی میں ملوث ہونے کے باعث قید کی سزا دی جاچکی ہے۔ تھائی لینڈ کی حکومت بھی بدعنوانی کے خلاف مہم جاری رکھی ہوئی ہے تاہم اس ضمن میں اب تک وہاں کوئی قابل ذکر پیش رفت نظر نہیں آئی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved